تازہ ترین
کیلاش ثقافت ،روایات اور علاقے میں سیاخت کے فروع کیلئے پشاورمیں” کیلاشہ روڈ ٹرپ ایگزبیشن” کے نام سے تقریبات


کیلاش کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا جائے جبکہ موجودہ بجٹ میں مختلف منصوبوں کے خطیر رقم مختص کردیا گیا ہے۔کوک سٹوڈیو سے شہر ت پانے والی اریانہ اعظم اور امرینہ نے کیلاش زبان کے مختلف گانے گاکر لوگوں سے خوب داد وصول کی ہیں۔ کیلاش ثقافت کے بارے میں جانے کے لئے پشاور کے سرکاری سکول کی اُستانی نائلہ خان نے کہا کہ اُن کو پہلی بار کیلاش قبیلے کے ثقافت اور خواتین کے رہن سہن کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مقامی خواتین کے سے تیار کردہ اشیاء کو دیکھ نہ صرف بہت آچھا لگا بلکہ اُنہوں نے کچھ چیزیں خریدیں بھی ہے۔کیلاش ثقافت کے حوالے سے شعور اُجاگر کرنے کے لئے پاکستان میں موسیقی اور ثقافت کے فروغ کے لئے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارہ فیس کے تیکنکی اور یونیسکو کے مالی مدد سے تقریبات منعقد کئے جارہے ہیں ۔ سید گل نے بتایا کہ سیاحت کے فروع سے لوگوں کے اقتصادی قوت بہتر ہوسکتی ہے لیکن جب سیاح اُس علاقے اور ثقافت کے بارے میں بغیر کسی معلومات کے آتے ہیں تو اُس سے مسائل جنم لیتے ہیں جن میں صفائی خیال نہ رکھنا اور بغیر اجازت کے خواتین کے تصاویر اور گھر وں میں جانا شامل ہیں۔اُن کے بقول حال ہی میں سوشل میڈیا پر کیلاش قبیلے سے منسوب ایک بندے ایسے معلومات نشر کی تھی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا جبکہ اُس ویڈیو میں انتہائی نازیبا الفاظ بھی استعمال کیں گئے تھے۔