چترال میں پی ٹی آئی کی شٹر ڈاؤن ہڑتال: کامیابی اور ناکامی کے متضاد دعوے، تاجر رہنما پر حملے کے بعد معاملہ افہام و تفہیم سے حل

چترال (نامہ نگار)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) لوئر چترال کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور ملک میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی گئی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی قیادت نے ہڑتال کو مکمل کامیاب قرار دیا ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اسے عوامی سطح پر ناکام مہم قرار دیا ہے۔
ایم پی اے و ڈیڈک چیئرمین لوئر چترال مہتر فاتح الملک علی ناصر کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی قیادت کا دعویٰ ہے کہ ہڑتال مکمل رہی اور دکانیں بند رہیں۔ اس دوران دروش میں جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی کی قیادت میں ایک مشعل بردار ریلی بھی نکالی گئی، جس میں کارکنوں نے عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے حق میں نعرے بازی کی۔
ہڑتال کے دوران چترال بازار میں اس وقت ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی جب پی ٹی آئی کارکنوں نے صدر تجار یونین نور احمد خان چارویلو کی دکان زبردستی بند کرانے کی کوشش کی۔ اس دوران صدر پر حملے کی کوشش کی گئی، جس پر مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کے لیے درخواست دائر کی گئی۔ تاہم، پی ٹی آئی رہنما فرید حسین جان کی مداخلت اور مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی قیادت نے صدر تجار یونین سے معافی مانگ لی، جس پر نور احمد خان نے درخواست واپس لیتے ہوئے معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کر دیا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدور نے پی ٹی آئی کے احتجاج پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے "سو فیصد ناکام” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دکانداروں نے جبر کے ذریعے دکانیں بند کرانے کی کوشش کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی احتجاج کے نام پر تاجر برادری کو ہراساں کر رہی ہے جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
جہاں تحریک انصاف کی قیادت ہڑتال کو عوامی مینڈیٹ کی جیت قرار دے رہی ہے، وہیں سیاسی حریفوں اور تاجر برادری کے ایک حصے کی جانب سے اسے زبردستی مسلط کردہ قرار دیا جا رہا ہے۔





