تازہ ترین
چترال میں برف میں پھنسے مسافروں کیلئے امدادی سر گرمیاں جمعہ کے روز بھی جاری رہیں۔


اور ضلعے کے 36وادیاں ایک دوسرے سے مکمل طور پر کٹ چکے تھے ۔ انجینئر مقبول اعظم نے میڈیا کے استفسار پر بتایا کہ محکمے کے پاس مشینری کی کمی کے باوجود بھی بہت ہی قلیل عرصے میں اکثر سڑکوں کو ٹریفک کے لئے بحال کردیا گیا جس کے لئے مقامی طور پر ٹریکٹر کا
استعمال کیا گیا جوکہ برف ہٹانے میں کارگرثابت ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ شوغور سے گرم چشمہ تک سڑک میں متعدد جگہوں پر ایک سے لے کر دو کلومیٹر تک طویل برفانی تودے گرگئے ہیں جن کی صفائی میں کم از کم دوہفتے لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ لاسپور ویلی روڈ میں بھی برفانی تودے ذیادہ مقدار میں گرنے کی وجہ سے ابھی تک نہیں کھولا جاسکا ہے جس پر کام جاری ہے۔