تازہ ترین
جامعہ چترال میں بے قاعدگیوں کے خلاف اساتذہ کا پرامن احتجاج جاری ہے ،آٸینی اور پر امن احتجاج، ہفتہ پہلے درخواست اور نوٹس دینے کے بعد، شروع کی


پراجیکٹ ڈاٸریکٹر اپنے پراجیکٹ کے ٹی او آر کے مطابق کام کرنے کے بجاٸے یونیورسٹی میں پہلے سے موجود فیکلٹی اور اکیڈمک سرگرمیوں میں بھی بے جا مداخلت کر رہے ہیں اور ملازمین کو بے جا تنگ کر رہے ہیں۔ جامعہ چترال کے ٹیچرز ایسوسی ایشن صوبے کے وزیر اعلیٰ، گورنر خیبرپختونخوا اور سکریٹری ہاٸر ایجوکیشن سے درخواست ہے کہ یونیورسٹی آف چترال میں اٹھاٸے جانے والے غیر پیشہ وارانہ اور غیر قانونی اور غیرمناسب اقدامات کا نوٹس لیں اور معاملہ مزید بگڑنے سے پہلے معاملے میں مداخلت کریں اور جملہ بے قاعدگیوں کا کوٸی قانونی اور منطقی حل ڈھونڈ نکالیں۔ یاد رہے کہ مساٸل کے حل میں پراجیکٹ ڈاٸریکٹر کی طرف سے دلچسپی نہ لینے اور غیرپیشہ وارانہ اقدامات کی وجہ سے یونیورسٹی کی تدریسی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہے اور قوم کے بچوں اور بچیوں کا وقت ضاٸع ہو رہا ہے، کیونکہ ان بے قاعدگیوں کے حوالے سے سارے اندرونی قانونی اور اخلاقی تقاضے پورا کرنے کے بعد فیکلٹی نے پر امن احتجاج اور کلاس باٸیکاٹ کا اعلان کیا ہے، جو پندرہ اپریل سے جاری ہے۔