مضامین

​چترال میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کا کردار: عوامی تاثرات، توقعات اور پرنس رحیم آغا خان کا دورہ …….​تحریر: بشیر حسین آزاد۔۔

​چترال کی جغرافیائی پوزیشن، سخت موسم اور ماضی کی سفری صعوبتوں نے اسے طویل عرصے تک ملک کے دیگر حصوں سے کاٹے رکھا۔ ایسے کٹھن حالات میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این) اور اس سے وابستہ ذیلی اداروں نے چترال کی سماجی و معاشی ترقی میں ایک کلیدی اور تاریخی شراکت دار کا کردار ادا کیا ہے۔ دہائیوں پر محیط اس طویل سفر میں نیٹ ورک نے محض چند شعبوں تک محدود رہنے کے بجائے یہاں کی زندگی کے لگ بھگ ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ تاہم، کسی بھی بڑے ترقیاتی نیٹ ورک کی طرح، عوامی سطح پر اس کے کردار کو جہاں زبردست پذیرائی ملتی ہے، وہاں مستقبل کے لیے نئی توقعات اور بعض پہلوؤں پر تحفظات بھی سامنے آتے ہیں، جو کہ ایک متحرک معاشرے کی واضح علامت ہے۔
​عوامی سطح پر ایک بڑی اور واضح اکثریت اس بات کا کھل کر اعتراف کرتی ہے کہ اے کے ڈی این نے چترال کے دور افتادہ اور کٹھن دیہی علاقوں میں زندگی کا نقشہ بدلنے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان خدمات کا دائرہ کار تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے تک پھیلا ہوا ہے۔ آغا خان اسکولز، خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے لیے، اور آغا خان ہیلتھ سروسز نے چترال کے کونے کونے میں بنیادی خدمات پہنچائیں۔ زچگی اور بچوں کی صحت کے مراکز نے دور دراز وادیوں میں شرح اموات کو کم کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ اسی طرح کمیونٹی کی شراکت داری سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور چھوٹے پیمانے پر راستوں، پلوں اور لنک روڈز کی تعمیر نے مقامی آبادی کی زندگی کو آسان بنایا۔ آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے تحت خواتین کی تنظیمیں قائم کی گئیں، جس سے چترال کی خواتین کو پہلی بار اقتصادی فیصلوں میں شامل ہونے اور ہنر سیکھنے کا موقع ملا۔ مزید برآں جدید زرعی طریقے، پھلوں کی باغبانی، اور لائیوسٹاک کی بہتری کے منصوبوں نے چترال کے روایتی کسان کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔
​دوسری جانب، جہاں اس نیٹ ورک کی خدمات کا ایک وسیع اعتراف موجود ہے، وہاں مختلف عوامی، سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے کچھ مخلصانہ تحفظات اور سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ یہ آراء چترال کے بدلتے ہوئے سماجی شعور کی عکاسی کرتی ہیں۔ کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات چترال کے تمام علاقوں میں یکساں طور پر تقسیم نہیں ہو سکے۔ بعض دور افتادہ وادیاں اب بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ کچھ مخصوص علاقوں کو دیگر پر فوقیت دی گئی۔ اسی طرح آغا خان فاؤنڈیشن کے تحت لگائے گئے چھوٹے بجلی گھروں (منی ہائیڈرو پراجیکٹس) نے چترال کو اس وقت روشنی دی جب یہاں اندھیرا تھا۔ لیکن اب بعض حلقوں کی جانب سے ان منصوبوں کی موجودہ افادیت، دیکھ بھال کی کمی، اور سردیوں میں پانی کی کمی کے باعث لوڈشیڈنگ کے تسلسل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ چترال کے بعض پسماندہ بیلٹس میں آج بھی صحت اور تعلیم کے ایسے بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے جو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، جس کی وجہ سے مقامی آبادی میں اب بھی محرومی کا احساس پایا جاتا ہے۔
​انہی وجوہات کی بنا پر چترال کے عوام اب اے کے ڈی این کو روایتی طریقوں سے آگے بڑھ کر جدید چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ عوامی حلقوں کی جانب سے یہ بنیادی توقعات ظاہر کی جا رہی ہیں کہ ترقیاتی منصوبوں کو پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں تک مزید وسعت دی جائے اور نوجوانوں کے لیے آئی ٹی اور جدید ہنر کی تربیت کے مواقع بڑھائے جائیں۔ بدلتے وقت کے ساتھ اب چترال کا نوجوان صرف روایتی زراعت پر انحصار نہیں کرنا چاہتا، بلکہ وہ ڈیجیٹل اکانومی، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ معیار کے روزگار کے مواقع کا طلب گار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صحت اور تعلیم کے اداروں میں جدید ترین مشینری کی فراہمی اور آبپاشی، سڑکوں اور بڑے توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔
​اس تمام پس منظر میں، اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان کے فرزند، پرنس رحیم آغا خان کا چترال اور گلگت بلتستان کا دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ عوامی اور سماجی حلقے اس دورے کو چترال کی تقدیر بدلنے کے ایک سنہری موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس دورے سے یہ بڑی توقعات وابستہ ہیں کہ پرنس رحیم آغا خان خود مختلف علاقوں کا دورہ کر کے ماضی اور حال کے منصوبوں کے حقیقی اثرات اور کمیونٹی کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ عوامی حلقوں کو یہ امید بھی ہے کہ وہ نیٹ ورک کے اداروں میں مزید شفافیت، فنڈز کے درست استعمال اور میرٹ کو یقینی کرنے کے لیے نئی ہدایات جاری کریں گے۔
​چترال کی اصل خوبصورتی اس کا مثالی امن اور دونوں بڑی کمیونٹیز (سنی اور اسماعیلی) کا آپسی بھائی چارہ ہے۔ عوام پرامید ہیں کہ پرنس رحیم آغا خان کی جانب سے ایسے جامع منصوبوں کا اعلان ہوگا جس سے بلا تفریقِ رنگ و نسل اور مسلک، پورے چترال کے غریب طبقے کو یکساں فائدہ پہنچے اور علاقائی ہم آہنگی مزید مضبوط ہو۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ چترال کی جدید تاریخ اے کے ڈی این کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے، جس نے مشکل ترین وقت میں اس خطے کا ہاتھ تھاما۔ لیکن آج کا چترال ماضی سے مختلف ہے؛ یہاں شعور بیدار ہو چکا ہے اور ضرورتیں بڑھ چکی ہیں۔ پرنس رحیم آغا خان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چترال کو موسمیاتی تبدیلیوں، سیلابوں اور بے روزگاری جیسے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ عوامی حلقوں کا یہ ماننا بالکل بجا ہے کہ اگر اس دورے کے دوران زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے، تمام تحفظات کو دور کیا جائے اور مستقبل کے لیے ایک زیادہ مؤثر، شفاف اور وسیع البنیاد ترقیاتی حکمتِ عملی وضع کی جائے، تو یہ چترال کی پائیدار ترقی کے لیے ایک نیا سنگِ میل ثابت ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button