99

وفاقی حکومت کی طرف سے صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی سلو ک اور اس کو ملنے والی فنڈز کو 140ارب روپے سے گھٹاکر 113ارب روپے کرنے کی وجہ سے وسائل کی کمی کا شکار ہے عمران خان

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی سلو ک اور اس کو ملنے والی فنڈز کو 140ارب روپے سے گھٹاکر 113ارب روپے کرنے کی وجہ سے وسائل کی کمی کا شکار ہے اور چترال میں گزشتہ سال سیلاب تباہ کاریوں کی بحالی تن تنہا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے جس کے لئے ڈونر ایجنسیوں سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لئے بہت جلد ہی اسلام آباد میں ایک ڈونر ز کانفرنس طلب کیا جائے گا۔ بدھ کے روز چترال کے دوروزہ دورے پر آنے کے بعد ڈی۔ سی آفس میں سیلاب سے متاثر انفراسٹرکچروں سے متعلق ڈپٹی کمشنر چترال سے بریفنگ لینے کے بعد انہوں نے کہاکہ چترال میں سیلاب زدہ انفراسٹرکچروں کی بحالی کے لئے 16ارب روپے کی خطیر رقم کی ضرورت ہے جوکہ صوبائی حکومت کی پہنچ سے باہر ہے جبکہ صوبائی حکومت اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے متاثرہ انفراسٹرکچروں کی بحالی کا کام پہلے سے بحال کرنے میں مصروف ہے ۔ انہوں 13501917_10154298499613648_4167502526998833948_nنے وفاقی حکومت کی طرف سے ضلعے کے اندر تین سڑکوں کی تعمیر میں وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈنگ کے ذکرپر عمران خان نے کہاکہ نوازشریف اگر اپنے وعدوں کو پورا کررہے ہوتے تو پاکستان کا نقشہ ہی بدل جاتا لیکن جھوٹے وعدے کرنا ان کی مجبوری اور عادت ثانیہ بن چکی ہے اور چترال میں سڑکوں کی تعمیر محض وعدے ہیں۔ اس سے قبل ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ، ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ احمد وڑائچ اور ایم پی اے سلیم خان نے انہیں گزشتہ سال سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچروں کی تفصیل بتادی۔ انہیں بتایاکہ اس سال بھی موسم گرما کے آغازہی میں سیلاب کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور ارسون ، عشریت ، بریپ سمیت دوسرے علاقوں میں سیلاب نے کئی گھرانوں کو بے گھر کردیا ہے اور سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچادیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں