تازہ ترین

چترال میں قتل اور ڈکیتی کے 22 سال پرانے مقدمے کا فیصلہ، ملزم کو دو مرتبہ عمر قید

چترال / ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لوئر چترال محترمہ شہناز حمید خٹک کی عدالت نے قتل اور ڈکیتی کے 22 سال پرانے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم شاہ زیب کو دو مرتبہ عمر قید سمیت دیگر سزائیں سنانے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم شاہ زیب ولد منصور خان، سکنہ ساکوار، ضلع و تحصیل گلگت، کے خلاف 16 اکتوبر 2002 کو تھانہ مستوج میں قتل اور ڈکیتی کے الزام میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302 اور 396 کے تحت مقدمہ علت نمبر 48 درج کیا گیا تھا۔
استغاثہ کے مطابق 16 اکتوبر 2002 کو مس جنالی، شندور کے مقام پر ملزمان نے چیوڈوک کے رہائشی عظمت خدا ولد خوش خدا اور سکندر شاہ ولد فقیر محمد کو قتل کرنے کے بعد ان کی گاڑی لے کر فرار ہونے کی واردات کی تھی۔
مقدمے کے مرکزی ملزم شاہ زیب گزشتہ 22 سال سے روپوش رہا، تاہم پولیس نے اسے 22 اپریل 2024 کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی کے لیے عدالت کے سامنے پیش کیا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران مقتولین کے ورثاء کی جانب سے سینئر قانون دان محمد عظیم بیگ ایڈوکیٹ نے مقدمے کی پیروی کی، جبکہ ملزم شاہ زیب کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ عبدالولی خان عابد ایڈوکیٹ نے قانونی نمائندگی کی۔
مقدمے کی طویل سماعت مکمل ہونے کے بعد فاضل عدالت نے دستیاب ریکارڈ، گواہوں کے بیانات، شہادتوں اور قانونی تقاضوں کی روشنی میں ملزم کے خلاف جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی۔
عدالت نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت دونوں مقتولین کے قتل کے جرم میں ملزم کو دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی، جبکہ مقتولین کے ورثاء کو 10، 10 لاکھ روپے، مجموعی طور پر 20 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔
اسی طرح تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 396 کے تحت ڈکیتی کے جرم میں ملزم کو چار سال قیدِ سخت اور 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔
22 سال تک زیرِ التوا رہنے والے اس مقدمے کے فیصلے کو چترال کی عدالتی تاریخ کے اہم مقدمات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button