تازہ ترین
چترال میں 68فیصد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں،آواز ڈسٹرکٹ فورم کے ایک غیر معمولی اجلاس


ہیں ۔ اور بعض اوقات اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوتی ہیں ،یہاں تک کہ نوبت خود کُشی تک پہنچ جاتی ہے ۔ سیپ کی طرف سے آواز ڈسٹرکٹ فورم کو دیے جانے والے پریزنٹیشن میں ضلع سے باہر شادی کو بھی ایک سنگین مسئلہ قرار دیا گیا ۔ جس کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہوئے ہیں ،اور سروے رپورٹ کے مطابق ضلع سے باہر شادی کا تناسب کل آبادی کا چھ فیصد ہے ۔ اس موقع پر کو آرڈنیٹر سیپ محمد اسماعیل نے کہا ۔ کہ آواز پروگرام کے تحت چترال کے ایک سو دیہات میں امن بیٹھک کئے گئے ۔ جس میں خواتین کو اُن کے حقوق بارے میں آگہی اور قوانین کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں ۔ جبکہ دو سو میل فمیل یوتھ پر مشتمل یوتھ گروپ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے ۔ جو امن کے سفیر کے طور پر معاشرے میں باہمی محبت و احترام کو فروغ دینے کیلئے کام کریں گے ۔ اجلاس میں ہیومن رائٹس فاونڈیشن کے چیرمین نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے کہا ۔ کہ اُن کے پا س دستیاب ریکارڈ کے مطابق چترال میں گذشتہ چھ سالوں کے دوران 200سے زیادہ جوانسال خواتین نے خود کُشی کی جبکہ 45خواتین کو بچا لیا گیا ۔ ان تمام کو خود کُشی قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ لیکن پولیس مقامی لوگوں کے عدم تعاون یا اُن کے کہنے پر ایسے تمام واقعات کو خودکُشی قرار دے کر فائل بند کردیتی ہے ۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ پروگرام آفیسر آواز روبینہ صدرآواز ڈسٹرکٹ فورم قاضی سجاد ایڈوکیٹ ، ممبر ڈسٹرکٹ کونسل چترال رحمت الہی ، ثانیہ سردار ایڈوکیٹ ، شہزادی گلفام ،نابیگ ایڈوکیٹ ، محمد عظم بیگ ایڈوکیٹ ، سرور کمال ایڈوکیٹ اور خاتون کونسلر نورجہان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔