داد بیداد..ہندوکش کے سائے تلے..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

سید منظر حسین کی کتاب ”ہندوکش کے سائے تلے“ ایک ایسی کتاب ہے جس کو سفرنامہ بھی کہا جا سکتا ہے اور آپ بیتی کے پردے میں جگ بیتی کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس کی پہلی خوبی یہ ہے کہ اس میں ناول کی خوبیاں موجود ہیں لیکن پلاٹ اور کہانی نہیں۔ کرداروں کے نام فرضی ہیں اور بات پہلے صفحے پر جس اقتباس سے شروع ہوتی ہے 278 صفحے پر اس اقتباس پر ختم ہوتی ہے۔ جزئیات نگاری اور منظر نگاری بہت اچھی ہے، بعض جگہ محاکات پر مثنوی کا گمان ہوتا ہے۔
مصنف خیبر پختونخوا کے نو زائیدہ ضلع اپر چترال کے ہیڈکوارٹر بونی کا باشندہ ہے۔ حسن اتفاق سے سید شاہ رضائے ولی زندہ پیر کی نسل سے شاہ پیر شاہ کے تین بیٹوں میں سے سب سے چھوٹا ہے۔ بڑا بھائی سید میر حسین شاہ مثالی گھڑ سوار اور ماہر زراعت ہے، منجھلا بھائی سید سردار حسین شاہ فن خطابت کا ماہر ہے۔ وہ مجمع سے خطاب کرے تو سید عطاء اللہ شاہ بخاری، شورش کاشمیری اور کوثر نیازی کی خطابت کے جوہر یاد آتے ہیں۔ چھوٹا بھائی اگرچہ ”برادر خور مباش“ کے زمرے میں نہیں آیا، تاہم دو بھائیوں کے ہم پلہ شمار نہیں ہوتا تھا۔ ”ہندوکش کے سائے تلے“ لکھ کر اپنے بھائیوں کے کندھوں سے کندھا ملانے کے قابل ہوا ہے۔کتاب کے 223 ابواب ہیں جن کے دلچسپ نام رکھے گئے ہیں، مثلاً سمگلنگ قدیم ذریعہ معاش، مہمانوں کا رقص شکر گزاری، جھونپڑی کے اندر محل عالیشان، بروغل مافیا، دو روپے کا بھاری جرمانہ، دکاندار کی بیٹی، فیس بک کے صحافی، نفس کا گھوڑا، سونے کا کموڈ وغیرہ۔ ہر باب کا عنوان قاری کو دعوت دیتا ہے کہ پہلے مجھے پڑھو۔
اگر کتاب میں آنے والے کرداروں کے فرضی ناموں پر غور کیا جائے تو ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں میں آنے والے کردار یاد آ جاتے ہیں۔ ریشن ملا، منشی عزیز، خسرو تیموری، نیک محمد وغیرہ ایسے ہی نام ہیں۔
ناول نما سفرنامے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں مہم جوئی ہے۔ ایک مہم جو اپر چترال کی وادی یارخون پاور سے روانہ ہوتا ہے۔ یہ نصف صدی پہلے کا واقعہ ہے۔ اس کے پاس 8 کلو مال (چرس) ہے، جسے پولیس ناکوں اور چونگی والوں سے چھپانے کے لیے کبھی پہاڑوں پر چڑھتا ہے، کبھی دریا میں کودتا ہے۔ دریا میں تیرنے کے لیے کھال سے بنا ہوا مشکیزہ (دریل) اس کے پاس ہے۔ دریا میں کودنے سے پہلے اپنا مال مشکیزے میں چھپاتا ہے، پھر اس میں ہوا بھر کر دریا میں ڈالتا ہے اور اس کے سہارے تیرتا ہوا دور نکل جاتا ہے۔
سفرنامہ اُس وقت مزید دلچسپ ہو جاتا ہے جب مہم جو لاسپور کے بشقار گول سے درہ کچی کھنی کے راستے کالام، چار باغ اور مینگورہ سے ہوتے ہوئے چکدرہ پہنچ کر مال کے لیے بیوپاری تلاش کرتا ہے۔ پھر شموزی کا چکر لگا کر بونیر کے راستے مردان تک سفر کرتا ہے۔ مال فروخت ہوتا ہے اور ضرورت کی چیزیں خرید کر واپسی کا فیصلہ کرتا ہے۔
مہم جو اپر چترال کی وادی بروغل کا دورہ کر کے مفید معلومات قارئین تک پہنچاتا ہے، جو واخی، قرغیز اور سریقولی کمیونٹی کے طرز معاشرت اور ان کے مسائل کا احاطہ کرتی ہیں۔ سفرنامے کے اندر دو مقامات پر اصل کردار اپنے اصلی ناموں کے ساتھ سامنے آتے ہیں: بروغل میں مرزا رفیع اور چکدرہ میں قمر دین۔
مہم جو جہاں جاتا ہے وہاں پائے جانے والے معدنیات، جواہرات، حیوانات (Fauna) اور نباتات (Flora) کے بارے میں پوری تفصیل لکھتا ہے، نیز معاشرتی ناانصافی اور سرکاری سکیموں میں خوردبرد سے بھی پردہ اٹھاتا ہے۔ کہیں کروڑوں روپے کی لاگت والی نہر دکھاتا ہے جس میں کبھی پانی نہیں آیا، کہیں اربوں روپے لاگت والی سڑک کا ذکر لے آتا ہے جو صرف کاغذوں میں ہے۔ ایک جگہ لاکھوں روپے کی لاگت سے ہونے والی شجرکاری دکھاتا ہے جس کے تحت ہزاروں پودے بے آب و گیاہ بیابان میں پانی کے بغیر قصداً ضائع کیے گئے۔
الغرض ”ہندوکش کے سائے تلے“ ایسا سفرنامہ ہے جو طلسم ہوش ربا اور فسانہ آزاد سے قدرے مشابہت رکھتا ہے۔ بقول شاعر:
لکھتے رہے جنوں کی حکایت خوں چکاں
ہر چند ہاتھ اس میں ہمارے قلم ہوئے



