کاسی پراجیکٹ کے زیرِ اہتمام اپر چترال کے ضلعی ہیڈکوارٹر بونی میں بریسٹ فیڈنگ، ماں کے دودھ کی اہمیت اور دیگر متعلقہ موضوعات پر پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

چترال(ڈیلی چترال نیوز ) آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان (AKHSP) کے سنٹرل ایشیا ہیلتھ سسٹم اسٹرنتھیننگ انیشیٹو (CASI) پراجیکٹ کے زیرِ اہتمام اپر چترال کے ضلعی ہیڈکوارٹر بونی میں بریسٹ فیڈنگ، ماں کے دودھ کی اہمیت اور دیگر متعلقہ موضوعات پر پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ میں یونین کونسل یارخون اور یونین کونسل مستوج سے تعلق رکھنے والے 40 سے زائد ہیلتھ اسٹاف نے شرکت کی۔اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اپر چترال ڈاکٹر فرمان، ایل ایچ ڈبلیو کوآرڈینیٹر حمیدہ، پراجیکٹ منیجر CASI نگار علی، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر اپر چترال مقبول علی شاہ، لوئر چترال اشفاق احمد اور دیگر مقررین نے ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال اگست کا مہینہ بریسٹ فیڈنگ کے فروغ کے لیے منایا جاتا ہے۔ نیماں کا دودھ نومولود بچوں کے لیے مکمل، محفوظ اور قدرتی غذا ہے، جو انہیں مختلف بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ صحت مند نشوونما میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے فارمولا دودھ کے غیر ضروری استعمال سے گریز اور بریسٹ فیڈنگ کے فروغ کے لیے عوام میں شعور و آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ بریسٹ فیڈنگ ایک قدرتی عمل ہے، جس کے ذریعے ماں اپنے بچے کو تمام ضروری غذائی اجزاء، وٹامنز، منرلز اور اینٹی باڈیز فراہم کرتی ہے، جو اس کی بہترین جسمانی و ذہنی نشوونما اور بیماریوں سے تحفظ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ پیدائش سے لے کر ابتدائی چھ ماہ تک بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانا ہے، جبکہ اس کے بعد دو سال یا اس سے زائد عرصے تک مناسب ٹھوس غذا کے ساتھ ماں کا دودھ جاری رکھنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دودھ پلانے والی خواتین کی صحت، متوازن خوراک اور مناسب نگہداشت پر خصوصی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے خواتین کو درست معلومات کی فراہمی، خاندان کی بھرپور حمایت اور معاونت نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجربہ کار بزرگ خواتین اپنی رہنمائی اور حوصلہ افزائی سے نئی ماؤں کے لیے اس مرحلے کو آسان بنا سکتی ہیں، جبکہ خاندان کے دیگر افراد، خصوصاً شوہر کی تعاون اور حوصلہ افزائی خواتین میں اعتماد پیدا کرتی ہے، جس سے ایک صحت مند نسل اور خوشحال معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔شرکاء نے چترال کے طول و عرض میں آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان، خصوصاً CASI پراجیکٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بنیادی صحت سے متعلق آگاہی گھر گھر پہنچانے کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ ادارے کی مسلسل کاوشوں کی بدولت دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام صحت کے بنیادی اصولوں سے آگاہ ہو رہے ہیں، جس کا تمام تر کریڈٹ آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان کی انتھک محنت اور عوامی خدمت کو جاتا ہے۔






