مضامین

تحریکِ انصاف کا احتساب: چترال کے منصوبوں کی شفاف تحقیقات ناگزیر تحریر: عبدالغفار

خیبرپختونخوا میں گزشتہ تقریباً 14 سال سے مختلف ادوار میں حکمرانی کرنے والی پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کی کارکردگی اور مالی معاملات آج مختلف سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہیں۔ مخالف سیاسی جماعتوں کی جانب سے صوبے میں مبینہ کرپشن، سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال، ترقیاتی منصوبوں میں خوردبرد اور ملازمتوں میں بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان الزامات کو محض سیاسی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے غیر جانب دارانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔چترال کے تناظر میں دیکھا جائے تو گزشتہ سال کے قدرتی آفت سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے منصوبے، بیوٹیفیکیشن پراجیکٹس اور دیگر ترقیاتی اسکیمیں خصوصی توجہ کی متقاضی ہیں۔ مقامی سطح پر ان منصوبوں کے حوالے سے بھی مختلف نوعیت کے سوالات اور شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان منصوبوں کے لیے کتنے فنڈز مختص کیے گئے، کتنی رقم خرچ ہوئی، کام کا معیار کیا رہا اور کیا تمام منصوبے مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیے گئے؟ اگر کہیں مالی بے ضابطگیاں یا سرکاری وسائل میں خوردبرد ہوئی ہے تو اس کے ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے۔اسی طرح سرکاری ملازمتوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور میرٹ کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ چترال جیسے پسماندہ علاقے میں جہاں نوجوان روزگار کے محدود مواقع کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، وہاں سرکاری بھرتیوں میں شفافیت اور میرٹ کی پاسداری انتہائی ضروری ہے۔ کسی بھی مستحق امیدوار کے حق پر اثرانداز ہونے والی بے ضابطگی نہ صرف ایک فرد کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔معدنیات کے لائسنسوں کی تقسیم کے حوالے سے بھی مخالف سیاسی حلقوں کی جانب سے مبینہ اقربا پروری اور بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان الزامات کی حقیقت جاننے کے لیے لائسنسوں کے اجرا، متعلقہ قواعد، درخواستوں کی جانچ پڑتال اور منظوری کے طریقۂ کار کا شفاف آڈٹ ہونا چاہیے۔ معدنی وسائل کسی فرد یا مخصوص گروہ کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ قومی اثاثہ ہیں، اس لیے ان کی تقسیم اور استعمال میں عوامی مفاد کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔مخالف جماعتوں کی جانب سے ایک اور اہم الزام یہ بھی عائد کیا جاتا رہا ہے کہ صوبائی حکومت کے بعض بااثر سیاسی عہدیداروں کے پاس متعدد محکموں کے سیکرٹریوں اور انتظامی امور پر غیر معمولی اثرورسوخ تھا، حتیٰ کہ محکموں کو مخصوص افراد کی نگرانی میں تقسیم کرنے کی باتیں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ اگر واقعی انتظامی اختیارات کو قواعد سے ہٹ کر استعمال کیا گیا تو یہ طرزِ حکمرانی کے بنیادی اصولوں کے منافی ہوگا۔ تاہم ان دعوؤں کی تصدیق مستند ریکارڈ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہی سے ممکن ہے۔سیاسی مخالفین کا یہ مؤقف بھی سامنے آتا رہا ہے کہ کرپشن کے الزامات کی وضاحت کے لیے انہیں ہر بار نئے شواہد پیش کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ تحریکِ انصاف کے بعض اپنے کارکنوں کے بیانات بھی اس حوالے سے قابلِ توجہ ہیں۔ لیکن اصولی طور پر کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن کا بیان، خواہ وہ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو، حتمی ثبوت کا متبادل نہیں بن سکتا۔ ایسے بیانات کی تصدیق دستاویزی شواہد، سرکاری ریکارڈ، آڈٹ رپورٹس اور قانونی تحقیقات کے ذریعے ہونی چاہیے۔یہاں بنیادی سوال کسی ایک سیاسی جماعت کو نشانہ بنانے کا نہیں بلکہ عوامی وسائل کے تحفظ اور حکمرانی میں جواب دہی کو یقینی بنانے کا ہے۔ اگر تحریکِ انصاف کی سابقہ حکومت کے دور میں کسی منصوبے، بھرتی، معدنیاتی لائسنس یا سرکاری فنڈز کے استعمال میں بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہییں۔ لیکن یہی اصول مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور دیگر تمام سیاسی جماعتوں پر بھی یکساں لاگو ہونا چاہیے۔ احتساب کا معیار سیاسی وابستگی نہیں بلکہ قانون اور شواہد ہونے چاہییں۔چترال کے عوام کو سیاسی نعروں اور الزام تراشیوں سے بڑھ کر عملی نتائج درکار ہیں۔ انہیں ایسی سڑکیں چاہییں جو پائیدار ہوں، ایسے ترقیاتی منصوبے چاہییں جو مقررہ معیار کے مطابق مکمل ہوں، ایسی بحالی اسکیمیں چاہییں جن کے ثمرات حقیقی متاثرین تک پہنچیں، اور ایسی بھرتیاں چاہییں جن میں سفارش کے بجائے میرٹ کو اہمیت دی جائے۔لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں مکمل ہونے والے اہم ترقیاتی منصوبوں، قدرتی آفات کے بعد بحالی کے لیے مختص فنڈز، بیوٹیفیکیشن اسکیموں، سرکاری بھرتیوں اور معدنیات کے لائسنسوں کا شفاف اور غیر جانب دارانہ آڈٹ کرایا جائے۔ جہاں بدعنوانی ثابت ہو، وہاں ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، اور جہاں الزامات بے بنیاد ثابت ہوں، وہاں متعلقہ افراد کو بھی بے گناہی کا حق دیا جائے۔حقیقی احتساب وہی ہے جو بلاامتیاز ہو، جس میں کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے اور کسی کو سیاسی وابستگی کی بنیاد پر تحفظ نہ دیا جائے۔ چترال سمیت پورے خیبر پختونخوا کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جان سکیں کہ ان کے نام پر آنے والا پیسہ کہاں خرچ ہوا، کس نے خرچ کیا اور اس کے نتیجے میں انہیں کیا فائدہ پہنچا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button