تازہ ترین
چترال کے نمائندے پاکستان کی آئین اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی رولز کے تحت بھاری اکثریت سے منتخب ہو کر آئے ہیں/ایم ایم اے کاپریس کانفرنس


بھی محروم رکھا گیا اور اقلیتی رکن اسمبلی کو چیرمین بنایا گیا ہے جوکہ قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف پی ٹی آئی قیادت جمہوریت کا نعرہ الاپتے ہوئے نہیں تھکتی تو دوسری طرف جنرل سیٹ پر منتخب ہزاروں لوگوں کے نمائندے سے بدترین امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے جوکہ دراصل چترالی عوام کی توہین ہے جسے مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کی طرف سے جاری کردہ ڈایڈاک چیرمین شپ کی نوٹیفکیشن کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ پی ٹی آئی کا ایک شرمناک فعل ہے ۔ اس سے قبل ایم ایم اے کے رہنماؤں کا ایک اجلاس مقامی ٹاؤن میں بھی منعقد ہوا جس میں جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے کارکنان نے کثیر تعدا د میں شرکت کرکے صوبائی حکومت کی مذمت کی اور نوٹیفیکیشن واپس لینے اور مولانا ہدایت الرحمن کو چیرمین بنانے کے حق میں متفقہ قرارداد پاس کیا۔ انہوں نے کہاکہ مطالبہ منظور نہ ہونے کی صورت میں لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔