رمضان پیکج غریب اور نادار طبقے کو ملنے کے بجائے صرف پی ٹی آئی کے ورکرز کو ملے۔ جو کہ سراسر نا انصافی ہے۔ سلیم خان صوبائی نائب صدر پی پی پی

پشاور(پریس ریلیز) سابق صوبائی وزیر پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے ایک پریس ریلیز میں کہاہے کہ گزشتہ دنوں صوبائی حکومت کی طرف سے رمضان پیکج صرف پی ٹی آئی کے ورکرز کو ملے ہیں جبکہ غریب اور مستحق افراد اس امداد سے محروم رہے۔ جس کی ہم پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
اس نا انصافی اور اقربا پروری کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک کارکن نصیر الدین و دیگر نے سوشل میڈیا میں جب آواز اٹھائی تو پی ٹی آئی کے سابق جنرل سکریٹری و کنوینر تحصیل کونسل چترال فخر اعظم کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن نصیر الدین و دیگر کے خلاف پیکا ایکٹ تحت کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جس کی ہم پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں۔ چوری اوپر سے سینہ زوری۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت بلا تفریق ہر غریب کو مالی امداد ملتی ہے اسی طرح رمضان پیکج بھی بلا تفریق ہر غریب اور نادار کو ملتا تو اس کے اوپر کسی کا اعتراض نہ ہوتا۔
یہاں ھمارا گیلہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن چترال سے بھی ہے کہ انہوں صرف ایک پارٹی پی ٹی آئی کے ذمہ داران سے لسٹیں طلب کیے۔ باقی نادار لوگوں کی شنوائی نہیں ہوئی۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جو بھی عوامی نمایندہ یا کوئی سرکاری افسر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے اقربا پروری اور کرپشن کرے گا اس کے خلاف آواز اٹھانا ہر ایک ذمہ دار شہری کا بنیادی حق ہے۔ اگر نصیر الدین و دیگر حضرات نے چترال میں جاری کربشن کے خلاف اگر آواز اٹھائی ہے تو کوئی جرم نہیں کیا۔ اگر کرپشن کے خلاف آواز اٹھانا جرم ہے تو اس جرم کو ہم بار بار دہرائیں گے۔
رمضان پیکج غریب اور نادار طبقے کیلئے ہے نہ کہ مالدار اور پی ٹی آئی کے ورکرز کیلئے ہے۔ پورے ملک میں ہر سال بنکوں میں موجود لوگوں کے پیسوں سے ذکواۃ کاٹ کر غریب اور بے سہارا لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ مگر ہمارے صوبے میں جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے اس فنڈ کو مال غنیمت سمجھ کر پی ٹی آئی کے نمائندے اور دیگر ذمہ داران ہر سال اپنے ورکروں میں تقسیم کرتے ہیں۔ جس کی شدید الفاظ میں ہم مذمت کرتے ہیں۔
اس سے پہلے بھی چترال لویر اور اپر میں ڈیزاسٹر فنڈز کے استعمال میں بھی جس طرح کرپشن ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ سارے کہانیاں ہم نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے اپنے ورکرز سوشل میڈیا میں بار بار پوسٹیں لگا کر کرتے ہیں۔ اور یہ سب باتیں حقیقت پر مبنی ہیں۔
انشاء اللہ پاکستان پیپلز پارٹی بہت جلد چترال میں جاری کرپشن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرکے تمام حقائق سے چترال کے عوام کو آگاہ کریگی۔
میں محکمہ آنٹی کرپشن و دیگر حکومتی اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ چترال میں جاری ترقیاتی کاموں میں کرپشن اور رمضان پیکج کی تقسیم میں کرپشن کی شفاف انداز میں تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔



