تازہ ترین
عمائدینِ لاسپور کی دعوت پر. مسلم لیگ (ن) کے وفد کا دورۂ لاسپور ویلی.ٹیلی نار سگنل، فور جی، فائبر آپٹک، سڑک کی تعمیر سے ہونے والے نقصانات اور دیگر مسائل کے حل پر جامع گفتگو

اپر چترال؛ رپورٹ :محمد زاکر زخمی)عمائدینِ لاسپور، بالخصوص ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت سہروردی یفتالی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سردار یفتالی کی دعوت پر فوکل پرسن برائے ایم این اے غزالہ انجم، محمد کوثر ایڈووکیٹ، جنرل سیکریٹری پاکستان مسلم لیگ (ن) اپر چترال پرنس سلطان الملک اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں پر مشتمل وفد نے لاسپور ویلی کا دورہ کیا۔وفد میں خواجہ امتیاز، تحصیل صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) چترال، فضل الرحمٰن، تحصیل کوآرڈینیٹر چترال، فاروق علی شاہ اور صدر لبرل ونگ پاکستان مسلم لیگ (ن) اپر چترال افسرعلیم سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔دورے کا مقصد لاسپور ویلی کے عوام کو درپیش وفاقی نوعیت کے مسائل سے آگاہی حاصل کرنا اور انہیں ایم این اے غزالہ انجم کے ذریعے متعلقہ وفاقی اداروں تک پہنچا کر حل کی کوشش کرنا تھا۔
اس موقع پر علاقے کے کثیر تعداد میں عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات اور عوامی نمائندوں نے فوکل پرسن برائے ایم این اے غزالہ انجم اور مسلم لیگ (ن) کے وفد سے ملاقات کی اور علاقے کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔ٹیلی نار سگنل اور فور جی کی مسئلہ پر عمائدینِ لاسپور نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کا واحد مواصلاتی نظام عرصۂ دراز سے انتہائی ناقص اور غیر مؤثر ہے۔ فور جی کی سہولت تو دور کی بات، کئی مرتبہ طویل عرصے تک موبائل سگنل ہی غائب رہتے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ ٹیلی نار کمپنی کی جانب سے مختلف پیکیجز کی مد میں کروڑوں روپے وصول کیے جانے کے باوجود لاسپور کے عوام کو مطلوبہ مواصلاتی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بارہا مطالبات اور احتجاج کے باوجود صارفین بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔عمائدین نے کہا کہ موجودہ جدید دور میں زندگی کے تقریباً تمام شعبے انٹرنیٹ سے وابستہ ہیں۔ بچوں کی تعلیم، کاروباری سرگرمیوں، آن لائن خدمات اور بینکنگ سمیت روزمرہ زندگی کے بیشتر معاملات کے لیے انٹرنیٹ ناگزیر ہو چکا ہے۔ ایسے میں علاقے کا واحد مواصلاتی نیٹ ورک مسلسل خراب رہنا عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔اجلاس میں این ایچ اے کی جانب سے سڑک کی تعمیر کے دوران ملبہ باغات، جنگلات اور قابلِ کاشت اراضی پر ڈالنے سے ہونے والے نقصانات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔عمائدین نے کہا کہ سڑک کی تعمیر کے دوران مختلف مقامات پر ملبہ ڈالنے سے آبپاشی کی نہریں بند ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں سینکڑوں ایکڑ اراضی بنجر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ باغات، جنگلات اور قابلِ کاشت اراضی کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔
مقررین کے مطابق بارہا رابطے اور درخواستوں کے باوجود متاثرین کے نقصانات کا مناسب ازالہ نہیں کیا گیا، جس پر علاقے کے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔عمائدین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ فائبر آپٹک کیبل پہلے ہی لاسپور ویلی تک پہنچ چکی ہے، تاہم اسے فعال نہیں کیا گیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فائبر آپٹک کیبل کو فوری طور پر فعال کرکے علاقے کے عوام کو ڈی ایس ایل سمیت جدید اور مستحکم انٹرنیٹ سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس سے نہ صرف عوام کی مشکلات میں کمی آئے گی بلکہ متعلقہ ادارے کو بھی خاطر خواہ مالی فوائد حاصل ہوں گے۔اس موقع پربجلی کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے
مقررین نے پیسکو کی جانب سے تفصیلی سروے کیے جانے کے باوجود لاسپور ویلی کو بجلی کی سہولت فراہم نہ کیے جانے پر بھی شدید ناراضی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ علاقے کی بجلی کی ضرورت کے حوالے سے سروے مکمل ہونے کے باوجود عملی پیش رفت نہ ہونا لاسپور کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔
عمائدینِ لاسپور نے جشنِ شندور کے انعقاد کے حوالے سے بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جشنِ شندور کے انعقاد کے دوران مقامی عمائدین اور عوام کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور ان کے جائز تحفظات کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔انہوں نے جشن کے اختتام کے بعد صفائی کے ناقص انتظامات پر بھی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ آئندہ جشنِ شندور کے انعقاد سے قبل مقامی عمائدین کو اعتماد میں لیا جائے، ان کے جائز تحفظات دور کیے جائیں اور صفائی سمیت تمام انتظامات کو مؤثر بنایا جائے۔آخر میں عمائدینِ لاسپور نے متفقہ طور پر قرار داد کے ذریعے فوکل پرسن برائے ایم این اے غزالہ انجم اور مسلم لیگ (ن) کے وفد کے سامنے درج ذیل مطالبات پیش کیے:لاسپور ویلی میں موبائل ٹیلی فون سگنل کی بلاتعطل بحالی اور فور جی سروس کو مؤثر انداز میں فعال کیا جائے۔
لاسپور ویلی وسیع و عریض اور کثیر آبادی پر مشتمل علاقہ ہے۔ موجودہ ٹاور کے علاوہ ایک اضافی موبائل ٹاور تعمیر کیا جائے تاکہ علاقے کے عوام کو بہتر مواصلاتی سہولیات میسر آ سکیں۔لاسپور ویلی تک پہنچنے والی فائبر آپٹک کیبل کو فوری طور پر فعال کرکے علاقے کے عوام کو ڈی ایس ایل اور دیگر تیز رفتار انٹرنیٹ سہولیات فراہم کی جائیں۔
این ایچ اے کی سڑک کی تعمیر کے دوران عوام کے باغات، جنگلات، آبپاشی کی نہروں اور قابلِ کاشت اراضی کو پہنچنے والے نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے۔پیسکو کے سروے کی روشنی میں لاسپور ویلی کو بجلی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔جشنِ شندور کے انعقاد سے قبل مقامی عمائدین اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے اور ان کے جائز تحفظات کو دور کیا جائے۔
اس موقع پر فوکل پرسن برائے ایم این اے غزالہ انجم محمد کوثر ایڈووکیٹ نے اپنی اور وفد کی جانب سے تمام معزز عمائدین اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ "یہ چترال کی خوش قسمتی ہے کہ آپ جیسے بہادر لوگ چترال کی داخلی سرحدوں کی نگہبانی کر رہے ہیں۔ میرے لیے یہ باعثِ عزت لمحہ ہے کہ آج میں اپنے والد صاحب کے کئی دیرینہ دوستوں کے درمیان موجود ہوں۔”محمد کوثر ایڈووکیٹ نے عمائدین کی جانب سے پیش کیے گئے تمام مسائل کو جائز اور عوام کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکز سے متعلق جتنے بھی مسائل بیان کیے گئے ہیں، انہیں ایم این اے غزالہ انجم تک پہنچا کر ان کے فوری حل کے لیے بھرپور سفارش اور کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو مسائل وفاق اور صوبے سے مشترکہ طور پر متعلق ہیں، ان کے حل کے لیے وفد کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر اپر چترال سے بھی ملاقات کی جائے گی اور انہیں حل کرانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جو مسائل خالصتاً صوبائی نوعیت کے ہیں، ان کے بارے میں وہ کوئی وعدہ نہیں کر سکتے، البتہ متعلقہ حکام تک عوام کی آواز ضرور پہنچائی جائے گی۔
محمد کوثر ایڈووکیٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے چترال کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چترال کی تعمیر و ترقی کے لیے منظور کیے گئے متعدد میگا منصوبے مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں منظور ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ "یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ چترال کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی چترال سے محبت غیر مشروط ہے، جو گزشتہ 27 برسوں سے چترال سے اس جماعت کا کوئی نمائندہ منتخب نہ ہونے کے باوجود بھی برقرار ہے۔”
آخر میں محمد کوثر ایڈووکیٹ نے ایک بار پھر عمائدینِ لاسپور اور علاقے کے عوام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنے جائز مسائل پیش کیے، وفد کو اپنے درمیان مدعو کیا اور محبت و خلوص کا اظہار کیا



