جھگڑوں کے اسباب اور ان کا سدِباب…….. تحریر: ابوسلمان محمدقاسم

اسلام امن، محبت، اخوت، رواداری اور باہمی احترام کا دین ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا اور باہمی اختلافات کو ختم کرکے محبت و الفت کے ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ﴾
ترجمہ: "مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔”
افسوس کہ آج ہمارے گھروں، خاندانوں، رشتہ داروں اور معاشرے میں معمولی معمولی باتیں بڑے جھگڑوں کا سبب بن جاتی ہیں۔ ایک لفظ، ایک غلط فہمی، ایک پیغام، ایک فون کال یا کسی کی بات کو غلط سمجھ لینا برسوں پرانے رشتوں میں دراڑ ڈال دیتا ہے۔ کبھی معمولی اختلاف دشمنی میں بدل جاتا ہے اور کبھی انا، غصہ اور غلط فہمی ایسی دیوار کھڑی کر دیتے ہیں جسے گرانا برسوں مشکل رہتا ہے۔
جھگڑوں کے بنیادی اسباب
1=غصہ
جھگڑوں کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک غصہ ہے۔ غصہ انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور اسے ایسے الفاظ بولنے پر مجبور کر دیتا ہے جن کا بعد میں ساری زندگی افسوس رہتا ہے۔ غصے کی ایک گھڑی کبھی کبھی برسوں کے تعلق کو ختم کر دیتی ہے۔
ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"غصہ نہ کیا کرو۔”
اس لیے جب غصہ آئے تو فوراً جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کرنا، اپنے آپ کو سنبھالنا اور معاملے کو ٹھنڈا ہونے دینا ہی دانش مندی ہے۔
2۔ زبان کا غلط استعمال
غیبت، چغلی، طعنہ، مذاق میں دل آزاری، الزام تراشی اور سخت الفاظ بھی جھگڑوں کی بڑی وجوہات ہیں۔ بعض لوگ زبان سے ایسی بات کہہ دیتے ہیں جو بظاہر معمولی ہوتی ہے، لیکن سامنے والے کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو جاتی ہے۔
یاد رکھیں! زبان سے نکلا ہوا ایک جملہ کبھی کبھی برسوں کے تعلق کو ختم کر دیتا ہے۔
اس لیے زبان کو قابو میں رکھنا اور سوچ سمجھ کر گفتگو کرنا ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
3۔ بدگمانی اور غلط فہمیاں
بہت سے جھگڑے حقیقت کی وجہ سے نہیں بلکہ غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ ہم پوری بات جانے بغیر فیصلہ کر لیتے ہیں، کسی کے عمل کا غلط مطلب نکالتے ہیں اور پھر اپنے ہی گمان کو حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾
ترجمہ: "بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔”
اس لیے کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے حقیقت معلوم کرنا ضروری ہے۔ ممکن ہے جس بات کو ہم غلط سمجھ رہے ہوں، اس کی حقیقت بالکل مختلف ہو۔
4۔ انا اور ضد
بعض اوقات مسئلہ بہت چھوٹا ہوتا ہے، مگر انسان کی انا اور ضد اسے بڑا بنا دیتی ہے۔ انسان سوچتا ہے: "میں کیوں معافی مانگوں؟ پہلے وہ میرے پاس آئے!”
یہی سوچ معمولی اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتی ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ معافی مانگنے والا ہمیشہ چھوٹا نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات وہ سب سے بڑا ہوتا ہے۔
جو شخص اپنے نفس کو جھکا کر رشتہ بچا لیتا ہے، وہ حقیقت میں شکست نہیں بلکہ کامیابی حاصل کرتا ہے۔
5۔ دوسروں کی باتوں پر فوراً یقین کرنا
جھگڑوں کی ایک خطرناک وجہ یہ بھی ہے کہ کوئی شخص ہمارے کان میں ایک بات ڈال دیتا ہے اور ہم تحقیق کیے بغیر اسے سچ مان لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دو بھائی، دو دوست، دو رشتہ دار یا دو خاندان ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔
اس لیے کسی کی بات سن کر فوراً فیصلہ کرنے کے بجائے تحقیق، تصدیق اور حقیقت معلوم کرنا ضروری ہے۔ ایک غلط خبر پورے خاندان کا سکون برباد کر سکتی ہے۔
جھگڑوں کا سدِباب کیسے ہو؟
1۔ غصے پر قابو پائیں
سب سے پہلے غصے پر قابو پانا ضروری ہے۔ غصے کی حالت میں خاموشی اختیار کریں، وضو کریں، جگہ بدلیں اور فوری فیصلہ کرنے سے گریز کریں۔
یاد رکھیں، غصے میں لیا گیا فیصلہ اکثر پچھتاوے کا سبب بنتا ہے، جبکہ تحمل سے کیا گیا فیصلہ رشتوں کو بچا لیتا ہے۔
2۔ معاف کرنا سیکھیں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ﴾
ترجمہ: "انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف فرما دے؟”
سوچیے! جب ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری غلطیوں کو معاف فرمائے تو ہمیں بھی اللہ کے بندوں کو معاف کرنا سیکھنا چاہیے۔ معافی کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔
3۔ بات کو بڑھانے کے بجائے ختم کریں
ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں۔ ہر غلطی کو موضوع بنانا ضروری نہیں۔ ہر اختلاف کو بحث میں تبدیل کرنا ضروری نہیں۔
بعض اوقات خاموشی ہی سب سے بہترین جواب ہوتی ہے۔
اگر ایک لفظ سے جھگڑا ختم ہوسکتا ہے تو سو لفظ بولنے کی ضرورت نہیں۔ اگر خاموشی سے رشتہ بچ سکتا ہے تو بحث میں اپنی برتری ثابت کرنا دانش مندی نہیں۔
4۔ صلح کرائیں
اسلام نے صرف اپنے جھگڑے ختم کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ دوسروں کے درمیان صلح کرانے کو بھی بڑی نیکی قرار دیا ہے۔
جو شخص دو ناراض لوگوں کو قریب لاتا ہے، دو خاندانوں کے درمیان محبت پیدا کرتا ہے اور ٹوٹے ہوئے رشتے کو جوڑنے کی کوشش کرتا ہے، وہ معاشرے میں امن اور خیر پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے۔
ہمیں جھگڑا بڑھانے والوں کے بجائے صلح کرانے والا بننا چاہیے۔
5۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کریں
جھگڑوں کے سدِباب کا سب سے اہم ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق ہے۔
جس دل میں تقویٰ، اللہ کا خوف اور آخرت کا یقین پیدا ہو جائے، وہ دوسروں کے حقوق پامال کرنے سے ڈرتا ہے، اپنی زبان کو قابو میں رکھتا ہے، غصے کو برداشت کرتا ہے اور معافی کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ فضیلت سمجھتا ہے۔
جب دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے آباد ہو تو نفرت، بغض، حسد، انتقام اور تکبر کے لیے جگہ کم رہ جاتی ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا!
خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا ہوگا:
کیا ہم جھگڑا بڑھانے والے بنیں گے یا صلح کرانے والے؟
ہماری زبان کسی کے گھر کا سکون چھینے گی یا کسی ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑے گی؟
ہم غصے کو اپنی طاقت سمجھیں گے یا برداشت کو اپنی طاقت بنائیں گے؟
آئیے آج عہد کریں کہ:
غصے میں فیصلہ نہیں کریں گے۔
سنی سنائی بات پر فوراً یقین نہیں کریں گے۔
کسی کی غیبت اور چغلی نہیں کریں گے۔
معمولی باتوں کو انا کا مسئلہ نہیں بنائیں گے۔
دوسروں کی غلطیوں سے درگزر کریں گے۔
جہاں ممکن ہو، معافی، درگزر اور صلح کو اختیار کریں گے۔
لوگوں کے درمیان نفرت نہیں بلکہ محبت پھیلانے کی کوشش کریں گے۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں!
رشتے جیتنے کے لیے ہمیشہ بحث جیتنا ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی بحث ہار کر بھی انسان ایک رشتہ جیت لیتا ہے۔
زندگی بہت مختصر ہے۔ نہ جانے ہمارے پاس ایک دوسرے سے محبت کرنے، معاف کرنے اور تعلقات سنوارنے کے لیے کتنا وقت باقی ہے۔ اس لیے معمولی باتوں کو دل میں جگہ دینے، پرانی ناراضگیاں پالنے اور انا کی خاطر رشتے توڑنے کے بجائے محبت، درگزر اور صلح کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
آئیے اپنے گھروں سے آغاز کریں، اپنے خاندانوں سے آغاز کریں اور اپنے معاشرے سے نفرت کے خاتمے کی کوشش کریں۔ ہم اپنی زبان کو غیبت سے، اپنے دل کو کینے سے اور اپنے رویے کو تکبر سے پاک کریں۔ اگر ہم میں سے ہر شخص یہ فیصلہ کر لے کہ وہ فساد نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ بنے گا تو ہمارے گھر بھی سکون کا گہوارہ بن سکتے ہیں اور ہمارا معاشرہ بھی محبت و اخوت کا نمونہ بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں، خاندانوں اور معاشرے میں محبت، اخوت، اتفاق اور سلامتی عطا فرمائے، ہمارے دلوں سے کینہ اور بغض نکال دے، ہمیں غصے پر قابو پانے، دوسروں کو معاف کرنے اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔



