151

داد بید اد …..قدرتی آفت کا چیلنج …..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ 

 وطن عزیز پاکستان کا ایک ضلع چترال قدرتی آفت سے متاثر ہوا ہے 16 جولائی سے 30 جولائی تک دو ہفتوں میں 14850 مربع کلومیٹر کا علاقہ متاثر ہوا 35 دیہات کی ڈھائی لاکھ آبادی متاثر ہوئی 600 کلومیٹر کچی سڑکیں سیلاب کی زد میں آگئیں 42 چھوٹے بڑے پُل سیلاب میں بہہ گئے 4 میگا واٹ کا ایک بجلی گھر ملیا میٹ ہوا 50 کے وی والے 48 بجلی گھر سیلاب کی نذر ہو گئے علاقے میں بجلی نہیں ہے ، پیٹرل اور ڈیزل کا سٹاک ختم ہوگیا ہے اشیا ء خوراک کی شدید قلت ہے وبائی امراض سے بچاؤ کے لئے ادویات نا پید ہیں آبنوشی کی 10 بڑی اور 56 چھوٹی سیکمیں سیلاب کی زد میں آگئی ہیں 300 گھروں کو مکمل تباہ کیا گیا ،2800 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا 32افراد کی لاشیں نکالی گئیں 12 شہری لاپتہ ہیں 30 زخمیوں کو ہسپتال پہنچا یا گیا باقی علاج کے منتظر ہیں اسلام آباد پشاور سے جو خبریں آرہی ہیں اُن سے پتہ چلتا ہے کہ نیرو بانسری بجا رہا ہے روم کا بادشاہ نیروبانسری بجانے کا شوقین تھا روم کی شہر میں آگ لگ گئی نیرو کورپورٹ دیدی گئی نیرو نے کہا یہ بانسر ی بجانے کا وقت ہے ،رپورٹ پڑھنے کا نہیں ،چنانچہ روم جلتا رہا اور نیرو بانسری بجاتا رہا پنجاب کے مشہور حکمران مہاراجہ رنجیت میں بھی ایساہی واقعہ پیش آیا جنگل میں آگ لگ گئی مہاراجہ کو طلاع دیدگی گئی ایک مہینہ گذر گیا 30 دن بعد جنگل راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوا تو مہاراجہ کی طرف سے حکم صادر ہوا کہ آگ بجھائی جائے۔ آٹھ دن متاثریں کے ساتھ گذار نے کے چند حقائق سامنے آئے پہلی تلخ حقیقت یہ ہے کہ فصل ،باغات اور مویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ اور اندازہ لگانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی اس وقت 7500 فٹ سے اوپر جتنے علاقے ہیں وہاں گندم ،جو ، باجر ہ اور جوار کی فصل کھڑی تھی اُس فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے اس طرح باغات اور جنگلات کو نقصان پہنچا ہے اس کا تخمینہ کسی کے پاس نہیں ہے ضلعی انتظامیہ سے اختیارات لیکر فوج کو دیدیے گئے ہیں فوج کا عوام کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے صوبائی حکومت یا وفاقی حکومت کی مودجوگی کہیں بھی نظر نہیں آرہی کو رکمانڈر اور جنرل آفیسر کمانڈنگ لوگوں کی رسائی سے بہت دُور ہیں شندور جانے والے راستے پر بالیم کے 75 کے وی بجلی گھر کی نہر کا 30 فٹ لمبا اور 10 فٹ اونچا حصہ 24 جولائی کو سیلاب میں بہہ گیا تھا 25 جولائی کی شام سے پہلے مقامی کمیونیٹی نے دیوار مکمل کر کے بجلی گھر کو بحال کیا کوراغ میں سڑک کا 50 فٹ لمبا ٹکڑا 16 جولائی کو سیلاب کی زد میں آیا مقامی کمیونیٹی نے کام شروع کیا تو حکومت کے کارندوں نے کام بند کروادیا دوہفتوں سے ڈھائی لاکھ کی آبادی کا راستہ کٹا ہوا ہے مقامی کمیونیٹی اس سٹرک کو 8 گھنٹوں کے اندر ٹریفک کے لئے کھول سکتی تھی حکومت کے ہاتھ میں جانے کے بعد سڑک لاوارث ہوگئی ہے 15 دنوں میں یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ سڑک کو کس طرح کھولاجائے ؟ یہ سڑک ڈھائی لاکھ کی آبادی کے لئے لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے پٹرول اور ڈیزل سے لیکر اشیائے خوراک تک ہر چیز اس سڑک کے راستے آتی ہے زخمیوں اور بیماروں کو اس سڑک کے راستے ہسپتال تک پہنچا یا جاسکتا تھا میں نے 5 اذیت ناک دِن خندان کے مقام پر متاثریں کے ساتھ گذارے متاثرین کو بتایا گیا تھا کہ پاک آرمی کا ہیلی کاپٹر اُن کو محفوظ مقام اور ہسپتال تک پہنچائے گا زخمی اور بیماروں کو پہلی ترجیح حاصل ہوگی ،خواتین اور بچوں کو دوسری ترجیح حاصل ہوگی میں نے دیکھا پانج دنوں میں دوہیلی کاپٹر آئے لوگوں نے بیماروں کوپیٹھ پر اُٹھا کر ،سٹریچر پر لاکر ہیلی کاپٹر کے دروازے تک پہنچا یا آفسیروں نے ہاتھ کی زنجیر بناکر اُن کو روکا اور خفیہ کوڈورڈ سی آئی ٹی ،ایچ اوبی وغیر ہ کے ذریعے صحت مند سفارشی لوگوں کو جگہ دیدی 10 سالہ پولیو زدہ بچہ کلیم 5 دنوں تک اپنے ماں باپ کے ساتھ آفیسروں کا منہ تکتا رہا سفارش نہ اُس کے پاس تھی نہ اُس کے ماں باپ کے پاس تھی کینیڈا جانے والی بیمارخاتون بشریٰ امان اپنے ڈھائی سالہ بچے کے ساتھ 5 دنوں تک التجا کرتی رہی چھٹے دن آغا خان فاؤنڈیشن کے ہیلی کاپٹر نے دوسرے بیماروں اور زخمیوں کے ساتھ اس کو بھی جگہ دے دی۔ 8 دنوں کے اذیت ناک تجربے کاا یک سبق یہ ہے کہ سول انتظامیہ کو مفلو ج کردیا گیا ہے ایک خیمہ کے لئے ،ایک کمبل کے لئے ، پیراسٹامول کی گولی اور زخمی کو مرہم پٹی کے لئے این ڈی ایم اے سے رجوع کر نا پڑتا ہے پاک آرمی سے رجوع کرنا پڑتا ہے دونوں موقع پر موجود نہیں ہیں دونوں کسی کو جواب دہ نہیں ہیں متاثریں کی 99 اعشاریہ 9 فیصد کا کہنا ہے کہ سیاسی قیادت نے قدرتی آفت کے اس موقع پر عوام کو مایوس کیا وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے دورے کاکوئی فائد ہ نہیں ہوا مقامی نمائیندوں کوعوام خدمت میں ناکامی ہوئی الخدمت فاؤ نڈیشن ،آغا خان فاؤنڈیشن اور فوکس (Focus) کے برابر کام حکومت کے کسی ادارے نے نہیں کیا ریشن کے ساتھ فوجی اہلکار محی الدین کی مثال سے اندازہ ہوگا کہ حکومت کہاں ہے ؟جولائی 2013  میں سیلاب آیا محی الدیں کا گھر جزوی طور پر نقصان ہوا دوسالوں میں حکومت نے حفاظتی بندھ تعمیر نہیں کیا 26 جولائی 2015  کی رات کوسیلاب آیا تو دیگر گھروں کے ساتھ اُس کا گھر مکمل ملیا میٹ ہوا بچاؤ کی کو شش میں اُس کی پھول جیسی بچی سیلاب میں بہہ گئی اور موت کی آغوش میں چلی گئی ،ریش میں 118 گھرانے کھلے آسمان تلے رہ گئے سول انتظامیہ نے فوجی حکام سے خیمے مانگے فوجی حکام نے اے ڈی ایم اے سے رجوع کر نے کا مشورہ دیا این ڈی ایم اے کی طرف سے صرف 10 خیموں کی منظوری مل گئی اگر اس وقت جنر ل مشرف ،اکرم خان درانی ،آفتاب شیر پاؤ یا امیر حیدر خان ہوتی کی حکومت ہوتی تو قدرتی آفت کے متاثرین کو بے سہارا کبھی نہ چھوڑاجاتا ابتدائی 15 دن ضائع ہوگئے ہیں آنے والے دنوں کو ضیاع سے بچانے کے لئے تمام وسائل سول انتظامیہ کی تحویل میں دیدیے جائیں دپٹی کمشنر کو ریلیف کمشنر کے اختیارات دیدیے جائیں پویس حکام کو وسائل فراہم کئے جائیں زرعی قرضوں کے ساتھ دیگر تمام قرضوں کو معاف کیا جائے اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کاکام پاک فوج کی جگہ ضلعی حکومت کو دیدیے جائے ایسے معاملات میں الجھا نے سے پاک فوج کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور دہشت گر دی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیوں کے باوجود پاک فوج اور عوام کے درمیاں فاصلے بڑھ جانے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے اب تک قدرتی آفت کے چیلنج سے نمٹنے میں حکومت ناکام نظر آرہی ہے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے پاک فوج کانام استعمال کرر ہی ہے پشتو میں ضرب المثل ہے
Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں