مضامین

استاذ الاساتذہ حضرت قاری فیض اللہ چترالی صاحب :علم و عمل ، خدمتِ خلق اور فروع تعلیم کی درخشاں مثال تحریر: ابوسلمان محمد قاسم

کچھ شخصیات اپنی علمی عظمت سے پہچانی جاتی ہیں، کچھ اپنے کردار سے دلوں میں جگہ بناتی ہیں، مگر کچھ ایسی خوش نصیب ہستیاں بھی ہوتی ہیں جن کی زندگی علم و دین کی خدمت، تعلیم کی سرپرستی اور دکھی انسانیت کی داد رسی کے لیے وقف ہوتی ہے۔ قاری فیض اللہ چترالی صاحب کا شمار بھی ایسی ہی باوقار، قابلِ احترام اور ہمہ جہت شخصیات میں ہوتا ہے۔
قاری فیض اللہ چترالی صاحب نہ صرف بین الاقوامی شہرت کے حامل عالمِ دین اور ہزاروں علماء و حفاظ کے استاد ہیں بلکہ چترال کےلیے ایک عظیم علمی، دینی اور فلاحی سرمایہ بھی ہیں۔ ان کی شخصیت کا نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ دینی مدارس کے طلبہ ہوں یا سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے بچے، سب کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
تعلیم کے فروغ اور نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی کے سلسلے میں قاری صاحب کی خدمات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ وہ تقریباً ہر سال میٹرک کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے سرکاری اور نجی اسکولوں کے طلبہ و طالبات کو نقد انعامات سے نوازتے ہیں۔ ان انعامات کا مقصد محض کامیاب طلبہ کی حوصلہ افزائی نہیں بلکہ پوری نسلِ نو میں محنت، لگن اور حصولِ علم کا جذبہ بیدار کرنا ہے۔
اسی سلسلے کی ایک قابلِ تحسین مثال اس سال رمبور ہائر سیکنڈری اسکول میں کمپیوٹر لیب کا تحفہ ہے، جو طلبہ کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے اور انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ قابلِ مسرت امر یہ ہے کہ اس سال بھی قاری فیض اللہ چترالی صاحب نے ضلع لوئر چترال، اپر چترال کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور کیلاش کمیونٹی کے نمایاں پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کے لیے نقد انعامات کا اعلان کیا ہے، جو ان شاء اللہ مناسب موقع پر تقسیم کیے جائیں گے۔ بالخصوص کلاش کمیونٹی کے پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کو بھی اس اعزاز میں شامل کرنا قاری صاحب کی وسیع القلبی، تعلیمی سرپرستی اور بلاامتیاز حوصلہ افزائی کی روشن مثال ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ہونہار طلبہ کی حوصلہ افزائی ہے بلکہ مختلف برادریوں کے درمیان محبت، احترام اور تعلیمی یکجہتی کے فروغ کا بھی ایک قابلِ قدر پیغام ہے۔
قاری صاحب کی خدمات کا دائرہ صرف تعلیم تک محدود نہیں۔ چترال کے طول و عرض میں جب بھی سیلاب، زلزلے، شدید برف باری یا کسی دوسری قدرتی آفت کے باعث لوگ مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں، وہ متاثرین کی مدد کے لیے پیش پیش نظر آتے ہیں۔ مساجد و مدارس کی تعمیر و مرمت کے لیے ٹین کی چادروں کی فراہمی ہو، متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت ہو یا آگ سے تباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کی مدد، قاری صاحب حتی المقدور اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی ان خدمات میں چترال میں ان کے معتمدِ خاص، خطیبِ شاہی مسجد چترال، حضرت مولانا خلیق الزمان کاکا خیل صاحب کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ مولانا خلیق الزماں کاکا خیل صاحب صاحب حضرت قاری فیض اللہ چترالی صاحب کی ہدایات کے مطابق ان کے دست و بازو بن کر فلاحی سرگرمیوں میں بھرپور تعاون کرتےہیں چترال کے عوام و قاری صاحب کے درمیان ایک مؤثر رابطے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی مخلصانہ کاوشیں، عوامی مقبولیت اور خدمتِ خلق کا جذبہ اس باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ یہ عملی خدمات اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ حقیقی انسان دوستی محض الفاظ سے نہیں، بلکہ مشکل وقت میں دوسروں کے کام آنے سے ثابت ہوتی ہے۔
دینی و علمی میدان میں بھی قاری فیض اللہ چترالی صاحب کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ بالخصوص مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے لیے ان کی گراں قدر کاوشیں، دینی و علمی سرگرمیوں میں شرکت اور اندرون و بیرونِ ملک اس مقصد کے لیے ان کے اسفار ان کے دینی جذبے اور فکری وابستگی کا مظہر ہیں۔
قاری صاحب کی شخصیت کا ایک خوب صورت پہلو یہ بھی ہے کہ وہ دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے درمیان کسی امتیاز کے قائل نظر نہیں آتے۔ علماء، حفاظ، اساتذہ، طلبہ اور تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد ان کی محبت اور سرپرستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہی وسعتِ قلبی انہیں ایک فرد سے بڑھ کر ایک ادارہ ساز اور نسلوں کی رہنمائی کرنے والی شخصیت بناتی ہے۔
بلاشبہ، قاری فیض اللہ چترالی صاحب چترال کے لیےایک عظیم سرمایہ ہیں۔ ان کی خدمات اس امر کی روشن مثال ہیں کہ اگر علم، اخلاص، دردِ دل اور خدمتِ خلق یکجا ہو جائیں تو ایک شخصیت پورے معاشرے کے لیے امید، حوصلے اور روشنی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ قاری فیض اللہ چترالی صاحب کو صحت و عافیت، عمرِ دراز اور مزید توفیقِ خدمت عطا فرمائے، ان کی علمی، دینی، تعلیمی اور فلاحی کاوشوں کو شرفِ قبولیت بخشے اور چترال کو ہمیشہ ان جیسے مخلص خدمت گزاروں کی سرپرستی نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button