تازہ ترین

ریشن میں بجلی ٹیرف کے خلاف تین روزہ دھرنا: شاہراہ عارضی طور پر کھول دی گئی، حکومت کو ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال )چترال شندور روڈ پر ریشن کے مقام پر تین دن سے جاری سڑک کی بندش کو عارضی طور پر ختم کر کے شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، تاہم مظاہرین نے علامتی دھرنا جاری رکھنے اور صوبائی حکومت کو مطالبات کی منظوری کے لیے ایک ہفتے کی حتمی ڈیڈ لائن دینے کا اعلان کیا ہے۔​تفصیلات کے مطابق ریشن، زیت اور کوراغ کے رہائشی گزشتہ تین دنوں سے بجلی کے بھاری ٹیرف کے خلاف چترال شندور روڈ بلاک کر کے احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ علاقے میں بجلی کے نرخ پیسکو (PESCO) کے بجائے پیڈو (PEDO) کے ٹیرف کے مطابق مقرر کیے جائیں۔​احتجاجی تحریک کےصدر سید سردار حسین شاہ نے رامداس چوک میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہ کو صرف انسانی ہمدردی اور مسافروں کی مشکلات کے پیش نظر کھولا گیا ہے، جبکہ دھرنا علامتی طور پر جاری رہے گا۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر ایک ہفتے میں بجلی کا ٹیرف پیڈو کے نرخوں کے مطابق بحال نہ ہوا تو شاہراہ کو دوبارہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا جائے گا۔​اس موقع پر تحریک کی خاتون رہنما نے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں اگلے مرحلے میں خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ دھرنے میں شامل ہوں گی۔​روڈ کھلنے کے بعد سڑک کے دونوں جانب پھنسی گاڑیاں اور مسافر منزلوں کی طرف روانہ ہو گئے۔ اس موقع پر تحریک کے رہنما صاحب الدین، امیر اللہ، عبدالرب، چراغ الدین، صوبیدار (ر) عزیز الدین، منیر احمد، عارف اللہ، نادر جنگ، محمد وزیر، ابولیث رامداسی اور چترال ڈیویلپمنٹ موومنٹ کے سابق صدر وقاص احمد ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button