تازہ ترین
ضلع کونسل چترال نے واں مالی سال کا 4ارب69کروڑ15لاکھ 37ہزار روپے کا نظر ثانی شدہ بجٹ تخمینہ پاس کردیا


سیکٹورل پراجیکٹ لانے کی کوشش کی لیکن صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی سردمہری کی وجہ سے یہ منظور تو نہیں ہوسکی لیکن چترال گروتھ اسٹریٹیجی کے نام سے جو مستند دستاویز تیار کیا ہے جسے کسی بھی ڈونر کو پیش کیاجاسکتا ہے۔ ضلع ناظم نے اپر چترال کو الگ ضلعے کی حیثیت اختیار کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہارکیاکہ قدرتی وسائل سے بھر پور اس ضلعے کو پاکستان کے ماڈل اضلاع میں شامل کیا جائے گا ۔ بجٹ پر بحث میں الحاج رحمت غازی، مولانا عبدالرحمن، عبدالقیوم، رحمت الٰہی، شیر عزیز بیگ، یعقوب خان، مولانا جاوید حسین، حصول بیگم ، مفتی محمود الحسن، شیر محمد شیشی کوہ، شیر محمد ارندو ، مولانا جاوید حسین اور دوسروں نے حصہ لیا۔ اس سے قبل تحصیل ناظم مستوج مولانا محمد یوسف نے ضلع کونسل کی بجٹ اجلاس کے لئے اپر چترال آنے پر ضلع ناظم اور ان کے ساتھ آنے والے ارکان کونسل کا شکریہ ادا کیا اور انہیں ہار پہنائے گئے ۔ ڈپٹی کمشنر اپر چترال شاہ سعود نے بھی ضلع کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لئے دن رات کوشان ہیں اور
عوام کو کسی بھی وقت دستیاب ہوں گے۔ ایڈیشنل ڈی سی اپر چترال محمد عرفان الدین، ٹی ایم او موڑکھو شفیق احمد ، ٹی ایم او مستوج کریم اللہ بھی اس موقع پر موجود تھے جبکہ محکمہ خوراک کے ڈی ایف سی فضل باری کے سوا کسی بھی محکمے کا ضلعی سربراہ اجلاس میں موجود نہ تھا۔ اجلاس میں ایک قرار داد کے ذریعے جشن شندور کو حسب سابق چترال کی ضلعی انتظامیہ کے ذریعے سرانجام دینے کے بارے میں قرارداد متفقہ طور پر پیش کی گئی جبکہ ایک اور قرار داد میں مفتی محمود الحسن نے ڈیزاسٹر فنڈ ز کی ریلیز میں غیر معمولی تاخیر کا سلسلہ ختم کرتے ہوئے 2015ءمیں تباہ کن سیلاب میں متاثرہ انفراسٹرکچروں کی بحالی کے فنڈز فی الفور جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ بعدازاں کنوینر مولانا عبدالشکور نے ضلع کونسل کا اجلاس غیرمعمولی مدت کے لئے ملتوی کردیا۔