مضامین

جہانِ خیال ……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی — علم، ظرف اور انسانیت کا روشن چراغ….. تحریر: عتیق الرحمن

قابلِ تکریم استادِ محترم جناب ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب سے میرا تعلق اُس وقت قائم ہوا جب شعور کی آنکھ نے دنیا کو سمجھنا شروع کیا۔ یہ تعلق محض ایک رسمی تعارف تک محدود نہ رہا بلکہ رفتہ رفتہ ایک گہرے فکری اور نظریاتی رشتے میں ڈھل گیا۔ استاد کی سادہ طبیعت، وسیع مطالعہ اور گہرا معاشرتی شعور ہمیشہ میری رہنمائی کا سبب بنتا رہا۔ سماجی تنظیم “روز” میں اُن کے ساتھ مل کر خدمت کا موقع ملا، جہاں نہ صرف سیکھنے کے بے شمار مواقع میسر آئے بلکہ عملی تجربات نے میرے فکر و نظر کو نئی جہت عطا کی۔
مختصر تعارف کے طور پر، استادِ محترم ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب چترال سے تعلق رکھنے والے ایک ممتاز دانشور، مصنف، کالم نگار اور سماجی و ثقافتی شخصیت ہیں۔ چترال کی تاریخ، ثقافت اور زبان پر اُن کی گہری نظر اور تحقیقی کام نے انہیں ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔ ثقافتی ورثے کے تحفظ، مقامی زبانوں کے فروغ اور سماجی مسائل پر اُن کا متوازن اور سنجیدہ تجزیہ اُن کی پہچان ہے۔ مختلف اخبارات و جرائد میں اُن کی کالم نویسی عوامی شعور کو جِلا بخشتی ہے، جبکہ تعلیم، سیاحت اور معاشرتی موضوعات پر اُن کی تحریریں مقامی کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی آگاہی کا مؤثر ذریعہ ہیں۔
ہمارے دادا محترم امیر خان میر صاحب، جو ایک باوقار ادیب، قادرالکلام شاعر اور سماجی و سیاسی شعور رکھنے والی شخصیت تھے، کے ساتھ اُن کی محبت بھری اور دیرپا دوستی قائم رہی، جسے انہوں نے ہمیشہ خلوص، وفاداری اور احترام کے ساتھ نبھایا۔ ہم اس رشتے کے چشم دید گواہ ہیں اور اسے اپنے لیے باعثِ سعادت اور باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔
یونیورسٹی سے فراغت کے بعد جب میں نے ایک بین الاقوامی ادارے میں تحقیقاتی ذمہ داریاں سنبھالیں تو تجربے کی کمی ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی۔ دو رپورٹس کی تکمیل کے بعد جب تیسری رپورٹ دشوار محسوس ہونے لگی تو میں نے استادِ محترم سے رہنمائی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُن کی عظمت کو سلام کہ انہوں نے نہایت شفقت اور خلوص سے فرمایا: “آپ کہاں ہیں؟ میں آتا ہوں۔” یہ مختصر جملہ اُن کے اعلیٰ ظرف، علم دوستی اور شاگرد نوازی کا زندہ ثبوت ہے۔
اُس روز کی رہنمائی نے نہ صرف ایک مشکل مرحلہ آسان کیا بلکہ تحقیق کے وہ بنیادی اصول سکھائے جو آج تک میری پیشہ ورانہ زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ استاد کی سادگی، عاجزی اور اخلاص بھی قابلِ تقلید ہیں، جو اُن کی شخصیت کو مزید باوقار اور مؤثر بناتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس عظیم ہستی کو صحتِ کاملہ، سلامتی اور درازیٔ عمر عطا فرمائے تاکہ وہ اسی طرح علم و آگہی کی شمع روشن رکھتے ہوئے نئی نسلوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button