مضامین

داد بیداد۔۔بات کرنی مجھے مشکل۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

بہادر شاہ ظفر کا شعر ہے ”بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی، جیسی اب ہے تیری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی“شاعر کا کمال یہ ہوتا ہے کہ اس کا شعر ہر زمانے میں کام آسکے اور کسی بھی دور میں پرانا ہرگز نہ لگے آج کل بہادر شاہ ظفر کی سی مشکل صحافیوں کے سامنے ہے انگریزی کا ایک مقولہ تھا ”جنگ میں سب سے پہلے سچائی کی موت واقع ہوتی ہے“اسرائیل کے وزیراعظم بنجمین نیتن یاہو پچھلے پانج دنوں سے منظر عام پر نہیں آئے افواہ ہے کہ وہ جنگ میں مارے گئے ہیں تاہم صحافیوں پر اسرائیل اور امریکہ میں پا بندی ہے کہ اس کے مرنے کی خبر نشر نہ کی جائے، ایران کے سپریم لیڈر علی خامنائی جان کی بازی ہارگئے تو فوراً اس کی خبر نشرکی گئی کیونکہ ایران نے خبروں پر پابندی نہیں لگا ئی،خبروں پر پابندی کو صحافتی اصطلاح میں سنسر کہاجاتا ہے، غیر مقبول اور کمزور حکومتیں حالت جنگ میں سنسر لگا دیتی ہیں تاکہ ان کا ذا تی مفادمتاثر نہ ہو، بعض غیر مقبول حکومتیں حالت جنگ کے بغیر بھی سنسر لگا دیتی ہیں تا کہ حکمران کی مرضی کے خلاف کوئی خبر ذرائع ابلاغ پہ نشر یا شائع نہ ہو اور یہ سنسر آمریت یا بادشاہت کے نظام میں بہت عام ہے پڑوسی ملک کے شاعر جاوید اختر کی ایک نظم باربار یوٹیوب سے نشر ہوتی ہے نظم کا عنوان ہے ”نیا حکم نامہ“ نظم دلچسپ پیرایہ اظہار میں اس طرح شروع ہوتی ہے ”کسی کا حکم ہے کہ ساری ہوائیں چلنے سے پہلے بتائیں کہ ان کی رفتار کیا ہوگی؟آگے جاکر شاعر کہتا ہے کہ سمندر کی لہریں اپنی حد میں رہیں پھر شاعر کہتا ہے کہ چمن میں ایک ہی رنگ کے پھولوں کی اجازت ہوگی، نظم کافی لمبی ہے اور آمریت کے بخیے ادھیڑ دیتی ہے، آمریت کی اس گھٹن کو جون ایلیا نے ایک نظم میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ اپنے مخصوص اسلوب میں بیان کیا ہے نظم کا عنوان ہے ”ولایت خائباں“ دو مسافر ایک اجنبی ملک کے کسی شہر میں داخل ہو تے ہیں ایک مسافر کا نام بریر ابن سلامہ ہے دوسرے کا نام یا سر ابن جندب ہے سیاح یہاں عجیب منظر دیکھتے ہیں شہر خا موش ہے لوگ اشاروں میں بھی بات نہیں کر تے بلکہ سب کے سب خواب کی حالت میں ہیں تاجر، دہقان، مزدور، خواب کی حالت میں ہیں تاجر، دہقان، مزدور، کو چوان سب پر خواب طاری ہے پھر بھی زندگی رواں دواں ہے کوئی کام رکا ہوا نہیں ہے دونوں مسافروں کو یہ دیکھ کر حیرت ہو تی ہے اس حیرت واستعجاب کی کیفیت میں وہ سستانے کے لئے ایک جگہ رکتے ہیں اس جگہ کا نام ”سرائے سین“ ہے، یہاں انکی ملاقات ایک اور سیاح سے ہوتی ہے سیاح کا نام ہے ”سرمدار کاویانی“ بریر ابن سلامہ پوچھتا ہے یہ کونسی جگہ ہے؟ وہ جواب دیتا ہے اس کو ”ولایت خائباں“ کہتے ہیں، پھر پوچھتا ہے ساری آبادی کیوں سوئی، ہوئی ہے وہ جواب دیتا ہے یہاں کا بادشاہ بہت نیک ہے اُس نے یہاں کے پانی اور ہوا میں خواب آور دوا ملائی ہے، ہم تینوں ابھی نئے نئے ہیں دوانے ہم پراثرنہیں کیا تھوڑی دیر میں ہم بھی خواب کی آغوش میں ہونگے یاسر ابن جندب نے پوچھا اس میں بادشاہ کا کیا فائدہ ہے؟ سرمدار کاویانی نے جواب دیا فائدہ یہ ہے کہ اخباری نمائیندوں اور صحافیوں پر پابندی لگانے، خبروں کو سنسر کرنے یا اپنی مرضی کی با تیں شائع کرنے کے لئے ڈنڈا لیکر گلی گلی گھومنے کی ضرورت نہیں ہوتی اس سلطنت میں نہ خبرآتی ہے نہ سوال ہوتا ہے باد شاہ کو ارام اور سکون ہے، باتوں باتوں میں سرمدار کاویانی کو نید آگئی تھوڑی دیر میں یاسر ابن جندب اور بریر ابن سلامہ بھی سوگئے خرا ٹوں کی آوازیں آئے لگیں، نظم سننے کے بعد سامعین کو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے بادشاہ کو بھی پانی اور ہوا میں خواب آور دوا ملا کر ارام سے حکومت کرنی چاہئیے کوئی نہیں پوچھے گا تم نے 75سالوں میں پچاسویں عالمی جنگ کیوں چھیڑی؟ تمہارے اتحادی ملک کا لاڈلا وزیر اعظم کس کی گولی کا شکار ہوکر مرا؟تمہار ے ملک کے بانی کے نام سب سے بڑا بحری بیڑہ کس کے میزائلوں نے تباہ کیا؟تمہارے تیل اور گیس کے جہازوں کو کس بڑی طاقت نے سمندر میں روک رکھا ہے؟ اڑوس پڑوس میں جو چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں وہ بھی ختم ہونگے قرض میں ڈوبے ہوئے ملک کی لاڈلی وزیراعلیٰ گیارہ ارب ڈالر خرچ کر کے عیاشی کے لئے سرکاری جہاز کیوں خرید رہی ہے؟ دہشت گردی کا شکار ہونے والے ملک کا وزیر اعظم ایک بڑے دہشت گرد کو دوست بناکر ”فرینڈ ز آف ٹیرز“کے نام سے نئے اتحاد کا رکن بننے کی التجا کیوں کررہا تھا، دہشت گرد اتحادکاممبر بننے کے بعد اس کو کیا ملا؟ سب لوگ ولایت خائباں کے باسیوں کی طرح خواب میں ہونگے تو آمریت کو پھلنے پھولنے کا موقع ملیگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button