مضامین

جہانِ خیال……. مولانا سلامت اللہ صاحب: علم، مطالعہ اور قرآن فہمی کی ایک روشن روایت…… تحریر: عتیق الرحمن

بعض شخصیات سے تعلق محض ملاقات یا تعارف تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ انسان کے فکری اور علمی سفر کا حصہ بن جاتا ہے۔ محترم مولانا سلامت اللہ صاحب کے ساتھ میرا تعلق ایک شاگرد کی حیثیت سے قرآن فہمی کے حوالے سے رہا ہے۔ ان کے علمی احسانات اور اس تعلق کی گہرائی کو چند الفاظ میں بیان کرنا میرے لیے آسان نہیں۔
مولانا صاحب نے قرآن فہمی کے لیے ایک جدید اور جامع نصاب کا بندوبست کیا اور اسے باقاعدہ پڑھانے کے تمام ضروری انتظامات بھی کیے۔ الحمدللہ، ہمیں ایک سال تک اس نصاب کو باقاعدگی سے پڑھنے کا موقع ملا۔ اس کے ذریعے قرآنی عربی سیکھنے اور قرآن کے الفاظ و مفاہیم کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین علمی ماحول میسر آیا۔
اس کورس کی سب سے خوبصورت خصوصیت اس کا دوستانہ اور علمی ماحول تھا۔ سوال کرنے کی مکمل آزادی تھی اور ہر سوال کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ غور، تحقیق اور کسی بات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے دوبارہ سوال کرنا اس تعلیمی عمل کا حصہ تھا۔ عربی زبان کی شیرینی اور قرآن کے الفاظ کو سمجھنے کا شوق اس قدر بڑھا کہ مجھے باقاعدہ عربی اکیڈمی میں تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب ملی۔ اس علمی سفر کے لیے میں اپنے استاد محترم کا دل سے شکر گزار ہوں۔
عمر کے لحاظ سے مولانا صاحب مجھ سے چھوٹے ضرور ہیں، لیکن علم، مطالعہ اور تحقیق کے اعتبار سے ایک قدآور شخصیت ہیں۔ کسی موضوع کی تہہ تک پہنچنا، اس کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنا اور پھر رائے قائم کرنا ان کی نمایاں خوبی ہے۔ ان کی گفتگو میں مطالعے کی گہرائی اور فکری پختگی نمایاں نظر آتی ہے۔
مولانا صاحب کا تعلق ایک علمی خاندان سے ہے۔ قرآن و حدیث، تاریخ اور جدید مصنفین کا وسیع مطالعہ ان کی علمی شخصیت کا اہم حصہ ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ، سید قطب شہیدؒ، حسن البنا شہیدؒ، جاوید احمد غامدی اور امین احسن اصلاحیؒ کی تحریرات کا انہوں نے شعوری طور پر مطالعہ کیا اور ان سے علمی استفادہ کیا ہے۔ وہ مولانا مودودیؒ کی فکر کے بھی اچھے داعی ہیں اور نائب امیر جماعت اسلامی چترال کی حیثیت سے دعوت و اقامتِ دین کی جدوجہد میں اپنا وقت صرف کر رہے ہیں۔
وہ ایک بہترین مقرر اور خطیب بھی ہیں۔ علمی تیاری، مطالعے کی وسعت اور مشکل موضوعات کو سادہ اور مؤثر انداز میں بیان کرنا ان کی نمایاں صلاحیتیں ہیں۔ ان میں سیاسی بصیرت کے ساتھ قائدانہ صلاحیت بھی موجود ہے۔ علماء، دانشوروں اور جدید تعلیم یافتہ افراد سمیت مختلف طبقات کے لوگ ان کی گفتگو سنتے اور ان کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا سلامت اللہ صاحب کو دین کی خدمت کے لیے قبول فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت، اخلاص و استقامت عطا کرے اور ان کی علمی، فکری، خطیبانہ اور قائدانہ صلاحیتوں کو معاشرے کے لیے نافع بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button