مضامین
موضوع نو……. کھوار زبان اوراس کی ادبی تنظیمیں




نانئے نانئےاف ہیرا کا گویا نانو ژانئے انو پژال نوا
ترقی کی خوابیں دیکھنا چاہیئے ۔)اس کے علاوہ بہت لوک ادب میں بے شمار قصے موجود ہیں جن کا ایک ایک کر کے نام لینا مشکل ہے البتہ اُن میں لوک ژور و،نان دوشی ،پھستوک ،نوہتک ،ہوپ گئے وغیرہ گیت موجود ہیں ۔ان تمام لوگ گیتوں پر آنےوالے مقالےمیں ایک ایک کرکےتفصیل کے ساتھ بحث کرینگے۔
"انگریستانو” کو "ناول ” قرارا دینے والاپہلا شحص ہوں البتہ مصنف نے مجھ پر اعتماد نہ کرتے ہوئے،تو دیگرسے رابطہ کیا توانکی زبانی بھی ” ناول” نام سننے کے بعد مجھ پر بھی اس کا بھروسہ بڑھ گیا ۔ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اس کتاب میں مصنف نے پورے چترال کا شکریہ ادا کرکے صرف میرا اور ممتاز حسین صاحب کا نام نہیں لیا ہے ،بہر حا ل ہم اس کی خدمات کو سلام پیش کررہے ہیں کیونکہ ہم اس کے دل میں بس رہے ہیں )ناول کو پذیرائی نہ ملنے کی اصل وجہ یہی ہو گی کہ مصنف کارابطہ کسی حاص تنظیم کے ساتھ ہو گا ۔ اسی بنأ پر اس کو اہمیت نہیں ملی یا اس کے چھاپنے کے سلسلے میں کسی ادبی تنظیم نے مدد کی ہوگی ۔ا س لئے وہ کتاب شائع ہونے کے تین مہینے بعد بھی اسکی تقریب رونمائی کے لئے کسی بھی ادبی تنظیم نےدلچسپی ظاہر نہیں کی، ا سے ہم ا ندازاہ لگا سکتے ہیں کہ ہر ایک کو ڈیڑھ انچ کی مسجد الگ تعمیر کرنےسے کس قسم کے نقصانات کا سامنا ہوا۔اس سے مصنف کو کتنی ذہنی کوفتگی پہنچ چُکی ہوگی ۔یہ الگ بات ہے کہ ظفر اﷲ پروازاز صاحب ایک مظبوط اعصاب کا مالک شخص ہے ،چترال میں پذیرائی نہ ملنے کے بعد کچھ کتابیں ساتھ لے کر پشاور پہنچ چکا ہے اور دبئی تک جانے کا ارادہ ہے ۔سننےمیں آیا ہے کہ ان دنوں "انجمن ترقی کہوار حلقہ پشاور نے نئی کابینہ کے حلف برداری کے موقع پر "انگریستانو "کی تقریب رونمائی کو شامل کرنےکا احسن فیصلہ کرکے اپنا حق ادا کیا ہے۔ اسی کتاب کو منظرعام پر لانے میں جاوید اقبال صاحب کا ذکر نہ کرنا اس کے ساتھ زیادتی ہوگی کیونکہ اس نے دن رات ایک کر کے زبان و بیان کی درستگی سے لے کر کمپوزنگ اور ڈیزائین ترتیب دینے تک اس کا خون پسینہ شامل ہے۔اصل میں جاوید صاحب زبان و ثقافت دوست انسان ہے ، اسی کتاب کے اندر ہماری ثقافت محفوظ ہے مصنف جس پُرکاری اور فنی محاسن کا خیال رکھتے ہوئے ، ہماری ثقافت کی عکاسی کی ہےاس سے ہمیں قدیم زمانے کے رہن سہن ،بودوباش ،رسوم ورواج ،غمی خوشی ،ہمدردی ،علاج معالجہ ،توہمات وغیرہ یعنی قدیم دورکے باشندوں کے سفری اور دیگر مُشکلات کے بارے میں آگاہی ملتی ہے ۔اگر اسے اردو کے اعلے ناول کےساتھ موازنہ کیا جائے تواردو کے کسی اچھے ناول کا ہم پلہ ا قرار دے سکتے ہیں ۔ ناول کی دوسری خوبی یہ ہے اس میں کھوارزبان کے قدیم الفاظ محفوظ ہو چکےہیں ۔جن کے بارے ہمارے بزرگ بھی ناواقف دیکھائی دے رہے ہیں ۔میں ایک لفظ کی وضاحت کر کے آگے بڑھوں گا لفظ "انگریستانو”کہوار زبان کا لفظ اور پرواز صاحب کے ناول کا نام ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس زمانے میں ماچس یا آگ جلانے کا کوئی جدید نظام نہیں تھا ۔لہذاایک کامیاب سلیقہ مند عورت رات کو سوتے وقت اپنی انگھیٹی میں ایک ادھ جلی ہوئی لکڑی کو راکھ کے اندر رکھ دیتی ہے۔ پوری رات راکھ کے بیچ میں سےدھواں اٹھتی رہتی ہے اور صبح سویر ےوہ عورت پھونک مارکر آگ جلاتی ہے۔ دوسری طرف بے سلیقہ عورت کو کہوارزبان میں ” وے انگریستانو”کہتے ہیں یعنی اس نے انتظام کئے بے غیر سو گئی ہو گی ، اس وجہ سے وہ عورت دوسروں کے گھر صبح سویرے انگاروں کی تلاش میں نکل کر پڑوسیوں کا دروازہ کھٹکٹائے گی ۔تو لہذا ادھ جلی ہوئی لکڑی جس کو رات گئے خاکستر میں دبا کر اگلے دن کیلئے آگ کا ساماں کیا جاتاہےکو کہوار زبان میں "انگریستانو”کہتے ہیں ۔اب اس قسم کے بے شمار الفاظ جو آج کل متروک یا انگریزی زدہ ہو چکے ہیں انکی تلاش میں ہمیں بڑا فائدہ ملےگا ،تاکہ ہم اپنی زبان میں بے جا اجنبی الفاظ کو شامل ہونے سے روک سکے ۔لہذا ہمیں چاہئے تھا کہ ہمارے پاس انجمن ،وسائل ، سرپرست ،لائیبری ،ہال اور دیگر سہولیات دستیاب ہوتے، تو آج ہم اس قسم کی کاوشوں اور شاہکارپر کئی نشستوں ،سیمینارزاور ورکشاپس کے ذریعے نوجوان نسل کوآگاہی دے دیتے۔ آج کل چترال کے ادیب اور مصنفین ایک فعال ادبی تنظیم نہ ہونے کی وجہ سے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبورہو چکے ہیں۔کل ایک معتبر شحصیت نے مجھے فون کر کے پوچھا کہ کچھ نوجوان میرے پاس آئے ہیں، کہوار کے انجمن کے دفتر کا پتہ پوچھ رہے ہیں وہ کہوار کے تمام "شلوغ "قصے کہانیوں کو انگریزی میں ترجمہ کرنا چاہتے ہیں ۔مجھے بہت افسوس ہوا کہ آج کا نوجوان اسی انجمنستان میں انجمن کے دفتروں کا پتہ پوچھ رہے ہیں ۔معلوم نہیں، کیا وہ دفتر تک پہنچ گئے کہ نہیں ؟پہنچنے کے بعد انکو کوئی ملا کہ نہیں؟ ملنے کے بعدجوانوں کو حوصلہ ملا ہے کہ نہیں ؟ لہذا ہمیں انجمنوں کے دفترو ںکو ضم کرنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ قدیم دور میں انجمنیں نہیں تھے لیکن کہوار کے اعلے پائے کے شعرأ پیدا ہو ئے آج کل انجمینوں کی بھر مار ہے لیکن ادبأ،شعرااور کُتب بین ٔ پیدا نہیں ہو رہے ہیں ۔لہذا ہم سب کو مل کر ا”انجمن ترقی کہوار "کو کو فعال بنانے کی ضرورت ہے ۔کہوار زبان بولنے والے سب اس کےممبر ہونے کا حق رکھتے ہیں,کسی کو کوئی بھی ممبر شب سے نہیں روک سکتے ہیں لہذا ادیبوں ،لکھاریوں ،شعرأ،کتب بینوں اور مقرروں پر مشتمل افراد کو مستقل ممبر شب دی جائے باقی تما م کہوار زبان بولنے والے افراد کو غیر مستقل رُکن کے طور پر انکوتسلیم کریں اور ان سے چندہ بھی وصول کریں اور دفتر کا پتہ بھی جلی خروف کے ساتھ لکھنے کی اشد ضرورت ہے۔اس طرح ہم اپنے انجمن کو ایک منافع بخش ادارہ بھی بنا سکتے ہیں اورہم اپنی زبان وثقافت کی تحفظ کے ساتھ ساتھ دیگر فلاحی کاموں میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔ قومی و بین الا قوامی سطح پر اپنی زبان اور شناخت کو قائم رکھنے کے قابل ہو کر ،اپنے آپ کو موجودہ دور کےساتھ مقابلہ کرنے کا اہل بنا سکے۔