موبائل سگنلز اور انٹرنیٹ کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ اپر چترال کے سنجیدہ اقدامات، اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر کی زیرِ صدارت اجلاس، مثبت پیش رفت کی امید۔

اپر چترال میں موبائل/ ٹیلی نار کے سگنلز اور انٹرنیٹ کی ناقص سہولت کا مسئلہ اس وقت عوام کے اہم ترین مسائل میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ زندگی کی بیشتر بنیادی ضروریات انٹرنیٹ کی سہولت سے وابستہ ہو چکی ہیں۔ گویا موبائل سگنلز اور انٹرنیٹ موجودہ دور میں انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات میں شامل ہو گئے ہیں۔ جب یہ سہولت معطل ہوتی ہے تو زندگی کے معمولات بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔طلبہ و طالبات کی تعلیم، بینکوں کے لین دین، آن لائن کلاسز، انٹرویوز اور بائیومیٹرک تصدیق سمیت متعدد ضروری امور انٹرنیٹ کے محتاج ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ سرکاری امور بھی انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث شدید متاثر ہوتے ہیں۔ سیٹلمنٹ کا عملہ فیلڈ میں موجود ہونے کے باوجود نیٹ ورک اور انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے بروقت ضروری رپورٹس اعلیٰ حکام تک پہنچانے سے قاصر رہتا ہے۔اپر چترال میں انٹر نیٹ کا دارومدار زیادہ تر موبائل نیٹ پر ہوتا ہے کیونکہ وائی فائی کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے۔اس اہم مسئلے کی حساسیت کا ادراک کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اپر چترال، ارشد خان کی ہدایت پر آج اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر بونی سلطان نور الدہن احمر کے دفتر میں موبائل نیٹ ورک / خصوصاً ٹیلی نار کے تمام ٹاورز پر تعینات سیکیورٹی گارڈز کو طلب کیا گیا، جہاں ان سے ہر ٹاور کے حوالے سے تفصیلی معلومات حاصل کی گئیں۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ پروفارما مرتب کیا گیا، جس میں ہر ٹاور سے متعلق معلومات، درپیش مسائل اور ضروری سہولیات کی کمی بیشی کی تفصیلات درج کی گئیں، تاکہ دستیاب معلومات کی روشنی میں مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر اپر سلطان نور الدہن احمر نے کہا کہ سیکیورٹی گارڈز کو دفتر بلانے کا مقصد ان کی مشکلات سے آگاہی حاصل کرنا اور مسائل کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام سیکیورٹی گارڈز اپنے اپنے ٹاورز سے متعلق جملہ مسائل تحریری صورت میں فراہم کریں، تاکہ ان کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ موبائل نیٹ ورک کی بہتری کے لیے بھی سنجیدہ کوششیں کی جا سکیں۔سیکیورٹی گارڈز کی نمائندگی کرتے ہوئے ریٹائرڈ اعزازی کیپٹن شیر اعظم نے مشترکہ مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کمپنی ایک سیکیورٹی گارڈ کو ماہانہ صرف 7,000 روپے تنخواہ ادا کرتی ہے، جبکہ کام کی نوعیت انتہائی دشوار اور ذمہ داری کا متقاضی ہے۔ انہیں چوبیس گھنٹے ٹاورز پر موجود رہنا پڑتا ہے اور نیٹ ورک کے نظام کو بحال رکھنے کے لیے دشوار گزار اور خطرناک پہاڑی راستوں پر بھی سفر کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں 7,000 روپے ماہانہ تنخواہ پر گزارہ کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔اس کے باوجود وہ فرائض بخوبی انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹاورز پر تعینات افراد کسی دوسرے مقام پر محنت مزدوری کے لیے بھی نہیں جا سکتے۔ یہی ان کا واحد ذریعۂ معاش ہے۔ لہٰذا کمپنی کو ان کی تنخواہوں اور کام کی دشوار نوعیت پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید بتایا کہ بیشتر سیکیورٹی گارڈز کو ٹاورز پر بیٹری بیک اَپ کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ جنریٹرز کے لیے بروقت ایندھن کی فراہمی نہ ہونے اور تیل کی مقدار میں کمی بیشی کی شکایات بھی موجود ہیں، جس کے باعث نیٹ ورک کی بحالی اور تسلسل متاثر ہوتا ہے۔اپر چترال میں موبائل سگنلز اور انٹرنیٹ کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے معلومات جمع کرنے اور عملی اقدامات کا آغاز ایک اہم پیش رفت ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ ضلعی انتظامیہ دستیاب معلومات کی روشنی میں متعلقہ کمپنی کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کرتے ہوئے ان مسائل کے حل اور موبائل نیٹ ورک کی بہتری میں اپنا مثبت اور قابلِ ذکر کردار ادا کرے گی، تاکہ عوام کو اس دیرینہ مشکل سے نجات مل سکے۔





