مضامین

دادبیداد..یونیورسٹی آف القراوئین..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

جب بھی دنیا میں یونیورسٹیوں کی رینکنگ کا ذکر آتا ہے اس ضمن میں قدامت اور تاریخ کے اعتبار سے مراکش کے شہر فیض میں قائم 1200سال پرانی القراوئین یونیورسٹی کا نام آتا ہے یہ ایک یتیم لڑ کی فاطمہ الفہری نے 859عیسوی میں اپنے ذاتی خرچ سے قائم کی تھی فاطمہ الفہری کا تعلق تیو نس سے تھا، اس کا باپ مالدار تاجر تھا باپ کے مرنے کے بعد اس کی جائیداد دو بیٹیوں میں تقسیم ہوئی، فاطمہ الفہری نے تیونس سے حصول علم کے لئے مراکش کا سفر کیا وہاں کوئی اعلیٰ تعلیمی ادارہ نہیں تھا، اس نے فیض نامی شہر میں 20سال لگا کر ایک بڑی مسجد القراوئین کے نام سے تعمیر کی، مسجد میں اسی نام سے یو نیورسٹی قائم کی، باپ کے ترکہ میں اپنا حصہ اس منصو بے پر لگاکر آنے والی نسلوں کے لئے مثال قائم کیا القراوئین یونیورسٹی دنیا کی پہلی یونیورسٹی تھی جہاں میڈیکل سائنسز، فلکیاتی علوم،تاریخ،فلسفہ، فزکس اور ریاضی جیسے مضامین میں اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں دی جا تی تھیں اس کے سینکڑوں سال بعد 1365ء میں جرمنوں نے ویانا کی یونیورسٹی قائم کی اور 1386ء میں ہائیڈل برگ یو نیورسٹی قائم ہوئی اس کے سینکڑوں سالوں کے بعد یورپ میں برطانیہ کی دو یونیورسٹیاں اکسفورڈ اور کیمبرج قائم ہوئیں، القراوئین کے 800سال گذرنے کے بعد امریکہ میں ہارورڈ یونیورسٹی قائم کی گئی، بعد میں قائم ہونے والی تما م یونیورسٹیوں نے القراوئین کا نظام تعلیم، اس کا سلیبس اور اس کے قواعد و ضوابط کی تقلید کی فاطمہ الفہری نے جو سسٹم اپنی بصیرت اور احباب کے مشورے میں مراکش میں وضع کیا تھا وہ ماڈل بن گیا یونیسکو (UNESCO) اور گینیز بک (Guinness book) نے اس ماڈل کو یونیورسٹی کا قدیم ترین ماڈل قرار دیا ہے مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ مغرب میں جو علمی تحقیق ہورہی ہے اس میں کیمبر ج، اکسفورڈ اور ہارورڈ کا ذکر آتا ہے مسلمانوں کی پہلی یونیورسٹی کا نام تک کوئی نہیں لیتا، مگر یہ شکا یت بجا نہیں محققین کی اکثریت جن یونیورسٹیوں سے ڈگری لیکر آتی ہے وہ اپنی تحقیق انہی یونیورسٹیوں سے شروع کرتی ہے اگر القروئین یونیورسٹی کے گریجویٹ مراکش سے باہر دیگر اسلامی ملکوں میں نئی یو نیورسٹیوں کی بنیاد رکھتے تو لامحالہ القراوئین کے ماڈل کا جا بجا ذکر ہوتا آج عام مسلمانوں کے علم میں ویانا، ہائیڈل بر گ اور اکسفورڈ کی جگہ القراوئین یونیورسٹی کا نام ہوتانویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کی پہلی یونیورسٹی قائم ہو نے کے بعد اسلامی دنیا کے طاقتور حکمرانوں نے بڑے بڑے علما ء کو ساتھ ملاکر اپنی بادشاہت کے تحفظ کے لئے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا، بادشاہوں کا خیال تھا کہ تعلیمی ادارے وجود میں آئینگے تو خاندانی بادشاہوں کو خطرہ ہوگا مراکش کی ادریسی سلطنت 788ء میں قائم ہوئی تھی 974ء میں عبا سی خلافت نے اس کو شکست دی چنانچہ مراکش میں دوسری یونیورسٹی قائم نہ ہوسکی البتہ988عیسوی میں مصر کے اندر قاہرہ کی الازہر یونیورسٹی فاطمی سلطنت نے قائم کی 1171ء میں صلیبی جنگوں کے عظیم ہیرو صلا ح الدین ایوبی نے قاہرہ کو فتح کیا، فاطمی حکمران صلیبی جنگجووں کے اتحادی تھے اس لئے وہ بھی شکست کھا گئے صلا ح الدین ایو بی نے الازہر مسجد اور یونیورسٹی کو بند کر کے عباسی خلافت کا خطبہ جاری کیا 1250ء میں مملو ک سلطنت قائم ہوئی تو الازہر کی مسجد بھی کھل گئی یو نیور سٹی کو نیاسلیبس دے کر کھلوایا گیا، اس میں عر1بی زبان و ادب، تجوید وقرء ت اور فقہ اسلامی کی تعلیم کا نیا نصاب رکھاگیا جو اب تک چل رہا ہے دنیا کے مشہورقاریوں نے الازہر سے قرءت و تجوید کی تعلیم حاصل کی ہے خوش قسمتی سے اویر چترال کا فرزند سید بزرگ شاہ الازہری بھی عالمی سطح کے ان قراء میں شامل ہے بادشاہوں نے القراوئین کے بعددوسری یونیورسٹی کاراستہ کامیابی سے روکا، الازہر کو عربی زبان و ادب تک محدود رکھنے میں کامیابی حاصل کی چنانچہ اسلامی دنیا کے نوجوان حصو ل علم کے لئے یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں کے محتاج ہوئے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button