فوکس ہیومینیٹیرین اسسٹنس پاکستان چترال اورریجنل انٹیگریٹڈ ملٹی ہیزرڈ ارلی وارننگ سسٹم (RIMES) کے باہمی اشتراک سے "ارلی ایکشن پلان (EAP)”کے موضوع پریک روزہ ورکشاپ

چترال(ڈیلی چترال نیوز) فوکس ہیومینیٹیرین اسسٹنس پاکستان چترال اورریجنل انٹیگریٹڈ ملٹی ہیزرڈ ارلی وارننگ سسٹم (RIMES) کے باہمی اشتراک سے "ارلی ایکشن پلان (EAP)”کے موضوع پرایک روزہ ورکشاپ چترال کے مقامی ہوٹل میں منعقدہوئی۔ ورکشاپ میں سرکاری اورغیرسرکاری اداروں کے نمائندے اور کمیونٹی تنظیموں کے خواتین وحضرات نے کثیرتعداد میں شرکت کی ۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ماہرِ ماحولیات محمد اسماعیل، کنٹری ڈائریکٹر عمبرین مسعود، ریجنل پروگرام منیجر فوکس ولی محمد، جاوید احمد، اویز احمد، امان اللہ اور دیگر مقررین نے کہا کہ فلیش فلڈ جیسے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر بروقت تیاری اور مؤثر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث غیر متوقع بارشوں اور سیلابی صورتحال میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے بالخصوص پہاڑی علاقوں میں انسانی جانوں اور املاک کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ مقررین کے مطابق ارلی ایکشن پلان (EAP) جیسے اقدامات کے ذریعے نہ صرف نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ مقامی سطح پر کمیونٹی کو بھی باخبر اور مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید زور دیا کہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری، جدید وارننگ سسٹمز کا استعمال اور کمیونٹی کی شمولیت ہی کسی بھی قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے کامیابی کی ضمانت ہے، جبکہ عوامی آگاہی اور تربیتی پروگرامز کے ذریعے لوگوں کو ہنگامی حالات میں درست ردعمل دینے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔
ورکشاپ میں پروگرام سہولت کاروں نے اس بات پر زور دیا کہ چترال جیسے حساس اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ علاقوں میں بروقت وارننگ سسٹم اور مؤثر تیاری نہایت ضروری ہے تاکہ ممکنہ جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔تقریب کے دوران "ارلی ایکشن پلان (EAP)” کے تحت سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وضع کیے گئے طریقہ کار (Standard Operating Procedures) کا جائزہ لیا گیا اور انہیں مزید بہتر اور قابلِ عمل بنانے کے لیے تجاویز پیش کی گئیں۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مقامی سطح پر مربوط حکمت عملی اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے ہنگامی صورتحال میں بروقت ردعمل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ورکشاپ کا بنیادی مقصد فلیش فلڈ کے حوالے سے ابتدائی وارننگ سسٹم اور تیاریوں کے منصوبے کی توثیق کرنا تھا، تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ آفت سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ماہرین کے مطابق اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط بناتی ہیں بلکہ ایک پیشگی حکمت عملی کو فروغ دیتی ہیں، جو کسی بھی قدرتی آفت کے اثرات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے اور مستقبل میں ایسے اقدامات کے ذریعے علاقے کو قدرتی آفات کے اثرات سے محفوظ بنانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔









