مضامین

میلادِ رسول ﷺ ۔۔۔۔۔۔۔پروفیسرمظہر

یہ سرووسمن کی داستاں ہے نہ گلستاں کی، دشت کی بات ہے نہ دمن کی، گُل کا فسانہ ہے نہ بُلبُل کا، سبزہئ نودمیدہ پر تتلیوں کے والہانہ رقص کا قصہ ہے نہ غنچہئ ناشگفتہ کا۔ یہ تو میلادِ نبی ﷺ کے حوالے سے اُن تلخ حقائق کے درد کا قصہ ہے جسے ہم نے دھرتی ماں کے حصول کے وقت اِس عہد کے ساتھ لیا تھا کہ ہم اِس میں اسلام کا نور پھیلائیں گے لیکن کیا ہمیں فرقانِ حمید کا یہ حکم اَزبر کہ ”جو کچھ رسول تمہیں دے دے، اُسے لے لو اور جس چیز سے منع کر دے اُس سے رُک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو کہ وہ سخت عذاب دینے والاہے“ (الحشر آیت 7)۔اِس کے علاوہ بھی متعدد آیات ِ مبارکہ میں یہی حکم دہرایا گیاہے۔ اگر ہم نے سنتِ رسولؐ پر عمل کیاہوتا تو اِس دھرتی پر دین کا نخلِ نوخیز تن آوردرخت بن چکا ہوتا لیکن یہاں معاملہ یکسر مختلف۔ یہاں نفرتیں اور کدورتیں پل بڑھ کر جوان ہوتی ہیں اور فرقوں اور گروہوں کی آبیاری۔ تعمیرِملت کے سزاوار تو لَدچکے البتہ سیاست سے ثقافت تک کثافتوں کی تلچھٹ باقی۔ سراپا گفتار گلی گلی مگر سراپا کردار مفقود۔ تیرہ وتار پستیوں سے اُٹھانے کا دعویٰ سبھی کو مگر یہ سب حلقہئ وہم وگماں۔ تگ وتاز سے بیگانہ، عجز سے دور متکبرومغرور رَہنماء ایمان کے کمزورترین درجے پر اور ضیائے نور کا ایک روزن بھی باقی نہیں۔ حضورِاکرمﷺ کو عالمین کے لیے رحمت بناکر بھیجا گیااورمجبوروں مقہوروں کے سروں پر دستِ شفقت سنتِ رسولﷺمگر یہاں سسکتی انسانیت زورآوراشرافیہ کے جبڑوں میں اور ظلمتِ بے لگام کی عناں اُن کے ہاتھ میں جنہیں اسیرانِ یاس والم کی پرواہ پہلے کبھی تھی نہ اب ہے۔ مسجودِ ملائک پیکرِگِل، راندہئ درگاہ اورنانِ جویں کے محتاج۔ اگر کسی کُنجِ لب سے ابدی صداقتوں کا اظہار ہوجائے تو وہ پابجولاں اور سرِدار کہ یہاں عدل بھی کھنکتے سکوں کی جھنکار میں تُلتا ہے۔ ایسے میں عصرِحاضر کو کیا نام دوں، خودغرضی وخودسری کا، بے لگامی وبے حیائی کا یا پھر شوریدہ سری و فتنہ پروری کا؟۔
یوں تو ہم سبھی نے اپنے اوپر اسلام کا لیبل چپکا رکھاہے مگر ہمارے افعال اِس کی گواہی دیتے ہیں نہ اعمال۔ پھر بھی ربِ لم یزل سے گِلہ کہ قومِ مسلم راندہئ درگاہ کیوں اور ہماری دعائیں مستجاب کیوں نہیں ہوتیں۔ ربِ کائینات نے تو قومِ مسلم کو دنیاجہان کی ہر نعمت سے نوازالیکن ہماری تَن آسانی نے فاطرالسماوات کا یہ فیصلہ بھلا دیا۔ ”بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے اور جب اللہ کسی کے لیے بُرے دن کا ارادہ فرماتا ہے تو پھر اُسے کوئی نہیں ٹال سکتا، اللہ کے سوا اُس کا کوئی مددگار نہیں ہوسکتا“ (الرعد آیت 1)۔ لیکن ہم شعارِ اغیار میں ایسے گرفتار ہوئے کہ لبرل کہلانے میں فخر محسوس کرنے لگے۔ لبرل ازم اخلاق باختہ معاشرے کو جنم دیتاہے کیونکہ اِس نے شخصی آزادی کو اُن انتہاؤں تک پہنچا دیا جہاں ریاست کی دخل اندازی کا تصور ہی مٹ گیا۔ لبرل معاشروں میں عورت کی عورت اور مرد کی مرد سے شادی اختیاری ہے جبکہ قومِ مسلم کے سامنے قومِ لوط کا انجام موجود۔ بطور مسلم ہمیں فرقانِ حمید کے حرف حرف پر عمل کا حکم جس کی سورۃ النور کی آیات 24 اور 30 میں عورتوں اور مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا اور سورۃ النحل آیت 81 اور الاعراف آیت 24 میں سترپوشی کی تلقین کی گئی جبکہ لبرل ازم میں ایسی قدغن کا تصور بھی محال۔ ایسی شوریدہ سری کی دینِ مبیں میں قطعاََ کوئی گنجائش نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لبرل ممالک میں جنسی جرائم عروج پر ہیں جبکہ مسلم ممالک اِس فہرست میں آخری نمبروں پر۔ اگر لبرل معاشرے متوازن ہوتے تو پھر جرائم کی یہ شرح کبھی نہ ہوتی۔ اِس کے علاوہ لبرل ازم میں مذہب کو انسان کا ذاتی فعل قرار دیا جاتاہے جبکہ اسلام میں مذہب کو ریاستی امور سے الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ کی ہے اور انسان اُس کا نائب۔ سورۃ بقرہ آیت 30 میں یوں ارشاد ہوا ”جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا ”میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں“۔اُنہوں نے عرض کیا ”کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اِس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خوں ریزیاں کرے گا۔ آپ کی حمدوثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لیے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں“۔ فرمایا ”جو کچھ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے“۔ نیابتِ الٰہی کا یہی ذکر قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر دیا گیا۔ اب ازروئے قُرآن حاکمیتِ اعلیٰ صرف ربِ علیم وخبیر کے پاس اور نائب اللہ انسان۔ سوال یہ کہ کیا کوئی نائب حاکمِ اعلیٰ کے احکامات سے سرِمو بھی انحراف کر سکتاہے؟۔ فیصلہ آپ کا کہ آپ لبرل ازم کی طرف جاتے ہیں یا درخشندہ حیات بعد الموت کے حصول کی خاطر اُس مکمل ضابطہئ حیات کی طرف جو رہنمائی کے لیے فرقانِ حمید کی صورت میں ہمارے پاس موجود۔
یہ بھی گلہ کہ ہماری دعائیں مستجاب نہیں ہوتیں۔ دعائیں تو مستجاب ہوتی ہیں کہ یہ رب کا وعدہ ہے۔ سورۃ الروم آیت 6 ”یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا مگر اکثر لوگ نہیں جانتے“۔ دعاؤں کے مستجاب ہونے کے لیے جس یقینِ محکم کی ضرورت وہ مفقود۔سورۃ نوح آیات 10-12 میں حضرت نوح علیہ السلام کہتے ہیں ”اور میں نے اُن سے کہا اپنے پروردگار سے معافی مانگ لو، بلاشبہ وہ بڑا معاف کرنے والاہے۔ اللہ تعالیٰ تم پر آسمان سے بارشیں برسائے گا، تمہارے مال اور اولاد سے مدد کرے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور نہریں جاری کرے گا“۔ سورۃ الاعراف آیت 55 میں یوں ارشاد ہوا ”اپنے رب کو گڑگڑاکر اور خفیہ طور پر پکارو بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا“۔ مندرجہ بالا آیاتِ مبارکہ سے صاف ظاہر ہے کہ دعاؤں کی قبولیت کے لیے گڑگڑا کر معافی مانگنے اور حد سے نہ گزرنے کا حکم دیا گیاہے جس کے بدلے میں وہ دعائیں قبول بھی کرتا ہے اور اپنی نعمتوں کے دروازے بھی کھول دیتا ہے۔
دعاؤں کی قبولیت کے لیے ایسے ہی یقینِ محکم کی ضرورت ہے جیسا قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں میں تھا۔ جب فرقانِ حمید میں غزوہ بدر سے 5 سال اور فتح مکہ سے 8 سال پہلے ہی فتح کی پیشین گوئی کر دی گئی تو قلیل تعداد کے باوجود ہر صحابی کو یقین تھا کہ فتح ونصرت اُن کے قدم چومے گی کیونکہ رَب کا وعدہ سچاہے (سورۃ القمر آیات 41-45، سورۃ ص آیت 11)۔ اگر انسان مغلوبِ گماں نہ ہو اور اُس کا یقینِ کامل ”میرے لیے اللہ ہی کافی ہے“ (سورۃ التوبہ 129)۔ تو دعائیں مستجاب بھی ہوتی ہیں اور خالقِ کائینات کی نعمتوں کے دروازے بھی کھُل جاتے ہیں لیکن ”انسان تھڑدلا پیدا کیا گیا ہے۔ جب اُس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اُٹھتا ہے“ (سورۃ المعارج 19,20)۔ اِس لیے اگر ہم میلادِ رسولﷺ کو نبی آخرالزماں کی سنت پر عمل کرتے ہوئے منانا چاہتے ہیں توہمیں اپنے اندریقینِ محکم پیدا کرنا ہوگ کہ اِسی میں راہِ نجات۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button