228

عاصمہ جہانگیر کے نام۔۔۔۔۔ہما حیات سید

کبھی نعرے لگاتے ہیں کہیں توہین کرتے ہیں
عدل و انصاف کی خاطر نہ جانے کتنے مرتے ہیں
حوّا کی بیٹیاں تو سر اُٹھاکر جی نہیں سکتیں
اُنھیں انصاف دینا ہے بہت ہی کم یہ کہتے ہیں
انہی اشخاص میں سے نام تھا اک عاصمہ کا بھی
جنہیں ہم بیٹیوں کی ماں ، عدل کا نام دیتے ہیں
میری آواز بن جاتی ، کبھی پہچان بن جاتی
ظلم بھی سہم جاتا ہے جب ایسے لوگ اُٹھتے ہیں
اب صدیاں گذر جائیں گی پھر سے عاصمہ بنتے
جو خود کو بھول کر مظلوم کا زخم بھرتے ہیں
ہما ؔ گھبر ا نہیں جانا کبھی تنہا بھی چلتے ہیں
تیرے ہی خون سے اکثر مشعلِ راہ جلتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں