تازہ ترین

منظم تحریک کے بغیر بجلی لوڈ شیڈنگ کا مسلہ حل ہونا ناممکن ہے ایم پی اے چترال

ایم پی اے چترال مولانا ہدایت الرحمٰن کل اپر چترال میں بونی میں مصروف دن گزارا پہلے ڈیڈاک کے اجلاس کی صدارت جہاں اپر چترال لائن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہاں اور نمائیندے موجود تھے۔اہر چترال میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی معیار اور کام کے رفتار اور دوسرے مسائل کے بارے ایم پی اے کو بتائے گئے ایم پی اے نےلائن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہاں اور نمائیندوں کو ہدایت کی کہ علاقے میں جاری منصوبوں کی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کی جائے حکومت کی فنڈ کا مصرف صحی طور پر ہو اور فوائد عوام تک پہنݮنا چاہیے ۔اس کے بعد عوامی نمائیندوں کے ساتھ مختلف مسائل پر خصوصی میٹنگ پرویز لال کے دفتر میں منعقد کی گئی جس میں عمائدین بونی،سیاسی جماعتوں کے نمائیندے اور تحریک حقوق اپر کے نمائندہ موجود تھے اپر چترال کے مشترکہ اور حل طلب مسلے زیرِ بحث رہی ۔خصوصی طور پر اپر چترال اس وقت شدید لوڈ شیڈنگ کے بحران سے دوچار ہے جس سے گزاشتہ ایک سال سے صارفین بجلی کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے کئی بار احتجاجی جلسے اور بے شمار اجلاس منعقد کیے گئے جو کہ بے سود رہی ۔پیسکو اور پیڈو کی باہمی چپقلش اور میں نہ مانوں کی ضد عوام کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمٰن ،ایم این اے مولانا عبد الاکبرچترالی ،معاون خصوصی وزیردہ ہر سطح پر جدوجہد کی پشاور سے اسلام اباد تک محکمے کے افیسروں سے وزیر اعظم تک مسلے کو پہنچائے اور جدوجہد کی تاہم کوئی بھی موزون نتیجہ برامد نہ ہوسکی ۔ایم پی اے چترال ان تمام کاوشوں کے بارے بتا کر اپنی بے بسی اور ناکامی کا بر ملا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مسلے کو اگر حل کرنا ہے تو مشترکہ طور پر منظم جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے اس میں آل پارٹیز سمیت تمام حصہ داروں کو متفقہ طور پر تحریک چلانے کی ضرورت ہے اور اس تحریک کے اگے صوبائی ،قومی اور تحصیل قیادت کا ہونا لازمی ہو۔ اس کے بیغیر مسلے کا حل ناممکن نظر ارہا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں کہ بونی مستوج روڈ پر فنڈز کی عدم دستیابی کے بنا کام التوا کا شکار ہونے کا خطرہ ہے اور مشینری واپس ہونے کی افواہ ہے ۔انہوں اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز کا کوئی مسلہ نہیں جون میں ایک ارب تیس کروڑ روپے ریلیز کیے جا چکے ہیں انہوں نے موقع پر این ایچ اے کے صوبائی ڈائریکٹر سے فون پر رابطہ کرکے تسلی کی کہ فنڈز کا کوئی مسلہ نہیں البتہ سردی کی شدت پر کام سست روی کا سبب بن سکتا ہے ۔ساتھ ملاکنڈ ڈویژن پر ٹیکس لگانے ، ہسپتال پرائیویٹائز ہونے اور فلور مل چالو ہونے پرسبسڈی وغیرہ کے مسائل سے بھی ایم پی اے کو تحفظات سے آگاہ کیے گئے اور اسمبلی فلور پر آواز اٹھانے پر زور دیا گیا ۔ ایم پی اے چترال تمام مسائل صوبائی سطح پر اٹھانے کی یقین دہانی کی۔

Related Articles

Back to top button