اپر چترال میں امن و امان کے نام پر دفعہ 144 نافذ، ہر قسم کے اجتماعات اور ریلیوں پر پابندی؛ عوامی حلقوں میں کئی سوالات نے جنم لے لیا

اپرچترال/ضلع اپر چترال کی انتظامیہ نے امن و امان کی ممکنہ مخدوش صورتحال، نقصِ امن کے خدشات، سیکیورٹی خطرات اور عوامی تحفظ کو جواز بنا کر فوری طور پر پورے ضلع میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔یہ فیصلہ ڈپٹی کمشنر و ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اپر چترال محمد عمران خان کی جانب سے جاری کردہ ایک ہنگامی سرکاری حکم نامے کے ذریعے کیا گیا ہے تاہم، اس نفاذ نے چترال کے عوامی اور سیاسی حلقوں میں کئی سنگین سوالات کو جنم دے دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب علاقے میں عوامی مسائل پر شدید احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ڈپٹی کمشنر اپر چترال کی جانب سے جاری کردہ آرڈر نمبر 8209-14 /DCCU/Reader/A-13 کے مطابق، مجموعہ ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کی دفعہ 144 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے پورے ضلع کی حدود میں ہر قسم کے عوامی اجتماعات، جلسے، جلوس، ریلیاں، دھرنے اور پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس حکم نامے کا نفاذ فوری طور پر عمل میں آ گیا ہے اور یہ اگلے 15 دنوں تک برقرار رہے گا۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 188 کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔سرکاری تقاریب، آفیشل پروگرامز اور محکمانہ میٹنگز۔ ایمرجنسی سروسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جو اپنی سرکاری فرائض انجام دے رہے ہوں۔ایسے اجتماعات جن کی مجاز اتھارٹی سے تحریری طور پر باقاعدہ اجازت لی گئی ہو۔ اس سے فیصلے سے مستشنی ہے۔ اپر چترال میں دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد عوامی حلقوں میں یہ تاثر شدت اختیار کر گیا ہے کہ حکومت اور مقامی انتظامیہ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے انتظامی پابندیوں اور طاقت کا سہارا لے کر آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔عوامی حلقوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایک طرف پورے ضلع میں پانچ افراد کے جمع ہونے پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب عالمی شہرت یافتہ “شندور پولو فیسٹیول” اپنی مقررہ تاریخوں پر منعقد ہونے جارہا ہے اس تضاد نے حکومتی پالیسی اور نیت پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سیاسی و سماجی تجزیہ کاروں اور بعض حلقوں کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ ہنگامی اقدام دراصل ریشن میں جاری طویل دھرنے اور جائز حقوق کے لیے جاری عوامی احتجاج کو سبوتاژ کرنے اور اسے ختم کرنے کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔ اپر چترال کے عوام اور سول سوسائٹی نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ دفعہ 144 جیسی پابندیوں کے بجائے علاقے کے بنیادی مسائل کے حل، مظاہرین کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات اور عوامی اعتماد کی بحالی پر فوری توجہ دی جائے تاکہ علاقے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔



