عیادت فاؤنڈیشن ۔۔ خدمت خلق کا روشن چراغ………تحریر: ابوسلمان

انسانی معاشرہ صرف اینٹوں اور سڑکوں کا مجموعہ نہیں بلکہ احساس، ہمدردی اور باہمی تعاون کا ایک زندہ پیکر ہے۔ جب زندگی کی راہوں میں بیماری، غربت اور بے بسی کے اندھیرے چھا جاتے ہیں تو وہی معاشرے روشن رہتے ہیں جہاں کچھ دل دوسروں کے لیے دھڑکتے ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو عام سے خاص اور فرد سے انسانیت کا سفیر بنا دیتا ہے۔
آج کے اس پُرآشوب دور میں، جہاں مہنگائی اور بے روزگاری نے عام آدمی کی زندگی کو مشکلات میں جکڑ رکھا ہے، بیماری ایک ایسا امتحان بن چکی ہے جو نہ صرف جسم بلکہ انسان کے حوصلے کو بھی کمزور کر دیتا ہے۔ ہسپتالوں کے اخراجات، مہنگی ادویات اور علاج کی کمی ایسے مسائل ہیں جو غریب طبقے کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی ہاتھ سہارا بن کر اُٹھے، کوئی دل ہمدردی سے لبریز ہوتو یہ محض مدد نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت اور انسانیت کی حقیقی خدمت ہے۔
قرآنِ کریم ہمیں نیکی اور تعاون کا درس دیتے ہوئے فرماتا ہے:
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ
“نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو”
(سورۃ المائدہ: 2)
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بیمار کی عیادت کو بے مثال فضیلت عطا فرمائی:
“مَنْ عَادَ مَرِيضًا، نَادَى مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ، وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا”
“جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے، آسمان سے آواز دی جاتی ہے: تم پاک ہو گئے، تمہارا چلنا مبارک ہوا، اور تم نے جنت میں اپنا مقام بنا لیا”
(ترمذی)
اور ایک حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“يَا ابْنَ آدَمَ! مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي…”
“اے ابنِ آدم! میں بیمار ہوا، تو نے میری عیادت نہ کی…”
(صحیح مسلم)
یہ تعلیمات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ عیادتِ مریض صرف ایک سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔
انہی تعلیمات کو عملی شکل دینے والی ایک روشن مثال عیادت فاؤنڈیشن چترال ہے۔ یہ ادارہ محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک زندہ احساس، ایک تحریک اور ایک مشن ہے، جس کا بنیادی مقصد دکھی انسانیت کی خدمت اور خصوصاً مریضوں کی دیکھ بھال ہے۔
فاؤنڈیشن کے اغراض و مقاصد نہایت واضح اور بامقصد ہیں
1: غریب اور مستحق مریضوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنا
2: ادویات اور میڈیکل ٹیسٹ کی سہولت بلا معاوضہ مہیا کرنا
3: معاشرے میں عیادتِ مریض اور خدمتِ خلق کے شعور کو اجاگر کرنا
4: اہلِ خیر اور مخیر حضرات کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تاکہ وہ اپنی 5:زکوٰۃ، صدقات اور عطیات مستحقین تک پہنچا سکیں
6: ایک ایسا فلاحی نظام قائم کرنا جو مستقل بنیادوں پر انسانیت کی خدمت کرتا رہے
یہی وہ مقاصد ہیں جو اس ادارے کو ایک عام تنظیم سے بڑھا کر ایک عظیم انسانی مشن بنا دیتے ہیں۔
پشاور میں منعقدہونے والا افتتاحی پروگرام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ فاؤنڈیشن اپنے مشن کو باقاعدہ اور منظم انداز میں آگے بڑھا رہی ہے۔ یہ پروگرام نہ صرف ایک رسمی تقریب ہے بلکہ ایک دعوتِ فکر ہےایک پیغام ہے کہ آئیں! ہم سب مل کر انسانیت کی خدمت کے اس قافلے کا حصہ بنیں۔
یہ بات بھی نہایت قابلِ تحسین ہے کہ عیادت فاؤنڈیشن نے فری میڈیکل سینٹر کے قیام کے ذریعے ایک ایسا عملی قدم اٹھایا ہے جس سے براہِ راست مستحق افراد مستفید ہوں گے۔ یہاں نہ صرف علاج بلکہ ادویات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا رہی ہے، جو اس دور میں کسی نعمت سے کم نہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایسے ادارے معاشرے کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ یہ وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں روشنی بانٹتے ہیں، یہ وہ ہاتھ ہیں جو گرتوں کو سہارا دیتے ہیں، اور یہ وہ دل ہیں جو دوسروں کے لیے دھڑکتے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔ اگر ہم مالی طور پر مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم دعا، حوصلہ افزائی اور آگاہی کے ذریعے اس مشن کا حصہ بن سکتے ہیں۔ کیونکہ نیکی کا ہر عمل، چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اللہ کے ہاں بڑا مقام رکھتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ عیادت فاؤنڈیشن چترال ایک امید، ایک روشنی اور ایک پیغام ہےیہ پیغام کہ اگر نیت خالص ہو اور جذبہ سچا ہو تو محدود وسائل بھی انسانیت کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
آئیے! ہم سب اس چراغ کو جلائے رکھنے میں اپنا حصہ ڈالیں، تاکہ یہ روشنی نسلوں تک پھیلتی رہے اور ہر بیمار، ہر مجبور اور ہر دکھی دل کو سکون اور امید کا پیغام دیتی رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین



