منتخب کالم

فطرانہ: مال کی طہارت اور معاشرے کی پاکیزگی کا پیغام تحریر :………. ابو سلمان

برِّ ماہ پانچ سو سے تین ہزار تک کے انٹرنیٹ پیکج استعمال کرنے والے، سال میں تین سو روپے فطرانہ ادا کرنے کے لیے اگر دس علما سے یہ پوچھتے پھریں کہ کون سا عالم کم بتاتا ہے تاکہ کم سے کم رقم ادا کی جائے، تو یہ طرزِ فکر ہمارے اجتماعی رویّے کی عکاسی کرتا ہے۔
دنیاوی آسائشوں پر خرچ کرتے وقت ہاتھ نہیں کانپتا، مگر عبادت اور صدقہ کی باری آئے تو کم سے کم راستہ تلاش کیا جاتا ہے۔
یہ تمہید ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف لے جاتی ہے:
کیا فطرانہ محض ایک رسمی ادائیگی ہے؟ یا اس کے پیچھے کوئی عظیم روحانی فلسفہ اور معاشرتی حکمت بھی پوشیدہ ہے؟
فطرانہ کیا ہے؟
فطرانہ (صدقۂ فطر) وہ واجب صدقہ ہے جو ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر رمضان کے اختتام پر عیدالفطر سے پہلے ادا کرنا لازم ہے۔ اس کا مقصد دوہرا ہے:
1روزوں کی کوتاہیوں کا کفارہ
2محتاجوں کی اعانت تاکہ عید کے دن کوئی مسلمان بھوکا نہ رہے
گویا فطرانہ عبادت بھی ہے اور سماجی ذمہ داری بھی۔ یہ فرد اور معاشرہ دونوں کو پاکیزگی کا پیغام دیتا ہے۔
قرآنِ کریم کی روشنی میں
اگرچہ فطرانہ کا لفظ صراحتاً قرآن میں مذکور نہیں، مگر اس کی روح قرآن کے عمومی احکامِ زکوٰۃ و صدقات میں پوری طرح موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ ۝ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ”
(قرآن کریم، سورۃ الاعلیٰ 87:14-15)
مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں "تزکیٰ” سے مراد صدقۂ فطر بھی لیا گیا ہے، جو نمازِ عید سے پہلے ادا کیا جاتا ہے۔ گویا کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو پاکیزگی اختیار کرے اور اللہ کے نام کو یاد کر کے نماز ادا کرے۔
اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا”
(قرآن کریم، سورۃ التوبہ 9:103)
ترجمہ: ان کے مالوں سے صدقہ لیجیے جو انہیں پاک اور صاف کر دے۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ صدقہ محض مالی لین دین نہیں بلکہ تطہیر اور تزکیہ کا ذریعہ ہے۔ فطرانہ بھی اسی طہارتِ مال اور تزکیۂ نفس کا عملی مظہر ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
محمد ﷺ نے صدقۂ فطر کو امت پر لازم قرار دیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں:
"رسول اللہ ﷺ نے صدقۂ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہر آزاد اور غلام، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے مسلمان پر فرض کیا۔”
(صحیح بخاری و صحیح مسلم)
ایک اور حدیث میں ارشاد ہے:
"صدقۂ فطر روزے کو لغو اور فحش باتوں سے پاک کرتا ہے اور مساکین کے لیے کھانے کا انتظام ہے۔”
(سنن ابی داؤد)
یہاں دو اہم حکمتیں بیان ہوئیں
1روزے کی روحانی صفائی
2معاشرتی ہمدردی اور مساوات
فطرانہ گویا رمضان کے پورے تربیتی عمل کا اختتامی درس ہے: عبادت کی تکمیل اور انسانیت کی خدمت۔
فطرانے کی مقدار اور ہماری سوچ
فقہاء نے گندم، جو، کھجور اور کشمش کے حساب سے فطرانے کی مقدار بیان کی ہے۔ ان اشیاء کی قیمت میں واضح فرق ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کون سا معیار اختیار کرتے ہیں؟
کیا ہم اپنی مالی حیثیت کو دیکھتے ہیں؟
یا صرف کم سے کم ادا کر کے بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں؟
اگر ایک شخص مہنگے موبائل پیکجز، برانڈڈ ملبوسات اور پرتکلف افطاریوں پر ہزاروں خرچ کر سکتا ہے، تو کیا وہ اللہ کی راہ میں بہترین چیز پیش نہیں کر سکتا؟؟؟ قرآن کا اصول تو یہ ہے:
"لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ”
(قرآن کریم، آل عمران 3:92)
یعنی تم نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔
فطرانہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ہم کم سے کم نہیں، بلکہ احسن طریقے سے ادا کریں۔ اپنی استطاعت کے مطابق بہتر معیار اختیار کریں تاکہ ہماری ادائیگی عبادت کے ساتھ احسان کا درجہ بھی حاصل کرے۔
فطرانہ ایک روحانی و معاشرتی انقلاب
فطرانہ محض چند سو روپے کی ادائیگی نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے:
1مال کی طہارت کا پیغام
2دل کی سخاوت کا پیغام
3معاشرتی مساوات کا پیغام
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عید کی خوشی صرف نئے کپڑوں اور میٹھائیوں تک محدود نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ ہمارے محلے کا کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے۔
اگر ہم فطرانے کو محض رسمی فریضہ نہ سمجھیں بلکہ اس کی روح کو زندہ کریں، تو یہ چھوٹا سا صدقہ ہمارے معاشرے میں محبت، ہمدردی اور برکت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
فطرانہ کم سے کم ادا کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق بہترین پیش کرنے کا نام ہے۔
یہ مال کو بھی پاک کرتا ہے اور دل کو بھی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح فہم، خلوصِ نیت اور کشادہ دلی کے ساتھ فطرانہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button