صدر مملکت عارف علوی نے 13ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھالی

صدر مملکت عارف علوی نے 13ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھالیاچیف جسٹس ثاقب نثار نے حلف لیا،ممنون حسین ایوان صدر سے رخصت ہوگئےحلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم،تینوں مسلح افواج کے سربراہان،چاروں صوبوں کے گورنرز،وزرائے اعلی،وزراء ،سینیٹرز اور ارکان قومی اسمبلی سمیت مختلف ممالک کے سفیروں کی شرکت اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں)ڈاکٹر عارف علوی نے ملک کے 13ویں صدر کی حیثیت سے چیف جسٹس ثاقب نثار سے عہدے کا حلف لینے کے بعد صدر پاکستان کا منصب سنبھال لیا ۔تفصیلات کے مطابق اتوار کے روزایوان صدر میں ملک کے 13 ویں صدر پاکستان کی تقریب حلف برداری منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم عمران خان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل زبیر محمود حیات،تینوں مسلح افواج کے سربراہان، ،چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی ، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزراء شاہ محمود قریشی، اسد عمر، شفقت محمود،شریں مزاری ،شیخ رشید،فواد چوہدری ، خسرو بختیار،شہریار آفریدی سمیت گورنر سندھ عمران اسماعیل اور گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان اور گورنر پنجاب چوہدری سرور اوروزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے شرکت کی ۔ نومنتخب صدر کی تقریب حلف برداری کے آغاز میں قومی ترانے کی دھن بجائی گئی، جس پر تمام شرکاء بصد احترام کھڑے ہوئے، جس کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے نو منتخب صدرڈاکٹر عارف علوی سے عہدے کا حلف لیا، حلف برداری کے بعد عارف علوی نے حلف نامے پر دستخط کئے اور اگلے 5سال کے لئے آئینی طور پر ملک کے 13ویں صدر منتخب ہو گئے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار اور وزیر اعظم عمران خان سے صدر عارف علاوی سے مصافحہ کر کے مباکباد وصول کی یاد رہے کہ عارف علوی کا تعلق کراچی شہر سے اور پیشے کے لحاظ سے ڈینٹسٹ ہیں ڈاکٹر عارف علوی 4 ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں 353 الیکٹورل ووٹ لے کر ملک کے آئندہ صدر کی حیثیت سے منتخب ہوئے تھے۔نو منتخب صدر ڈاکٹر عارف علوی نے زمانہ طالب علمی سے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور 1996 میں پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل تھے پیشے کے اعتبار سے نو منتخب صدر ڈینٹسٹ ہیں جو پہلی بار 2013 کے انتخابات میں کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔اس سے قبل سبکدوش ہونے والے صدر مملکت ممنون حسین کو مدت صدارت ختم ہونے پر گزشتہ روز الوداعی گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، سابق صدر نے گارڈ آف آنر کے بعد ایوان صدر کے ملازمین سے فرداً فرداً مصافحہ کیا اور پھر ممنون حسین ایوان صدر سے روانہ ہوئے



