70

درویش کی دعا

شیخ سعد ی ؒ لکھتے ہیں کہ درویش جس کی دعا بارگاہ الہٰی میں قبول ہوتی تھی اچانک بغداد شہر میں آنکلا۔ لوگوں نے حجاج بن یوسف کو خبر کی تو حجاج نے درویش کو بلایا اور کہا کہ میرے لیے دعا کرو۔ درویش نے بلا تعمل ہاتھ اُٹھائے اور دعا کرنے لگا۔ درویش نے باآواز بلند کہا اے اللہ تو مہربان ہے۔ رحیم وکریم ہے۔ اپنی مخلوق پر رحم کر اور حجاج جیسے ظالم شخص کو موت سے ہمکنار کر۔
حجاج بن یوسف تڑپ اٹھا اور پکارا، یہ کیسی دعا ہے۔ درویش نے کہا تمہارے لیے اس سے بہتر دعا نہیں ہوسکتی۔ تیرے مرنے سے ہی مخلوق امن سے رہے گی اور تمہارے گناہوں میں مزید اضافہ نہ ہوگا۔ توکمزوروں کو ستاتا ہے۔ آخر ظلم کا یہ بازار کب تک گرم رہیگا۔ یاد رکھو یہ حکومت تیرے کسی کام نہ آئے گی۔ لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے تیرا مرجانا ہی بہتر ہے۔
شیخ سعدی ؒ حکمرانوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ لوگوں پر ظلم نہ کر و چونکہ ظلم کا دور ہمیشہ نہیں رہتا۔ جو حکمران ظلم کرے اُسکا مر جانا ہی اچھا ہے تاکہ لوگوں کو اُس کے ظلم سے نجات ملے۔
موجودہ دور میں حکمرانی اور عد ل کا طریقہ بدل چکا ہے اور عوام اپنے حکمرانوں کا چناؤ خود کرتے ہیں شاید یہی وجہ سے کہ ظلم و جبر کے باوجود کسی کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ عام لوگ اپنے حلقے کا ایک اسمبلی ممبرمنتخب کرتے ہیں جو عموماً کوئی سیاسی غنڈہ، نودولیتہ جاہل نوسر باز، سمگلر، منافع خور، قبضہ مافیا کا ممبر یا سرغنہ، پولیس یا پٹواری کا ٹاؤٹ یا پھر اسی قسم کی کوالیفکیشن کا حامل سیاستدان ہوتا ہے۔
یہ شخص اپنی حرام کی کمائی سے ملیں، فیکٹریاں یا وسیع کاروبار شروع کر تا ہے اور پھر کسی بڑی سیاسی جماعت میں شامل ہو کر سیاست کے کاروبار میں بھی انوسٹ کرتا ہے۔ ٹیکس چوری کرتا ہے۔ من مانی قیمت پر اپنا مال بیچتا ہے اور کارٹل بنا کر عوام کا خون چوستا ہے۔ زمینوں کی پیداوار آڑھتیوں کے ذریع اٹھوا لیتا ہے اور پھر پٹرو سی ممالک سے گھما پھرا کر واپس پانچ سو فیصد منافع پر عوام کو بیچتا ہے۔ بڑے اور نامور وکیل ہی نہیں بلکہ بیوروکریسی کا ہر پرزہ اس کی گریس سے چلتا ہے ورنہ جام ہو کر ناکارہ ہو جاتا ہے۔
عدلیہ کے ذریعے حکم امتناعی کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اپنے خلاف ہر طرح کے مقدمات پر جبر کا بھاری پتھر حسب ضرورت رکھ دیتا ہے اور بوقت ضرورت ججوں کو بھی خرید لیتا ہے جس کی کئی مثالیں عدلیہ کی تاریخ میں موجود ہیں۔
ایسے ہی لوگ ملکر ایک وزیر اعظم چنتے ہیں اور پھر سوکے قریب کاروباری لوگ حکومتی وزیر، مشیر اور مختلف کمیٹیوں اور اداروں کے چیئرمین بن کر عوام کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔ ہم نے ایک درویش سے پوچھا کہ وقت کاولّی کہاں ہے۔ کہنے لگے شہروں میں تو کوئی نہیں پہاڑوں میں ہوسکتا ہے مگر وہاں تک ہماری رسائی نہیں۔ وجہ پوچھی تو فرمایا کہ جب تک اللہ اور ولّی اللہ کی اجازت نہ ہو رسائی ممکن نہ نہیں ہوتی۔
عرض کیا:۔ حضور مخلوق مر رہی ہے۔ نہ عدل و انصاف ہے نہ امن وسکون ہے نہ کسی کی عزت و آبرو محفوظ ہے۔ آخر اس قوم کا کیا قصور ہے کہ ظلم و جبر کی چکی میں مسلسل پس رہی ہے۔
درویش نے کہا جب نادرشاہ کی فوجیں دلی میں داخل ہوئیں تو وہ لال قلعے کے سامنے ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔ نادر شاہ کے جرنیل اُس کے سامنے کھڑے ہو گئے اور پوچھا آقا کیا حکم ہے۔ نادرشاہ نے اوپر دیکھا اور صرف ایک لفظ بولا ” بزن ” کاٹ ڈالو۔ پھر چار دن تک دلی میں قتل عام ہوا۔ ہندو، مسلم،سکھ، عیسائی کی کوئی تمیز نہ رہی۔ ہر طرف لاشوں کے انبار لگ گئے اور جو سکت رکھتے تھے شہر چھوڑ کر بھاگ نکلے۔
نادر شاہ بدستور پتھر پر بیٹھا شاہدرہ کے گلابوں سے تیار کردہ خوشبودار گلقند کھاتا رہا اور مسکراتا رہا۔ چوتھے دن ایک ہندو جوگی نادرشاہ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا اور عرض کی۔ اے بادشاہ ہم پتھر پوجتے ہیں، دیوی، دیوتاؤں کو مانتے ہیں اگر تو خدائی کا دعویدار ہے تو ہم تجھے خدا ماننے کو تیار ہیں۔ اگر تجھے حسین عورتوں اور مال زر درکا ر ہے تو سارا ہندوستان تیرے سامنے ہے۔ تجھے جو کچھ چاہیے اٹھا لے ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ جب ہم سب کچھ کرنے کو تیار ہیں تو پھر ظلم نہ کراور مخلوق کی جان بخشی کر۔
نادرشاہ پتھر سے اٹھا اور کہا! اے پجاری میں خدا نہیں ہوں۔ انسان ہوں او رخدا کا نازل کردہ عذاب ہوں۔ تم نے اور تمہارے حکمرانوں نے خدا کو ناراض کیا، عدل و مساوات سے منہ موڑا، عورتوں سے حرم بھرے اور مال ودولت اکٹھا کیا۔ عش وعشرت میں پڑ گئے۔ اپنا امن و اتفاق بد امنی، بے چینی، بدکرداری، بے حیائی اور بداخلاقی میں بدل دیا۔ اللہ نے مجھے عذات کی صورت میں بھیجا جس کا انجام تلوار ہے۔
دوستو:۔ ذرا غور کرو۔ ہم جس ماحول میں جی رہے ہیں وہ محمد شاہ کے دور جیسا ہی ہے۔ نہ عدل و انصاف ہے نہ کسی کی عزت وآبرو محفوظ ہے۔ عوام کی حیثیت رعایا سے بدتر ہے۔ تھانے اور پٹوار خانے کی حکمرانی ہے۔ تعلیم، صحت، عزت وآزادی اخباروں اور میڈیا چینلوں تک محدود ہے۔ ایک طرف کھرب پتی طبقہ ہے اور دوسری طرف مجبور، محکوم اور مایوس لوگوں کا سمندر ہے۔ عدل کے ایوانوں تک کسی کی رسائی نہیں اور حاکم وقت تک شنوائی نہیں۔ ہر ادارے میں مخصوص کارٹل ہیں جنہیں قانونی حیثیت حاصل ہے۔
ایک طرف عیار مودی ہے اور دوسری طرف اُس کا مد د گار اشرف غنی ہے۔ مریم نواز خاموشی سے کھیل رہی ہے اور بلاول بے وقت بانگیں دے رہا ہے۔ حکمران وزیروں، مشیروں اور کچھ سیاسی اور کاروباری مہروں کے حصار میں ہے۔
سلیم صافی نامی دانشور کہہ رہا ہے کہ اُسے کسی خان وان سے ڈر نہیں لگتا چونکہ اُس کی ماں زندہ ہے او رمسلسل دعائیں کر رہی ہے۔ سلیم صافی حامد کرزئی کا دوست ہے اور اشرف غنی کے لیے بھی دعا گو رہتا ہے۔ میاں نواز شریف کی ماں نے مودی کو دعا دی تھی جو قبول ہوگئی۔ ایسے ہی جنرل ضیاء الحق کی دعاؤں سے میاں خاندان تیس سالوں سے کسی نہ کسی طرح اقتدار میں ہے۔ ایوب خان نے بھٹو صاحب کو دعائیں دیں جس کا اثر بلاول تک قائم ہے۔ دعائیں تو حجاج بن یوسف کی ماں بھی کرتی تھی کہ یا اللہ اسے موت دے کر زندگی کے عذاب سے نجات دلا۔ دولت اور حکومت کچھ کام نہ آئی حجاج کوڑھ کے مرض میں مبتلا ہوا۔ جسم میں کیڑے پڑ گئے۔ بدبو آنے لگی تو گھروالوں نے اٹھا کر غلاظت کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ ماں دیکھنے گئی تو پکارا اُٹھا۔ کہا میں نے مروان، صفوان، سلیمان اور مالک جن کے لیے میں نے خون کی ندیاں بہائیں۔کہاں ہیں بنی اُمیہ کے حکمران میں جن کی آنکھوں کا تار اتھا۔ ماں تیری دعائیں بے اثر ہیں جا اور حسن بصری ؓسے دعا کی گزارش کر کہ میری جان نکل جائے۔ ماں نے گزارش کی اور حجاج کی موت واقع ہوگئی۔ یاد رکھو مخلوق پر ظلم کرنیوالوں کے ساتھیوں پر ہمیشہ عذاب الہٰی نازل ہوا ہے۔ لاکھوں انسانوں کے قاتل مودی اوراس کے افغان دوست جن میں بیشتر سلیم صافی کے بھی دوست ہیں کسی دعا کے مستحق نہیں چاہے وہ صحافی کی ماں ہو یا کسی خان وان کی ہو۔جسے خدا کا ڈر نہیں اسکی ماں کی دعائیں بھی بے اثر ہوتی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں