271

13اکتوبرقدرتی آفات سے بچاؤ کاعالمی دن۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

پاکستان سمیت دنیا بھر میں قدرتی آفات سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جاتا ہے ،مذکورہ دن 1978ء سے ہر سال 13 اکتوبر کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد قدرتی آفات، ناگہانی سانحات، سیلاب، گرد آلود ہواؤں کا طوفان،زلزلے، وبائی امراض پھوٹنے سمیت دیگر ایسے ہی واقعات کے بارے میں عوام کو مختلف عوامل سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں قدرتی آفات سے بچاؤ کا دن منایا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں موسمی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں ، بدلتی ہوئی اور غیر یقینی موسمی صورت حال مستقبل کے لئے کوئی نیا شگون نہیں ہے آج پوری دنیا شدید موسمی تغیرات کی وجہ سے خطرے کا شکار ہے۔قدرتی آفات کے سامنے سب بے بس ہوجاتے ہیں یہ جب آتی ہیں تو بہت تباہی پھیلتی ہے اور بھاری جانی نقصان بھی ہوتا ہے۔سال کے بارہ مہینوں میں دنیا بھر میں کسی نا کسی علاقے میں لوگ قدرتی آفات سے گذر رہے ہوتے ہیں
قدرتی آفات سے کم سے کم نقصانات کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو اپنایا جائے اس لیے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیاگیاہے۔ قدرتی آفات سے بچاو کے عالمی دن کا مقصد عوام کو احتیاطی تدابیر اور بچاو کے طریقہ کار سے آگاہ کرنا ہے اس دن کا بنیادی مقصد شہریوں کو قدرتی آفات کی صورت میں اپنی مددآپ کرنے کے قابل بنانا ہے احتیاطی تدابیر اختیار کرکے قدرتی آفات وحادثات سے بچا جا سکتا ہے۔ سرکاری اورغیرسرکاری اداروں نے آفات سے نمٹنے اور پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے لئے ہرممکن کوشش کررہے ہیں ۔
گذشتہ کئی سالوں سے قدرتی آفات نے وای چترال کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا ہے اور چترال کے وہ تاریخی اور تفریحی مقامات جو سیاحوں اور مقامی لو گوں کی توجہ کا مرکز تھے۔ آج سیلاب اور زلزلے کی وجہ سے اپنی خوبصورتی مکمل طور پر کھو چکے ہیں۔ اْن کو اپنی اصل حالت میں دوبارہ لا سکیں اور ہمیں مزید سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اگر خود ان مشکلات سے نکلنے کی کو شش نہیں کریں گے۔ تو کوئی دوسرا ہماری مدد نہیں کرے گا۔
قدرتی آفات کو روک تو نہیں سکتے لیکن حفاظتی تدابیر اپناکر نقصانات کی شرح کم سے کم کرسکتے ہیں۔ قدرتی آفات کے حوالے سے چترال ایک حساس ترین ضلع ہے جہاں ہر وقت خطرے کی گھنٹی بجتی رہتی ہے مگر اس کے باوجود لوگ دھڑا دھڑ جنگلات کی کٹا ئی کررہے ہیں اور مکانات بناتے وقت ماہرین کی رائے نہیں لیتے جس کے باعث وہ مکانات معمولی زلزلے کو بھی برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔جس کے لئے پیشگی اقدامات اور احتیاطی تدابیر اختیار کر کے قدرتی آفات اور ناگہانی حادثات کے نقصانات کوکم کیاجاسکتا ہے۔ اس کیلئے عوامی آگاہی مہم اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کارلانا وقت کی اہم ضرو رت ہے۔
چترال میں بہت سے سرکاری اورغیرسرکاری ادارے بے شمارخدمات انجام دے رہے ہیں خاص کرآغاخان ایجنسی فارہیبٹاٹ(فوکس)، الخدمت فاونڈیشن چترال میں قدرتی آفات کے موقع پرمتاثرین کی امداد و بحالی کے حوالے سے جو اقدامات کئے وہ تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھنے کے لائق ہیں یہ دونوں ادارے خدمت خلق سے سرشار ہیں جن کا کام صرف اور صرف دکھی انسانیت کی بیلوث خدمت ہے۔مصیبت زدہ افراد کی داد رسی کیلئے بغیر کسی لالچ کے رضا کارانہ خدمت کرنا بھی ہر انسان اور ادارے کی بس کی بات نہیں اور جو لوگ رضا کارانہ خدمت کے جذبے سے کام کر رہے ہیں ان کی خدمات کی قدر و قیمت کا موازنہ مال و دولت اور پیسوں کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔حکومت کو چاہئے کہ وہ عوام کو ناگہانی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے ایسے پروگراموں کا انعقاد کرائے جس سے لوگوں کوآگاہی حاصل ہو سکے تا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں قدرتی ماحول کے تحفظ کے لئے عملی اقدامات کر سکیں ۔چترال میں کام کرنے والے اداروں کو ڈیزاسٹر ز کے موقع پر سب سے مشکل مسئلہ متاثریں تک رسائی ہے جوکہ دور دراز اور دور افتادہ علاقوں سڑکوں کی بندش کی وجہ سے امدادی سامان پہنچنابہت مشکل ہوجاتی ہے۔
یاد رہے کہ 19 اکتوبر 2015 کو چترال میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں 32 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جبکہ سینکڑوں مکانات کو نقصانات پہنچا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email