تازہ ترین
کرپشن میں ملوث شخص کو پارٹی کا صوبائی امیر منتخب کرنا جے یوآئی کے ساتھ انتہائی ذیادتی ہوگی/ناصراحمدخان کاپریس کانفرنس


کرپشن سے پاک شخصیت ہوناچاہئے جوکہ گل نصیب کا ان اوصاف سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے لہٰذا جے یو آئی کے ووٹ دہندہ گان سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس کرپٹ شخص کے بجائے کسی اور کے حق میں ووٹ دے دیں تاکہ ان کی جماعت پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے ۔ ناصر احمد خان نے گل نصیب خان کے کرپشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ سینیٹر کی حیثیت سے انہوں نے اپنی صوابدیدی فنڈز سے ترقیاتی کاموں کو پاک پی ڈبلیو ڈی بٹ خیلہ کے ذریعے کروانے کے لئے ٹھیکہ داروں سے ٹینڈر طلب کروائی اور ان تعمیراتی کاموں کا ٹھیکہ خود لینے کے لئے ان (ناصر احمد خان ) کے تعمیراتی فرم کا رجسٹریشن جعلی طور پر استعمال کرکے یہ ٹھیکے حاصل کئے اور ان میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی ۔ انہوںنے کہاکہ چونکہ نام ان کے فرم کا استعمال ہوا ہے اور ان کی جعلی دستخطوں اور پاک پی ڈبلیو ڈی کی ملی بھگت سے چیک بھی وصول کی ہے جس پر نیب کا ادارہ ان کے خلاف تحقیقات کررہی ہے جس میں وہ مکمل طور پر بے قصور ہے ۔ انہوںنے چیلنج کرتے ہوئے کہاکہ ان کی دستخطوں کا فرانزک لیبارٹری کرایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے لیکن گل نصیب خان اپنی سیاسی اثرورسوخ کے ذریعے اس معاملے کو دبایا ہوا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ انہیں گل نصیب خان اور ان کے بھائی زرنصیب خان کی طرف سے برابر دھمکیاں مل رہی ہیں اور ان کی جان کو کوئی نقصان لاحق ہونے پر وہی ذمہ دار ٹھہرائے جائیں ۔ انہوںنے حکومت سے انصاف طلب کرتے ہوئے کہاکہ ان کو گل نصیب کی جعل سازی کے پاداش میں کیس اور ان کی طرف سے ملنے والی دھمکیوں سے تحفظ فراہم کی جائے اور گل نصیب خان کو قرار واقعی سزا دے کر دوسروں کے لئے سامان عبرت بنایا جائے۔ انہوںنے ریجنل پولیس افیسر ملاکنڈ اور انسپکٹر جنرل پولیس سے بھی اپیل کی ہے کہ ان کی جان کو گل نصیب خان کی طرف سے لاحق خطرے کا نوٹس لیا جائے۔