چترال: انجمن ترقی کھوار کے زیرِ اہتمام اقبال الدین سحر مرحوم کے لیے تعزیتی نشست، مقررین کا شاندار خراجِ عقیدت

چترال (نامہ نگار)
چترال کے ہمہ جہت شاعر، ادیب اور گلوکار اقبال الدین سحر مرحوم کی یاد میں ایک پُراثر تعزیتی نشست کا انعقاد مرکزی انجمن ترقی کھوار چترال کے زیرِ انتظام آج ٹاؤن ہال چترال میں کیا گیا۔ اس ادبی و ثقافتی نشست میں اہلِ علم، شعراء، ادباء، سماجی و سیاسی شخصیات اور سحر مرحوم سے عقیدت رکھنے والوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پروگرام کی صدارت معروف سیاسی شخصیت جناب الحاج عید الحسین نے کی، جبکہ جامعہ چترال کے پرووسٹ پروفیسر ڈاکٹر تاج الدین شرر محفل کے مہمانِ خصوصی تھے۔ پروگرام میں جناب محمد کرم نے مہمانِ اعزاز کی حیثیت سے شرکت کی۔
تقریب کی نظامت کے فرائض انجمن ترقی کھوار کے مرکزی جنرل سیکرٹری ظہور الحق دانش نے انجام دیے۔
تعزیتی نشست میں اقبال الدین سحر مرحوم کی شخصیت، فن، شاعری اور کھوار ادب و موسیقی کے لیے ان کی خدمات پر خصوصی مقالہ جات، تقاریر، تاثرات اور مرثیہ کلام پیش کیے گئے۔
مقالہ جات کے سلسلے میں
محمد عالمگیر بخاری نے “سحر و شاعریہ موسیقیت” کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔
صفی اللہ آصفی نے “جدید کھوار گیت نگاری و معمارِ خاص” کے عنوان سے مقالہ پڑھا۔
ظہیر الدین عاجز کے تحقیقی مقالے کا عنوان “سحر و ضرب المثل غیریرو اشعار” تھا۔
محمد عرفان عرفان نے “اقبال الدین سحر کے خاندان کا تاریخی پس منظر” پر تفصیلی مقالہ پیش کیا۔
تقاریر و تاثرات کے دوران ایڈوکیٹ عبدالولی خان عابد، محمد شفیع شفاء، میر جہاندار شاہ جہاندار، استاد خالد ظفر، ہدایت اللہ (چیئرمین روز چترال)، استاد ضیاء الدین، شاہ حسین گہتوی، محمد کرم (مہمانِ اعزاز) اور پروفیسر ڈاکٹر تاج الدین شرر (مہمانِ خصوصی) نے اقبال الدین سحر مرحوم کی ادبی، فنی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور انہیں کھوار ادب کا قیمتی اثاثہ قرار دیا۔
آخر میں صدرِ محفل الحاج عید الحسین نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقبال الدین سحر مرحوم نے اپنی شاعری اور گیتوں کے ذریعے کھوار زبان و ثقافت کو نئی جہت عطا کی، جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
سحر مرحوم کی یاد میں مرثیہ کلام پیش کرنے والے شعراء میں ثناء اللہ ذہری، اصغر شیدائی، محمد شریف عروج، عنایت الرحمن عنایت، کریم اللہ ثاقب، جناح الدین پروانہ، شیر اکبر صبا اور چیئرمین شوکت علی شامل تھے، جنہوں نے اپنے پُراثر کلام کے ذریعے محفل کو رقت آمیز بنا دیا۔
تعزیتی نشست کے اختتام پر اقبال الدین سحر مرحوم کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے مولانا نثار احمد نے اجتماعی فاتحہ خوانی کرائی، جس کے بعد پروگرام دعائیہ کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا
۔



