کسی بھی بحران کی صورت میں بوجھ سب سے پہلے عوام پر ڈالنے کے بجائے حکومت اور ریاستی اداروں کو اپنی مراعات اور اخراجات میں کمی لانی چاہیے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی توانائی اور معاشی بحران کے تناظر میں حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستانی عوام کے مفادات کو مقدم رکھے اور مشکل حالات میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی بحران کی صورت میں بوجھ سب سے پہلے عوام پر ڈالنے کے بجائے حکومت اور ریاستی اداروں کو اپنی مراعات اور اخراجات میں کمی لانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں، بیوروکریسی اور ریاستی اداروں سمیت تمام متعلقہ حلقوں کو چاہیے کہ وہ اپنی پروٹوکول اور غیر ضروری مراعات کم کریں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں اکثر ایسا ہوا ہے کہ مشکل حالات میں قربانی کا بوجھ براہ راست عوام پر ڈال دیا جاتا ہے، حالانکہ ریاستی اداروں کو سب سے پہلے اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا بوجھ عوام پر ڈالنا قابل قبول نہیں اور صوبائی حکومت اس طرز عمل کو مسترد کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کووڈ کی عالمی وبا کے دوران بھی شدید معاشی دباؤ کے باوجود عمران خان کی قیادت میں وفاقی حکومت نے عوام، کاروباری برادری اور غریب طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے تھے جنہیں عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح پالیسی نظر نہیں آتی اور نہ ہی وہ اصلاحات متعارف کرانے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت ہمیشہ اپنے عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی اور ہر اس اقدام کی مخالفت کرے گی جس سے براہ راست عوام پر بوجھ پڑتا ہو۔ وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ اور اراکین اسمبلی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ احساس رمضان دسترخوان پروگرام مستحق افراد کو ریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اضلاع سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں اور اس سلسلے کو مزید مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے۔ وزیراعلیٰ نے مزدور طبقے کی سہولت کے لیے ایک اہم اقدام کا اعلان کرتے ہوئے ہدایت کی کہ صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں “احساس مزدور شیلٹر” قائم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مقامات پر روزگار کی تلاش میں آنے والے مزدوروں کے لیے سایہ دار جگہ، پینے کے صاف پانی اور بنیادی سہولیات کا بندوبست کیا جائے تاکہ انہیں بہتر ماحول میسر آ سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے کے کمزور اور محنت کش طبقات کو سہولت فراہم کی جائے اور انہیں عزت و وقار کے ساتھ روزگار کے مواقع تک رسائی دی جائے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے میڈیا بریف میں کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کابینہ نے بدلتی ہوئی بین الاقوامی صورتحال، پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور قیمتوں پر ممکنہ اثرات اور ملکی معاشی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایندھن بچت اور ذمہ دارانہ طرز حکمرانی کے فیول کنزرویش اینڈ ریسپانسبل گورننس انیشیٹیو کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدامات دو ماہ کے لیے نافذ کیے جائیں گے جن کا مقصد غیر ضروری ایندھن کے استعمال میں کمی لانا اور ساتھ ہی معاشی سرگرمیوں، عید کے سفر اور زرعی سرگرمیوں کو متاثر ہونے سے بچانا ہے۔
میڈیا کو کابینہ کے اہم فیصلوں پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت سرکاری محکمے سرکاری امور کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا زیادہ استعمال کریں گے۔ صوبائی اور ضلعی سطح کے اجلاس زیادہ تر آن لائن پلیٹ فارمز جیسے زوم کے ذریعے منعقد کیے جائیں گے جبکہ سرکاری فائلوں کی نقل و حرکت کے لیے ای آفس سسٹم کے استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔ ای آفس کی سہولت کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز تک بھی بڑھا دی گئی ہے تاکہ کاغذ کے بغیر نظامِ حکمرانی کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی دفاتر میں جہاں ممکن ہو 50 فیصد تک ورک فرام ہوم کی سہولت دی جائے گی جبکہ بین الاضلاعی سرکاری سفر کو کم سے کم رکھا جائے گا۔ اسی طرح معمول کے رابطہ اجلاس اور جائزہ اجلاس بھی آن لائن منعقد کیے جائیں گے تاکہ سفر کی وجہ سے ہونے والے ایندھن کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔
شفیع جان کے مطابق کابینہ نے سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کے کوٹے میں 25 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ تاہم پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ریسکیو اور ہنگامی خدمات اور فیلڈ آپریشنز سے متعلق اداروں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وی آئی پی پروٹوکول گاڑیوں کے قافلے کم کیے جائیں گے جبکہ سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال صرف ہنگامی حالات تک محدود ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت غیر ضروری فرنیچر اور سامان کی خریداری محدود کی جائے گی جبکہ سیمینارز، ورکشاپس اور کانفرنسز کو کم کر کے زیادہ تر آن لائن منعقد کیا جائے گا۔ سرکاری ضیافتوں اور استقبالیوں پر پابندی برقرار رہے گی اور سرکاری اجلاسوں کے لیے صرف سرکاری عمارتوں اور سہولیات کا استعمال کیا جائے گا۔ان کے مطابق ایندھن اور توانائی کے استعمال میں کمی کے لیے تعلیمی ادارے جمعہ کے دن بند رہیں گے جبکہ ادارے اور جامعات کو جہاں ممکن ہو آن لائن سماعت اور ہائبرڈ کلاسز اپنانے کی ترغیب دی جائے گی۔ ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے مختلف دفاتر کے اوقات کار میں بھی تبدیلی کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔شہری علاقوں میں توانائی کی بچت کے لیے شادی ہالز، پلازوں اور مارکیٹوں میں غیر ضروری اور سجاوٹی روشنیوں کو محدود کیا جائے گا جبکہ شادی ہالز کے رات گئے تک کھلے رہنے پر بھی پابندیاں لگائی جائیں گی۔ کاروباری مراکز کو بھی غیر ضروری روشنی کم کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک مینجمنٹ کے بہتر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ٹریفک جام کے باعث ایندھن کے ضیاع کو کم کیا جا سکے۔ شہریوں کو بالخصوص عید کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کی ترغیب دی جائے گی اور غیر ضروری سفر کم کرنے کی اپیل کی جائے گی۔شفیع جان نے واضح کیا کہ ایندھن بچت کے اقدامات سے کمزور طبقات یا اہم معاشی شعبوں کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالکان کے لیے پہلے سے اعلان کردہ ریلیف فراہم کیا جائے گا جبکہ اگر کرایوں میں اضافہ کا دباؤ پیدا ہوا تو پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے بھی مخصوص معاونت پر غور کیا جائے گا۔ سڑکوں پر ٹول ٹیکس یا پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے کے تحفظ کے لیے گندم کی کٹائی کے دوران ڈیزل کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور زرعی اضلاع میں ڈیزل کی دستیابی کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔ ڈیزل کی ذخیرہ اندوزی یا غیر قانونی ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ روزانہ کی بنیاد پر پٹرول پمپس پر ایندھن کے ذخائر کی نگرانی کرے گی اور اس حوالے سے رپورٹ صوبائی حکومت کو بھیجے گی۔ ایندھن کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
شفیع جان کے مطابق کابینہ نے پشاور ریویٹالائزیشن پلان کے تحت بلدیات، مواصلات و تعمیرات اور آبپاشی کے محکموں کی مختلف اسکیموں کی بھی منظوری دی ہے۔ ان منصوبوں میں سڑکوں کی بہتری، انڈر پاسز کی تعمیر، ٹریفک مینجمنٹ کے ڈھانچے کی ترقی، یادگاروں کی تنصیب اور سٹریٹ لائٹس کی تنصیب شامل ہیں انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ضم اضلاع میں 120,000 غریب گھرانوں کی سولرائزیشن کے لیے ایک نان اے ڈی پی اسکیم کی بھی منظوری دی ہے۔سماجی بہبود کے شعبے میں کابینہ نے خصوصی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم معذور طلبہ کے لیے سردیوں کے کپڑوں کی فراہمی کے لیے 41.73 ملین روپے کی منظوری دی۔ اسی طرح رمضان دسترخوان کے لیے 168.72 ملین روپے بطور گرانٹ اِن ایڈ اور رمضان ریلیف پیکج کے مستفید ہونے والے خاندانوں کی تعداد بڑھا کر 10 لاکھ 57 ہزار 673 کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔کابینہ نے موجودہ مالی سال 2025-26 کے دوران اخبارات کی واجبات کی ادائیگی کے لیے 400 ملین روپے بطور سپلیمنٹری گرانٹ جاری کرنے کی بھی منظوری دی، جبکہ باقی رقم آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں مختص کی جائے گی۔مزید برآں کابینہ نے اسکیم “سوشل میڈیا پارٹیسپیٹری پلیٹ فارمز کے قیام” کے تحت باقی واجبات کی ادائیگی کے لیے 41.018 ملین روپے کی نان اے ڈی پی اسکیم کی بھی منظوری دی۔کابینہ نے ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ رولز میں ترامیم اور خیبرپختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کی بھی منظوری دی۔اجلاس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، ایڈیشنل چیف سکریٹریز، سئنیر ممبر بورڈ آف ریونیو اور انتظامی سیکریٹریز نے شرکت کی۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



