مضامین

داد بیداد۔۔۔۔۔ہنر مندوں کی دنیا۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

پشاور میں مختصر قیا م کے دوران حیات اباد کا ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ سنٹر (HRDC)دیکھنے کا اتفاق ہوا یہ جان کر خو شی اور مسرت حا صل ہوئی کہ 17سال پہلے نو جوانوں کو ہنر مند بنا نے کے کورس پڑھا نے اور ہنر سکھا نے کے لئے جس تر بیتی ادارے کی شدید ضرورت محسوس ہوئی تھی وہ ادارہ 2026ء میں پھل دینے والا درخت بن چکا ہے 2009ء میں خیبرپختونخوا کی حکومت نے نو جوانوں کو ہنر مند بنا نے کا منصو بہ پیش کیا تو اس وقت صوبے کے چند سرکاری ووکیشنل انسٹیٹیوٹ تھے جو محدود اور ضرورت سے کم خد مات پیش کر تے تھے اس لئے نو جوانوں کو پنجا ب کے مختلف شہروں میں بھیجنا پڑتا تھا چترال سے بھی نو جوانوں کو 100،100اور 200کے گروپوں میں تقسیم کر کے غیر سرکاری تنظیموں اور عطیات دینے والے اداروں کے تعاون سے پنجاب بھیجا جا تا تھا جہاں سے 3ما ہ، 6ما ہ، سال اور دو سال کے تر بیتی مر احل طے کر کے سر ٹیفیکیٹ لیکر وہ اندرون ملک اور بیرون ملک نفع بخش روزگار کے قابل ہو کر آتے تھے یہ سہو لت ہمارے اپنے صو بے اور ہمارے اپنے شہر میں کس طرح میسر آئے گی اس پر طویل غورخوص کے بعد سرحد رورل سپورٹ پرو گرام (SRSP) نے نو جوانوں کے لئے مو جو دہ زما نے کے تقاضوں کے مطا بق تر بیتی ادارہ قائم کر کے اس میں تمام سہو لتیں فراہم کرنے کا تہیہ کر لیا چنا نچہ اپنے ہیڈ آفس کے پہلومیں فنی تر بیت کا عظیم الشان ادارہ ایک خو ب صورت اور اراستہ و پیراستہ یعنی سٹیٹ آف دی آرٹ عمارت کی صورت میں قائم کیا جہاں ترکھا نی (Carpentry) جیسے قدیم ہنر کے ساتھ آرٹیفیشل اینٹلی جنس (AI) جیسے جدید ہنرسمیت 15بڑے بڑے ہنر طلبا اور طالبات کو سکھا ئے جا تے ہیں ان میں مر دوں کے الگ ہنر ہیں ان کا الگ شعبہ ہے خواتین کے الگ ہنر ہیں ان کا الگ انتظام ہے جو مر کز کے معیار اور مرکز کی سہو لیات کے مطا بق قریبی شہر میں دیا جا تا ہے، HRDCکے جس ورکشاپ یا تر بیت گاہ میں آپ قدم رکھتے ہیں اندر کا نظارہ آپ کی توجہ حا صل کر تا ہے، آٹو مو بائلز کی تر بیت گاہ میں گاڑیوں کے انجن، موٹر، گئیر بکس اور دوسرے سپر پارٹس کے ساتھ انسٹرکٹر اور طلباکی تر بیتی مشغو لیت دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے، الیکٹرک مو ٹر سائیکل کا الگ ورکشاپ ہے، بجلی کے کاموں کا الگ ورکشاپ ہے سولر سسٹم کا الگ ہے، کمپیوٹر ٹیکنا لو جیز کا الگ ہے، مصنو عی ذہا نت کے ہنر کو ڈیجیٹل اکا نو می کا نا م دیکر الگ شعبے میں رکھا گیا ہے تربیت مکمل کرنے والوں کو سر ٹیفیکیٹ اور ڈپلو مہ دیئے جا تے ہیں تربیت کا پورا نظام صوبے کے محکمہ صنعت و حر فت اور ووکیشنل ٹریننگ کے سسٹم کے ساتھ منسلک ہے لکڑی کے کا ریگروں کوابتدائی تر بیت کے بعدایڈانس کورس کے لئے سمال انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ میں پاک جر من ووڈ ورکنگ سنٹر کے ساتھ منسلک کیا جا تا ہے الغرض یہ ادارہ مستقبل میں صوبے کے اندر افرادی قوت اور خصو صاً نو جوا نوں کی تر بیت کے تمام تقاضوں کو بحسن و خو بی پوری کرنے کی صلا حیت سے لیس ہے، ادارے کا اپنا اعلیٰ معیار کا ہا سٹل ہے پشاور میں اتنا بڑا ووکیشنل سنٹر کیسے قائم ہوا؟اس کے پس منظر میں کمیلا پراجیکٹ اور OPPاورنگی پائلٹ پراجیکٹ سے شہرت پا نے والے ڈاکٹر اختر حمید خان، داووزئی پراجیکٹ اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام سے نام پیدا کرنے والے شعیب سلطان خان کے دیہی ترقی کی حکم عملی کا پس منظر بھی ہے اور دونوں کے مشن کو آگے بڑھا نے میں برابر کر دار اداکرنے والے مسعود الملک کا توانا، فعال اور تخلیق کار ہاتھ بھی ہے، ترقی اور خو شحا لی کے لئے مقا می آبادی کو عالمی اداروں کے ساتھ منسلک کر کے انسانی سرما یہ (Human Capital) سے مفید کام لینے کے اس عمل کو دیہی ترقی کا شراکتی ماڈل Participatory approachکہا جا تا ہے، آئیندہ چند سالوں میں چائنا پا کستان اکنا مک کوریڈور(CPEC) کے تعمیراتی منصو بوں میں دو لا کھ سے زیا دہ ہنر مند افراد کی ضرورت ہو گی، دیگر ملکی اور بیرون ملک صنعتوں میں اتنی ہی تعداد میں ہنر مند افراد کی ملا زمتیں نکلینگی اگر ہمارے صو بے نے ہنر مند افراد تیار نہیں کئے تو ہمارے نو جوانوں میں مزید بیروزگاری پھیلے گی ضرورت اس امر کی ہے کہ HRDCحیات اباد کی طرح مزید ادارے قائم ہو ں، نیزحکومت اور دوسرے غیر سر کاری تنظیمیں بھی سرحد رورل سپورٹ پرو گرام کے اشتراک سے ہنر مند افراد تیار کر نے میں اپنا کر دار ادا کریں آج کی دنیا ہنر مندوں کی دنیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button