دادبیداد۔۔۔۔بادشاہ اور ملکہ۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

بادشاہ اور ملکہ سے مراد ایک ہی مملکت کے بادشاہ اور ملکہ نہیں بلکہ 6000سال پہلے ملک سبا کی کافر ملکہ اور 2019ء میں کسی بھی مسلمان ملک کا مسلمان بادشاہ مرادہے مقصد یہ ہے کہ دونوں کے فہم وفراست کا موازنہ کیا جائے اور قرآن پاک کی تعلیمات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے کہ قدیم زمانے کی ملکہ فہم وفراست میں بہتر درجے پر فائز تھی یا آج کے جدید دور کا بادشاہ فہم وفراست میں بہتر مقام پر فائز ہے موازنے سے پہلے ارگنائزیشن آف اسلامک کنٹیریز (OIC)کے اجلاس منعقدہ مکہ معظمہ کا اعلامیہ ایک بار پھر پڑھ لیں اس اعلامئیے کے اندر 4مقامات پر اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ ہم جنگ لڑنے کے لئے تیار ہیں ہم جنگ میں ایک دوسرے کی مدد کرینگے ہم جنگ میں ایک دوسرے کو اپنی فوج بھی دینگے اپنا اسلحہ بھی دینگے اور اپنی بھرپورحمایت سے بھی نواز ینگے اعلامیہ پڑھ کر ایسالگتا ہے کہ اجلاس کا مقصد ہی اعلان جنگ تھا قرآن پاک میں سور النّمل کے اندر ملک سبا کی ملکہ کا واقعہ آیا ہے سبا کا علاقہ مو جودہ یمن میں واقع تھا اور اس کی الگ حکومت تھی اس کی حدود قدرے مختلف تھیں حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندے کے ذریعے اس کو خط لکھا کہ سرکشی مت کرو کفر سے باز آجاؤ اور مسلمان ہوکر میرے دربار میں حاضر ہوجاؤ ملکہ سبا نے اپنے درباریوں اور وزیروں مشیروں کی مجلس منعقد کی خط کا متن ان کے سامنے رکھا اور ان کی رائے لی سلطنت کے عمائدین، وزیروں اور مشیروں نے کہا ہم طاقت میں کسی سے کم نہیں ہم جنگجو لوگ ہیں دلیری اور بہادری میں بے مثال ہیں ہم کبھی مطیع نہیں بنینگے ہم خط لکھنے والے کے خلاف بھر پور جنگ لڑ ینگے باقی آپ کی مرضی ہے آپ جو بھی فیصلہ کریں آپ کو اختیار حاصل ہے ملکہ سبا نے وزیروں، مشیروں کی باتیں سننے کے بعد کہا ”دیکھو بادشاہ جب کسی ملک پر لشکر کشی کریں تو فساد برپا ہوتا ہے اس فساد میں عزت والے لوگ بھی اپنی عزت کھو دیتے ہیں اگر جنگ ہوئی تو ایسا ہی ہوگا اس کے بعد ملکہ سبا نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں تحائف بھیجے پھر خود مسلمان ہوکر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی ملکہ سبا نے جنگ پر امن کو تر جیح دی وجہ یہ بتا ئی کہ جنگ سے عزت وا لوں کی عزت خا ک میں مل جا تی ہے قرآن پا ک میں وحی متلو کے طور پر ملکہ سباء کے الفاظ کا ذکر ہو نا اس امر کی دلیل ہے کہ یہ بات اللہ تعا لےٰ کو پسند آگئی اور اُس کا فیصلہ اللہ تعا لےٰ کو پسند آگیا اس واقعے اور قرآن پاک کی حکمت کو سامنے رکھ کر آج کے دور میں 30سے زیادہ مسلمان ملکوں کے باد شاہوں اور جمہوری یا فو جی حکمر انوں کے اجلاس اور اجلاس میں جنگ کے حق میں دیئے گئے فیصلوں پر غور کریں تو ملکۂ سبا کی فہم و فراست پر رشک آتا ہے وہ عورت ذات تھی جس کو عر بی میں نا قص العقل بھی کہا جا تا ہے وہ کا فر تھی آفتاب پر ست تھی مشرک تھی لیکن ان کی فہم و فراست کا اتنا بلند معیار تھا کہ ان کا فیصلہ اللہ تعا لےٰ کو پسند آگیا 2019ء میں اسلامی ملکوں کے حکمران اعلیٰ تعلیم یا فتہ ہیں، مر د ہیں، حکمت و دا نا ئی کے پیکر ہونے کا دعویٰ کر تے ہیں مگر ان کی فہم و فراست کا معیار یہ ہے کہ جنگ کو دعوت دیتے ہیں اور جنگ کے لئے ایک دوسرے کی مدد کا دم بھر تے ہیں آج کے باد شا ہوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ 6000سال پہلے پہلوانوں کا آپس میں مقا بلہ ہوتا تھا عورتوں اور بچوں پر حملے نہیں ہوتے تھے آج کل کی جنگ میں جنگجو لشکر کا پتہ نہیں ہوتا سکولوں، ہسپتالوں، بازاروں اور آبادیوں پر بمباری ہوتی ہے بے گنا اہ شہری فو جیوں کے مقا بلے میں زیادہ متاثر ہوتے ہیں عزت والے لو گوں کی عزتوں کو جان بوجھ کر پا مال کیا جا تا ہے اس کے باوجود آج کے مسلمان باد شاہ ہوں کو جنگ میں بہتری نظر آتی ہے امن میں بہتری نظر نہیں آتی یہ فہم و فراست کا فرق ہے 2019ء میں جنگ کی تباہ کاریاں زمانہ قدیم کے مقا بلے ہزار نہیں لاکھ گنا زیادہ ہیں ملکہ سباء کو جنگ کی تبا ہیوں کا اندا زہ تھا ہمارے حکمرانوں کو اس کا اندازہ نہیں ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ جنگ مسلمانوں کے خلاف لڑی جا رہی ہے اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کے اعلان کے لئے مکہ معظمہ جیسے پرا من شہر کا انتخاب کیا گیا فارسی دان نے کیا خوب کہا ”بایں عقل و دانش ببا ید گریست“

Print Friendly, PDF & Email