تازہ ترین

چترال: ژوغور، بروز اور گہیریت کے سیلاب متاثرین حکومتی امداد ناکافی قرار، فوری بحالی پیکیج کا مطالبہ

چترال (ڈیلی چترال نیوز): 3 اور 4 اگست کو چترال شہر کے نواحی علاقوں ژوغورگہیرت، اور بروز میں آنے والے قیامت خیز سیلاب کے بعد متاثرہ خاندانوں کی امداد اور بحالی کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف غیر سرکاری ادارے، فلاحی تنظیمیں اور رضاکار متاثرین کی مدد کے لیے سرگرم ہیں، جن کی جانب سے ملبہ ہٹانے، متاثرہ گھروں کی صفائی، پکی پکائی خوراک اور خشک راشن کی فراہمی سمیت مختلف امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

سیلاب سے شدید متاثرہ گاؤں ژوغور میں متاثرین نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے انہیں ایک خیمہ اور راشن فراہم کیا گیا، تاہم سیلاب سے ہونے والے بڑے پیمانے کے نقصانات کے مقابلے میں یہ امداد ناکافی ہے۔ متاثرین کے مطابق سیلابی ریلوں سے گھروں، دکانوں، زرعی زمینوں، باغات اور دیگر املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ متعدد خاندان اب بھی اپنے گھروں سے ملبہ نکالنے اور رہائش کے مسائل سے دوچار ہیں۔

متاثرین کا کہنا تھا کہ سیلابی ملبہ ہٹانے اور ندی نالوں کی چینلائزیشن کے لیے چترال اسکاؤٹس، محمد طلحہ محمود فاؤنڈیشن اور ایم پی اے فاتح الملک علی ناصر کی جانب سے ہیوی مشینری فراہم کی گئی ہے، جس سے بحالی کے کاموں میں مدد مل رہی ہے۔ تاہم متاثرہ گھروں سے ملبہ نکالنے اور صفائی کے بیشتر کام متاثرین خود اپنی مدد آپ کے تحت انجام دے رہے ہیں۔ژوغور میں مختلف فلاحی اداروں اور تنظیموں کے رضاکار بھی متاثرین کی مدد کے لیے موجود رہے۔ ژوغور ہیومن کیئر فاؤنڈیشن، حمیدہ ایجوکیشن اکیڈمی، الخدمت فاؤنڈیشن، طلحہ محمود فاؤنڈیشن اور ہیلپنگ ہینڈ کے کارکنوں اور رضاکاروں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مل کر ملبہ ہٹانے اور دیگر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

ژوغور، بروز اور گہیریت کے متاثرین نے حکومتی امداد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی فوری بحالی اور دوبارہ آبادکاری کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے گھروں اور دیگر املاک کے ساتھ ساتھ ان کے ذرائع آمدن کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، اس لیے صرف راشن اور عارضی امداد سے متاثرہ خاندانوں کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زرعی زمینوں، فصلوں اور باغات کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ ژوغور میں درجنوں ٹراؤٹ فش فارمز بھی سیلابی ریلوں کی زد میں آکر تباہ ہوگئے ہیں، جس سے متعلقہ کاروباری افراد کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ فش فارمز کی تباہی سے مقامی سطح پر روزگار اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

عوامی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں آبپاشی اور آبنوشی کی اسکیموں کی بحالی کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے، تاکہ زرعی سرگرمیاں بحال ہوسکیں اور لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو۔متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ نقصانات کا جامع اور شفاف سروے کرایا جائے اور گھروں، زرعی زمینوں، باغات، فش فارمز اور دیگر املاک کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے، تاکہ سیلاب سے متاثرہ خاندان دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button