احیاء العلوم سے کیمیائے سعادت تک……….تحریر۔مبشرالملک

کتاب۔۔۔ ابو الفریب ۔۔۔ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے میرے ہاتھ کیماے سعادت کا نسخہ لگا تو میرے والد مجھے یاد اگیے۔میرے والدِ مرحوم شہزادہ فخر—اللہ ان کے درجات بلند فرمائے—جو ادبی دنیا کے درخشاں ستاروں، حافظ شیرازی، عمر خیام، مولانا روم، فرزدق؛ اردو ادب کے میر، ذوق، غالب، بہادر شاہ ظفر، اقبال کے پرستار تھے۔ اسی طرح فتوحاتِ عالم کے باب میں چنگیز، تیمور، صلاح الدین ایوبی، حضرت خالدؓ، رستم و سہراب؛ تو تیسری جانب اسلامی مآخذ میں قرآن، تراجم و تفاسیر، احادیث کے علاوہ امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام شافعی، امام مالک، امام الغزالی، امام ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ، مجدد الف ثانی، شیخ الہند، مولانا مودودی اور مولانا مستجاب ایون کے بڑے معتقد رہے۔
رات کی محفلوں اور نشستوں میں ان ہستیوں میں سے کوئی نہ کوئی ان کا موضوعِ سخن رہتا۔ اور ورثے میں جو کچھ اس علمی تالاب سے قطروں کی صورت ان کی اولاد کے حصے میں آی، وہ انہی روشن ستاروں کی تعلیمات اور ان کے کتب ہی ہیں ۔
امام غزالیؒ نے جب “احیاء العلوم” تحریر کی—دل اور روح کی دنیا آباد کرنے کے لیے—تو وہ ایک نہایت دقیق اور مشکل کتاب تھی۔ علما کے علاوہ کم ہی اہلِ علم اس سے براہِ راست استفادہ کر سکتے تھے۔ چنانچہ اسے عام فہم بنانے کے لیے انہوں نے “کیمیائے سعادت” کے نام سے فارسی میں ایک آسان قالب عطا کیا۔ یہ دونوں کتب تصوف کی دنیا میں بلند مقام رکھتی ہیں، اور امام الغزالی اپنے علمی مرتبے کے لحاظ سے “حجۃ الاسلام” کہلاتے ہیں۔ مگر دین سے شغف رکھنے والے مجھ جیسے ایک حقیر طالبِ علم کے لیے—اگر دین بطور نظامِ زندگی سمجھنا ہو—تو سوال یہ ہے کہ وہ دل و دماغ کہاں سے لائے جائیں جو ان مشکل کتب کے فہم کے لیے درکار ہیں؟ ایک عام مسافر کو شاہراہِ دین پر ڈالنے کے لیے اس دور میں ایک عجیب تشنگی محسوس ہوتی ہے۔
امام ابو حامد الغزالیؒ کی شہرۂ آفاق تصانیف “احیاء علوم الدین” اور “کیمیائے سعادت” کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک ایسا فکری و روحانی سفر سامنے آتا ہے جو انسان کو محض علم سے آگے لے جا کر عمل، اخلاص اور معرفت کی منزلوں تک پہنچانا چاہتا ہے۔
“احیاء علوم الدین” دراصل دین کے مردہ پڑتے ہوئے باطن کو زندہ کرنے کی ایک عظیم کوشش ہے۔ امام غزالیؒ نے اس میں عبادات کی ظاہری صورت کے ساتھ ان کی روح پر زور دیا، اخلاقی بیماریوں کی جڑوں کو کاٹا، اور انسان کے اندر چھپی خودغرضی، ریا، حسد اور تکبر جیسی مہلک بیماریوں کی نشاندہی کی۔ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ نماز صرف حرکات کا نام نہیں، روزہ صرف بھوک کا تجربہ نہیں، بلکہ یہ سب دل کی کیفیتوں کا نام ہیں۔ گویا یہ کتاب ایک آئینہ ہے جس میں انسان اپنی باطنی حالت دیکھ سکتا ہے—مگر یہی اس کی دشواری بھی ہے، کہ ہر شخص اس آئینے کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔
اسی لیے “کیمیائے سعادت” سامنے آتی ہے—گویا اسی نور کو ایک نرم روشنی میں پیش کرنے کے لیے۔ فارسی زبان میں لکھی گئی یہ کتاب عام قاری کے لیے ایک روحانی رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں امام غزالیؒ انسان کو چار بنیادی پہچانوں کی طرف لے جاتے ہیں: خود کو پہچانو، خدا کو پہچانو، دنیا کی حقیقت کو سمجھو، اور آخرت کی تیاری کرو۔ اسلوب سادہ ہے مگر اثر گہرا۔ یہ کتاب ایک عام آدمی کو بھی دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے مقصد پر غور کرے اور دل کی اصلاح کی طرف قدم بڑھائے۔
دونوں کتابوں کا باہمی تعلق یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ “احیاء العلوم” ایک سمندر ہے اور “کیمیائے سعادت” اس کا میٹھا چشمہ۔ ایک میں گہرائی ہے، دوسری میں رسائی۔ ایک علما کے لیے چیلنج ہے، دوسری عوام کے لیے رہنمائی۔
مگر ایک سوال یہاں جنم لیتا ہے:
ایک اسلامی خلافت اور ایسی ریاست، جس کے بنیادی قوانین قرآن و سنت کے ماتحت ہوں—اس تناظر میں کی گیں یہ روحانی تعلیمات یقیناً انسان کی باطنی و روحانی اصلاح کے لیے کافی و شافی تھیں۔
مگر ۔
مگرآج کے دور میں، جب ساٹھ کے قریب نام نہاد اسلامی ممالک موجود ہیں، اسلام کی حقیقی احیاء کے لیے—معذرت کے ساتھ— صرف ۔۔۔ تصوف ۔۔۔تنہا نہ کافی معلوم ہوتی ہے اور نہ ہی شافی۔
طالب دعا۔حقیرو فقیر
تحریر۔مبشرالملک
میرے والدِ مرحوم شہزادہ فخر—اللہ ان کے درجات بلند فرمائے—جو ادبی دنیا کے درخشاں ستاروں، حافظ شیرازی، عمر خیام، مولانا روم، فرزدق؛ اور اردو ادب کے میر، ذوق، غالب، بہادر شاہ ظفر، اقبال کے پرستار تھے۔ اسی طرح فتوحاتِ عالم کے باب میں چنگیز، تیمور، صلاح الدین ایوبی، حضرت خالدؓ، رستم و سہراب؛ تو تیسری جانب اسلامی مآخذ میں قرآن، تراجم و تفاسیر، احادیث کے علاوہ امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام شافعی، امام مالک، امام الغزالی، امام ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ، مجدد الف ثانی، شیخ الہند، مولانا مودودی اور مولانا مستجاب ایون کے بڑے معتقد رہے۔
رات کی محفلوں اور نشستوں میں ان ہستیوں میں سے کوئی نہ کوئی ان کا موضوعِ سخن رہتا۔ اور ورثے میں جو کچھ اس علمی تالاب سے قطروں کی صورت ان کی اولاد کے حصے میں آی، وہ انہی روشن ستاروں کیتعلیمات اور ان کی کتب ہی ہیں ۔
امام غزالیؒ نے جب “احیاء العلوم” تحریر کی—دل اور روح کی دنیا آباد کرنے کے لیے—تو وہ ایک نہایت دقیق اور مشکل کتاب تھی۔ علما کے علاوہ کم ہی اہلِ علم اس سے براہِ راست استفادہ کر سکتے تھے۔ چنانچہ اسے عام فہم بنانے کے لیے انہوں نے “کیمیائے سعادت” کے نام سے فارسی میں ایک آسان قالب عطا کیا۔ یہ دونوں کتب تصوف کی دنیا میں بلند مقام رکھتی ہیں، اور امام الغزالی اپنے علمی مرتبے کے لحاظ سے “حجۃ الاسلام” کہلاتے ہیں۔ مگر دین سے شغف رکھنے والے مجھ جیسے ایک حقیر طالبِ علم کے لیے—اگر دین بطور نظامِ زندگی سمجھنا ہو—تو سوال یہ ہے کہ وہ دل و دماغ کہاں سے لائے جائیں جو ان مشکل کتب کے فہم کے لیے درکار ہیں؟ ایک عام مسافر کو شاہراہِ دین پر ڈالنے کے لیے اس دور میں ایک عجیب تشنگی محسوس ہوتی ہے۔
امام ابو حامد الغزالیؒ کی شہرۂ آفاق تصانیف “احیاء علوم الدین” اور “کیمیائے سعادت” کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک ایسا فکری و روحانی سفر سامنے آتا ہے جو انسان کو محض علم سے آگے لے جا کر عمل، اخلاص اور معرفت کی منزلوں تک پہنچانا چاہتا ہے۔
“احیاء علوم الدین” دراصل دین کے مردہ پڑتے ہوئے باطن کو زندہ کرنے کی ایک عظیم کوشش ہے۔ امام غزالیؒ نے اس میں عبادات کی ظاہری صورت کے ساتھ ان کی روح پر زور دیا، اخلاقی بیماریوں کی جڑوں کو کاٹا، اور انسان کے اندر چھپی خودغرضی، ریا، حسد اور تکبر جیسی مہلک بیماریوں کی نشاندہی کی۔ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ نماز صرف حرکات کا نام نہیں، روزہ صرف بھوک کا تجربہ نہیں، بلکہ یہ سب دل کی کیفیتوں کا نام ہیں۔ گویا یہ کتاب ایک آئینہ ہے جس میں انسان اپنی باطنی حالت دیکھ سکتا ہے—مگر یہی اس کی دشواری بھی ہے، کہ ہر شخص اس آئینے کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔
اسی لیے “کیمیائے سعادت” سامنے آتی ہے—گویا اسی نور کو ایک نرم روشنی میں پیش کرنے کے لیے۔ فارسی زبان میں لکھی گئی یہ کتاب عام قاری کے لیے ایک روحانی رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں امام غزالیؒ انسان کو چار بنیادی پہچانوں کی طرف لے جاتے ہیں: خود کو پہچانو، خدا کو پہچانو، دنیا کی حقیقت کو سمجھو، اور آخرت کی تیاری کرو۔ اسلوب سادہ ہے مگر اثر گہرا۔ یہ کتاب ایک عام آدمی کو بھی دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے مقصد پر غور کرے اور دل کی اصلاح کی طرف قدم بڑھائے۔
دونوں کتابوں کا باہمی تعلق یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ “احیاء العلوم” ایک سمندر ہے اور “کیمیائے سعادت” اس کا میٹھا چشمہ۔ ایک میں گہرائی ہے، دوسری میں رسائی۔ ایک علما کے لیے چیلنج ہے، دوسری عوام کے لیے رہنمائی۔
مگر ایک سوال یہاں جنم لیتا ہے:
ایک اسلامی خلافت اور ایسی ریاست، جس کے بنیادی قوانین قرآن و سنت کے ماتحت ہوں—اس تناظر میں کی یہ روحانی تعلیمات یقیناً انسان کی باطنی و روحانی اصلاح کے لیے کافی و شافی تھیں۔
مگر آج کے دور میں، جب ساٹھ کے قریب نام نہاد اسلامی ممالک موجود ہیں، اسلام کی حقیقی احیاء کے لیے—معذرت کے ساتھ— صرف ۔۔۔ تصوف ۔۔۔تنہا نہ کافی معلوم ہوتی ہے اور نہ ہی شافی۔
طالب دعا۔حقیرو فقیر



