شیشے کے گھر میں سیاست: چترال کا گرم ماحول، الزامات اور حقیقت کی تلاش:بشیر حسین آزاد۔

چترال کی سیاست ایک بار پھر شدید گرما گئی ہے۔ سوشل میڈیا، جلسوں اور عوامی بیانات میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کررہی ہیں، جس سے عام شہری شدید کنفیوژن کا شکار ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں ایک ہی سوال گردش کررہا ہے: کون سچا ہے اور کون محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کررہا ہے؟
حالیہ دنوں ایک ویڈیو میں جماعتِ اسلامی کے رہنما حاجی مغفرت شاہ نے چترال کی سیاست، ترقیاتی فنڈز میں مبینہ کرپشن، بعض سیاسی شخصیات کی شمولیت اور ارندو کے جنگلات سے متعلق معاملات پر کھل کر گفتگو کی۔ ان کے بیانات نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی حکومت اور ضلعی انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ترقیاتی فنڈز میں بڑے پیمانے پر خرد برد ہوئی ہے اور ان کے پاس اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی ایسے شواہد موجود ہیں تو کیا انہیں صرف تقاریر تک محدود رکھنا کافی ہے؟ ایک سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویہ یہی تقاضا کرتا ہے کہ ایسے معاملات عدالتوں اور متعلقہ اداروں کے سامنے پیش کیے جائیں تاکہ شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے آسکیں۔ محض الزامات لگانے سے نہ صرف سچ دھندلا جاتا ہے بلکہ عوام میں بداعتمادی بھی جنم لیتی ہے۔
دوسری جانب، سیاسی مخالفین کی جانب سے مغفرت شاہ کے ماضی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گولین ہائیڈرو پاور منصوبے سے متعلق ایک پرانے کیس، زمین کے معاملات اور بطور ضلع ناظم بعض فیصلوں پر تنقید کی جارہی ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ جب تک ایک رہنما خود کو مکمل شفاف ثابت نہ کرے، اس کے الزامات کی اخلاقی حیثیت کمزور رہتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر کہا جاتا ہے کہ “شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر سنگ باری نہیں کرنی چاہیے۔”
اسی تناظر میں سینیٹر طلحہ محمود کی چترال کی سیاست میں شمولیت پر اعتراض بھی زیرِ بحث ہے۔ “غیر مقامی” ہونے کا اعتراض ایک حساس معاملہ ہے، مگر جمہوری اصولوں کے مطابق اصل فیصلہ عوام کی رائے پر منحصر ہوتا ہے۔ ماضی کے سیاسی اتحادوں کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے بعض حلقے موجودہ مؤقف کو اصولی سے زیادہ سیاسی حکمتِ عملی قرار دے رہے ہیں۔
ارندو کے جنگلات اور ٹمبر کے معاملے پر بھی بیانات سامنے آئے ہیں، تاہم اس مسئلے کا تاریخی پس منظر نہایت اہم ہے۔ 2004 سے 2013 کے دوران یہ علاقہ بدامنی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار رہا، جہاں سرکاری عملداری کمزور تھی اور غیر قانونی سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ ایسے حالات میں اجتماعی الزام تراشی کے بجائے ٹھوس شواہد اور قانونی کارروائی ناگزیر ہے، ورنہ یہ مسئلہ مزید پیچیدگی اختیار کر سکتا ہے۔
سیاسی ماحول کی اس کشیدگی میں ایک اور پہلو بھی نمایاں ہے۔ ایک طرف مغفرت شاہ پر تنقید کی جارہی ہے، تو دوسری جانب ان کے حامی انہیں ایک نڈر، مخلص اور عوام دوست رہنما قرار دیتے ہیں، ان کے مطابق چترال جیسے دور افتادہ علاقے میں ایسے رہنماؤں کی موجودگی امید کی کرن ہے۔
اسی دوران مہنگائی کا مسئلہ بھی زیرِ بحث ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تمام سیاسی جماعتوں کو واضح اور عملی مؤقف اختیار کرنا چاہیے، مگر اس پر خاموشی یا کمزور ردعمل سوالات کو جنم دیتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چترال کی موجودہ سیاسی صورتحال الزامات، جوابی الزامات اور بیانیوں کی جنگ بن چکی ہے۔ سوشل میڈیا نے اس آگ کو مزید بھڑکا دیا ہے، جہاں بغیر تصدیق کے دعوے تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ ایسے میں سب سے زیادہ نقصان عوامی اعتماد کو پہنچ رہا ہے۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ سیاسی قیادت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ اگر کسی کے پاس کرپشن یا بدعنوانی کے شواہد موجود ہیں تو انہیں عدالتوں اور تحقیقاتی اداروں کے سامنے پیش کیا جائے۔ ذاتیات پر حملوں اور سوشل میڈیا ٹرائلز کے بجائے قانون اور شفافیت کو ترجیح دی جائے۔
چترال کے عوام ترقی، امن اور استحکام چاہتے ہیں۔ وہ سیاسی تماشے نہیں بلکہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر سیاسی رہنما واقعی عوام کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں تو انہیں الزام تراشی کے بجائے کارکردگی، شفافیت اور سنجیدہ طرزِ سیاست کو فروغ دینا ہوگا—ورنہ یہ “شیشے کے گھر” کی سیاست خود اپنے ہی بوجھ تلے ٹوٹ سکتی ہے۔



