64

وزیراعلیٰ نے کہاکہ گلگت چترال دیر تا چکدرہ روٹ سی پیک کا حصہ بننے جارہا ہے جو سدا بہار متبادل روٹ ہے

پشاور /وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے بیجنگ روڈ شو 16 اور17 اپریل کو منعقد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ہدایت کی کہ منصوبوں کی گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ اور بزنس ٹو بزنس مارکیٹنگ کیلئے تیار ی کی جائے۔ انہوں نے منصوبوں کیلئے سٹینڈرڈ ایم او یو کی بھی منظوری دی اور آرگنائزنگ کمیٹی کو ہدایت کی کہ آسان طریقہ کار وضع کیا جائے اور منصوبوں کیلئے ٹائم لائنز کا تعین کیا جائے جس کے اندر تکمیل یقینی بنائی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے روڈ شو کیلئے فول پروف انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ منصوبوں پر ایم آئی یو کرنے کے بعد آگے بڑھنا ہے۔ اے ڈی پی میں ان تمام منصوبوں کی فزیبلٹی کیلئے فنڈز کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ وہ وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں بیجنگ روڈ شو کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔چیف سیکرٹری عابد سعید، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اعظم خان، محکمہ خزانہ اور قانون کے انتظامی سیکرٹریوں، چیئرمین ازمک غلام دستگیر اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے روڈ شو کیلئے دس ممبران پر مشتمل آرگنائزنگ کمیٹی کوٹاسک دیتے ہوئے ہدایت کی کہ روڈ شو کے کامیاب انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے قابل عمل طریق کار اورمکمل فارمیٹ طے کریں۔رابطوں کی سطح کو بڑھائیں۔روڈ شو کیلئے سی پیک اور نان سی پیک منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ یقینی بنائیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ گلگت چترال دیر تا چکدرہ روٹ سی پیک کا حصہ بننے جارہا ہے جو سدا بہار متبادل روٹ ہے اس کے بارے میں موسمی معلومات جمع کریں۔ اس طرح ہم سکیورٹی کے حوالے سے مجموعی پلان بنا سکیں گے۔انہوں نے سیکورٹی پالیسی، گائیڈ لائن کی ہدایت کی۔سیکرٹری پی اینڈ ڈی جتنے ایم او یو ہو چکے ہیں اُن کو مسلسل فالو کریں۔سی پیک، نان سی پیک منصوبے مکمل کریں تاکہ اُنہیں سی ڈی ڈبلیو پی سے کلیئر کریں انہوں نے پراجیکٹ وائبلٹی گیپ فنانسنگ کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ڈی آئی خان انڈسٹریل زون کے تناظر میں مارکیٹ کرنا ہے۔ازمک اس منصوبے کو پلان کرے۔انہوں نے روڈ شو کیلئے ریوالونگ فنڈز کی بھی حتمی منظوری دی۔وزیراعلیٰ نے بس ٹرمینل کو ایک ہی پراجیکٹ کے طور پر تیار کرنے کی تائید کی تا کہ اسے روڈشو میں دکھایا جا سکے۔ انہوں نے پرانے بس ٹرمینل پر مکمل کمرشل سرگرمیاں پلان کرنے جبکہ نیا اڈہ پر ہوٹل اور دیگر سہولیات پلان کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے چمکنی بس ٹرمینل کا تفصیلی پلان 900 کنال وسیع اراضی پروضع کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ پہلے مرحلے کیلئے درکار اراضی حاصل کریں۔وزیراعلیٰ نے کوہاٹ بائی پاس، ورسک روڈ، ایبٹ آباد بائی پاس وغیرہ کو بھی پلان کریں اور لے آؤٹ تیار کریں۔ان منصوبوں کو روڈ شو میں مارکیٹ کریں گے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ رشکئی صنعتی بستی کیلئے ایک ہزار ایکڑ اراضی دستیاب ہے جبکہ چینی کمپنی چار ہزار ایکڑ اراضی مانگ رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اگلے مرحلے کیلئے دوہزار ایکٹر اراضی کا انتظام کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ دس بڑے سرمایہ کار اپنے خرچ پر روڈ شو میں جائیں گے۔صوبائی حکومت ان سرمایہ کاروں کے تناظر میں بزنس ٹو بزنس مارکیٹ کرنے کیلئے منصوبے بنا رہی ہے۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ کو گریٹر پشاور سرکلر ریلوے پراجیکٹ کے پلان پر پریزینٹیشن دی گئی جس میں امتیاز شاہد قریشی، غلام دستگیر اور محسن سید نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے این او سی کیلئے لیٹر تیار کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ سرکلر ریلوے پراجیکٹ کیلئے ایک آزاد ٹریک ہو گا۔وفاقی حکومت اگر کنٹرول اور تمام متعلقہ معاملات ہمارے حوالے کرے گی تو ٹھیک بصورت دیگر ہم اپنی زمین پر علیحدہ ٹریک بچھائیں گے۔ہم اس منصوبے کو دیر پا اور نفع بخش دیکھنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اس منصوبے کے تحت پارکنگ اور کمرشل پلازے بھی پلان کا حصہ بنائیں تاکہ آمدنی بھی آسکے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس منصوبے سے صوبے کے بڑے حصے کو سفری سہولیات ملیں گی۔ ٹریفک کے مسائل حل ہوں گے اور پوری وادی پشاور کی مجموعی خوبصورتی میں اضافہ ہو گااور پورے ملاکنڈ ڈویژن سمیت صوبے کے شمالی علاقوں کو سیاحت کیلئے کھولنے میں مدد ملے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں