محکمہ آبپاشی میں 20 کروڑ روپے کے ترقیاتی کاموں کے ٹینڈرز کھول دیے گئے

چترال (چہانگیر جگر)محکمہ آبپاشی (ایریگیشن) لوئر و اپر چترال میں تقریباً 20 کروڑ روپے کی لاگت سے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز کھولنے کا عمل مکمل کر لیا گیا۔ ٹینڈرنگ پراسیس کی نگرانی ایکسین (XEN) ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ انجینئر سہیل خان نے درجنوں ٹھیکیداروں کی موجودگی میں کی۔ اس موقع پر ایس ڈی او وکیل خان اور محکمہ کے دیگر عملے نے ایکسین کی معاونت کی۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق یہ ٹینڈرز زیادہ تر سیلابی حفاظتی پشتوں، چیک ڈیمز، واٹر چینلز اور پائپ لائنز کی تعمیر و مرمت پر مشتمل ہیں۔ یہ اسکیمیں ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی ثریا بی بی (ایم پی اے اپر چترال) اور فاتح الملک علی ناصر (ایم پی اے لوئر چترال) کے ترقیاتی فنڈز اور ان کی نشاندہی پر منظور کی گئی تھیں۔
ٹینڈرنگ کے عمل کو مکمل شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے تھے۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں، پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران کو بطور مبصر بلایا گیا تھا۔ مختلف منصوبوں کے حصول کے لیے ٹھیکیداروں کے درمیان زبردست مقابلہ دیکھا گیا، تاہم ٹھیکیداروں کے نمائندوں نے پورے عمل پر بھرپور اطمینان کا اظہار کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انجینئر سہیل خان نے کہا کہ محکمہ کی اولین ترجیح شفافیت اور معیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ:
”ترقیاتی کاموں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تمام کامیاب ٹھیکیدار اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ اپنی اپنی اسکیمیں مقررہ وقت کے اندر اور بہترین معیار کے ساتھ مکمل کریں۔”
ان منصوبوں کی تکمیل سے چترال کے دونوں اضلاع میں سیلابی نقصانات میں کمی آئے گی اور زمینداروں کو آبپاشی کے لیے پانی کی فراہمی بہتر ہوگی۔



