چترال: غذائی قلت سے متاثرہ بچوں کی صحت یابی، پانچ سالہ فالو اپ کے بعد صحت مند بچوں میں شامل

چترال (ڈیلی چترال نیوز) آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان کے سنٹرل ایشیا ہیلتھ سسٹم اسٹرنتھیننگ انیشیٹو (CASI) پراجیکٹ کے زیراہتمام لوکل کونسل پرابیک، گرم چشمہ اور بگوشٹ میں ’’ہیلتھ بی بی شو‘‘ کے نام سے تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین، مردوں اور بچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔تقریب کے دوران غذائی قلت کا شکار رہنے والے درجنوں بچوں کو گفٹ بیگز بھی دیے گئے۔ یہ بچے گزشتہ پانچ سال سے باقاعدہ طبی معائنے اور مسلسل فالو اَپ کے بعد غذائی قلت سے نکل کر نارمل اور صحت مند بچوں کی صف میں شامل ہوئے ہیں۔ مقررین کے مطابق بچوں کی صحت یابی CASI پراجیکٹ اور آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان کی مسلسل اور دوررس کوششوں کا نتیجہ ہے۔اس موقع پر CASI پراجیکٹ اپر چترال کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر مقبول علی شاہ، لوئر چترال کے اشفاق احمد اور دیگر مقررین نے کہا کہ غذائی قلت سے متاثرہ بچوں کا مسلسل پانچ سال تک باقاعدہ معائنہ اور فالو اَپ انہیں صحت مند زندگی کی طرف لانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی بچہ شدید یا درمیانی درجے کی غذائی قلت سے نکل کر نارمل اسٹیج تک پہنچ جائے تو اسے مستقل صحت مند رکھنے کے لیے ماہرین صحت کے مشوروں پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ بچے کی زندگی کے ابتدائی سال جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اس دوران مناسب اور متوازن غذا کی عدم دستیابی سے بچوں کی نشوونما متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی جسمانی صلاحیتیں بھی محدود ہوسکتی ہیں۔ پروٹین، وٹامنز اور ضروری معدنیات کی کمی بچوں میں جسمانی نشوونما رکنے سمیت مختلف مسائل کا باعث بنتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ غذائی قلت سے متاثرہ بچوں کی بروقت تشخیص، مسلسل نگہداشت، مناسب غذا اور باقاعدہ طبی فالو اَپ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی مکمل جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکیں۔تقریب کے شرکاء نے آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان اور بالخصوص CASI پراجیکٹ کی دورافتادہ علاقوں میں فراہم کی جانے والی صحت کی خدمات کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے ایسے پروگراموں کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کا مطالبہ کیا اور ادارے کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔




