*کنجوس کی قربانی، بخل اور کنجوسی کی حقیقت اور اسباب*۔۔ تحریر: ابو سلمان

ہمارے معاشرے میں بعض واقعات بظاہر ہنسی مذاق کا رنگ لیے ہوتے ہیں، مگر ان کے اندر اصلاح اور نصیحت کے کئی پہلو پوشیدہ ہوتے ہیں۔ گاؤں کے ایک مشہور کنجوس کی قربانی کا واقعہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، جو ہمیں ہنساتا بھی ہے اور سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔
کہانی یوں ہے کہ ایک گاؤں میں ایک شخص اپنی کنجوسی کے باعث خاصا مشہور تھا۔ بڑی مشکل اور طویل سوچ بچار کے بعد اس نے قربانی کے لیے ایک خوبصورت سا دُنبہ خریدا۔ دُنبہ خرید کر وہ بیک وقت خوش بھی تھا اور پریشان بھی، کیونکہ اس کے ذہن میں پہلے ہی حساب کتاب چل رہا تھا کہ اس جانور کی ایک ایک چیز کہاں اور کیسے استعمال ہوگی تاکہ ایک پیسہ بھی ضائع نہ جائے۔
جگر اور گردوں کی کڑاہی بنے گی،
سینے کے گوشت کی بریانی تیار ہوگی،
ران کے گوشت کی الگ سے کڑاہی بناؤں گا،
نرم گوشت کے مزے دار کباب لگاؤں گا،
چربی اور سری پائے کو یخنی کے لیے الگ رکھوں گا،
چمڑے سے جیکٹ بنواؤں گا،
اور اون سے گرم شال تیار کرواؤں گا،
بس یوں سمجھو کہ یہ دُنبہ میرے پورے کام آئے گا۔
کنجوس بڑے مزے سے یہ سارے منصوبے بیان کر رہا تھا۔ قصائی خاموشی سے سنتا رہا، پھر مسکراتے ہوئے چھری ہاتھ میں پکڑی اور ہنستے ہوئے بولا:
“ہاں جی! اس کی آواز بھی ریکارڈ کر لو، موبائل کی رنگ ٹون کے کام آ جائے گی!”
*بخل اور کنجوسی کی حقیقت*
کنجوسی عموماً عادت یا مزاج کا نام ہے، مگر بخل ایک اخلاقی بیماری ہے۔ جہاں خرچ کرنا شرعاً، عادتاً یا مروّتاً لازم ہو وہاں خرچ نہ کرنا بخل کہلاتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں بخل کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔
*قرآنِ کریم کی تنبیہ*
“اور جو لوگ اس چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہے، وہ ہرگز اسے اپنے لیے بہتر نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے، عنقریب قیامت کے دن وہی چیز ان کے گلے کا طوق بنا دی جائے گی…”
(آلِ عمران: 180)
نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا کہ بخل اور بدخلقی یہ دونوں خصلتیں کسی مومن میں جمع نہیں ہوتیں۔
*بخل اور کنجوسی کے اسباب*
بخل اور کنجوسی یوں ہی پیدا نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے کئی اسباب کارفرما ہوتے ہیں:
*تنگ دستی کا خوف*
بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر خرچ کیا تو مال کم ہو جائے گا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ اس کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے۔
*مال سے حد سے زیادہ محبت*
جب مال دل میں بس جائے تو انسان اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ یہ مال قبر میں اس کے کسی کام نہیں آئے گا۔
*نفسانی خواہشات کا غلبہ*
اپنی ذات، آرام اور خواہشات کو مقدم رکھنا انسان کو دوسروں پر خرچ کرنے سے روک دیتا ہے۔
*اولاد کے مستقبل کی بے جا فکر*
بعض لوگ یہ سوچ کر بخل کرتے ہیں کہ کہیں بچوں کا مستقبل خراب نہ ہو جائے، حالانکہ رزق دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
*آخرت سے غفلت*
جو شخص آخرت کے حساب کتاب کو بھول جاتا ہے، وہ دنیا کے مال سے چمٹ جاتا ہے اور یہی غفلت بخل کی جڑ بن جاتی ہے۔
*اصل قربانی کا مفہوم*
وہ کنجوس دُنبے کے گوشت، چمڑے اور اون تک کا حساب لگا رہا تھا، مگر اصل قربانی یعنی دل کی قربانی اس کی نظر سے اوجھل تھی۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے دل کو بخل، لالچ اور حرص سے پاک کرنے کا نام ہے۔
یہ قصہ ہمیں ہنساتا ضرور ہے، مگر اصل مقصد ہمیں جگانا ہے۔ کہیں ہم بھی اس کنجوس کی طرح اپنے فائدے کا حساب تو نہیں لگا رہے اور دوسروں کے حقوق سے غافل تو نہیں؟

