تازہ ترین
چترال کے ممتاز شاعر ادیب اور ادبی تنظیم انجمن ترقی کہوار کے صدر شہزادہ تنویر الملک کی کتاب” فنون لطیفہ اور چترال "کی تقریب رونمائی


ہے ۔ جس میں قدیم موسیقی ، آلات موسیقی ، نمایاں فنکاروں کا تعارف ، قدیم کھوار شاعری اور لوگ گیتوں کو محفوظ کیا گیا ہے ، غلام سرور صحرائی نے کہا ۔ کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے ۔ جس میں گمنام فنکاروں کی چترال کی ثقافت کو زندہ رکھنے کیلئے کئے گئے خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے ۔ صالح ولی آزاد نے کتاب کو ایک ریسرچ بُک قرار دیا اور کہا ۔ کہ یہ عام کتابوں سے بہت مختلف ہے ۔ اور اس کو ترتیب دینے میں مصنف نہایت دقیق مراحل سے گزر کر تحقیق کو مکمل کیا ہے ۔ جو کہ آنے والی نسلوں کیلئے ثقافت سے متعلق معلومات کے حوالے سے تحقیقی کتاب کے طور پر کام آئے گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کتاب میں الفاظ کا چناؤ ،ضرب المثل اور تمثیلات کا ترجمہ انتہائی خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے ۔ بزرگ اور ممتاز شاعر و ادیب محمد عرفان عرفانؔ نے مصنف شہزادہ تنویر الملک کی اس سے قبل چھپنے والی دو کتابوں چشم زخم اور موڑکہو کی تاریخ سے بالکل جداگانہ اہمیت کی حامل قرار دیا ۔ اور کہا ۔ کہ مصنف نے نہایت حساس و دلچسپ نوعیت کے موضوعات کو چھیڑا ہے ۔ جو قاری کو اپنی طرف مسلسل متوجہ رکھتی ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کی موسیقی سے امیر خسرو کا طرز چھلکتا ہے ۔ اور یہ امن ، محبت ، باہمی احترام و ادب کے ساتھ ذوق جذبات کی تسکین کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کتاب کی انفرادیت یہ ہے ۔ کہ چترال اور گلگت کے ممتاز محققین اور دانشور عبدالخالق تاج ؔ ، ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ اور مرحوم مولا نگاہ نگاہ نے اس کا پیش لفظ لکھا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ مصنف نے ” گُل بہ آئین بستہ شُد گلدستہ شُد "کے مصداق پھولوں کو ایک گُلدستے کی صورت میں پیش کیا ۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے کہا ۔ کہ یہ کتاب اس وقت کی ضرورت تھی ،جس میں چترال کی ثقافت کے نازک پہلووں کو جمع کیا گیا ہے ۔ کیونکہ چترال کی قدیم موسیقی بتدریج ختم ہورہی ہے ۔ اور نوجوان طبقہ مختلف غیر مقامی سٹوڈیوز میں خود اپنی موسیقی کے تال و اہنگ کا جنازہ نکال رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جام شورو یونیورسٹی سندھ میں سندھی ادب و ثقافت کو جس
طرح محفوظ کیا گیا ہے۔ چترال میں بھی ایسا کرنے کی ضرورت ہے ۔ مہمان خصوصی صالح نظام صالح نے اپنے خطاب میں کہا ۔ کہ یورپ نے اپنی موسیقی میں کئی جدید آلات کو شامل کیا ہے ۔ اس لئے آلات کا استعمال کوئی معیوب چیز نہیں ہے ۔ تاہم اپنے قدیم ثقافت کو جدید کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اور دوسری زبانوں کی موسیقی کا چربہ تیار کرنے کی بجائے اپنی زبان کے دُھن تیار کئے جانے چاہیں ۔ صدر محفل امیر خان میر ؔ نے کہا ۔ کہ تصنیف و تحقیق انتہائی مشقت طلب کام ہے ۔ اس کے باوجود شہزادہ تنویرالملک نے چترال کیلئے اہم کام سر انجام دیا ہے ۔ جو کہ قابل تعریف ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ فنکار کسی بھی زبان کا سرمایہ ہوتے ہیں ۔ ان کی حوصلہ افزائی در اصل اپنی زبان و ثقافت کا تحفظ ہی ہے ۔ تاہم ان کی خدمات کا اعتراف اور خدمات کو محفوظ کرنا بہت ضروری ہے ۔ تقریب کے اختتام پر صاحب کتاب شہزادہ تنویر الملک نے مقالہ نگاروں ، شرکاء تقریب اور صدر بزم کھوار شہزادہ فہام عزیز کی طرف سے حوصلہ افزائی پر اُن کا شکریہ ادا ۔