تازہ ترین
ڈپٹی کمشنر چترال خورشید عالم محسود نے وزارت مذ ہبی امور کے زیر انتظام کا لاش بہار فیسٹول چلم جوشٹ کا افتتاح کر دیا


مذاہب کے پیروکار ہونے کے باوجود انسانیت کا احترام کرتے ہوئے ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے . مسلمانوں اور اقلیتوں کو ہمیشہ الرٹ رہنے کی ضرورت ہے . کیونکہ بعض سماج دشمن عناصر فسادات پھیلاکر ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں . ہمارا تجربہ ہے . کہ جہاں بھی فسادات ہوئے . ان کے پیچھے فرقہ واریت کی چنگاری دیکھی گئی . اس لئے امن کو متاثرکرنے والے عناصر سےہو شیار رہنا بہت ضروری ہے . انہوں نے کہا . کہ وزارت مذہبی امور اقلیتوں کیلئے اسکالرشپ , نادار افراد کیلئے وظائف اور مذہبی مقامات کی تعمیر و مرمت کیلئے فنڈ خرچ کر رہی ہے . مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر چترال خورشید عالم محسود نے خطاب میں کہا . کہ کالاش اقلیت نہیں اس ملک کے شہری اور وادیوں کے ماتھے کا جھومر ہیں . جو اپنی امن پسندی اور قدیم تہذیب و ثقافت کی وجہ سے پوری دنیا میں منفرد مقام رکھتے ہیں . انہوں نے کہا . کہ ان کے رسومات میں کسی مداخلت
برداشت نہیں کی جائے گی . اور نہ انتظامیہ ان کے رسم و رواج میں مداخلت پر خاموش رہے گی . اس لئے جو بھی ان کے رسوم و رواج کا مذاق اڑانے کا مرتکب ہو گا . اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑے گا . ڈپٹی کمشنر نے لوگوں کو خوشخبری دی . کہ بہت جلد کالاش ویلیز روڈز پر کام شروع کیا جائے گا . انہوں نے کالاش ویلی کے جنگلات اور چراگاہوں کو سرکاری تحویل میں لینے کے حوالے سے باتوں کوافواہ قرار دیا . اور کہا . کہ یہ وادی آپ کیلئے ماں کا درجہ رکھتی ہے . اس لئے آپ کی ماں کو آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا . اور یہ باتیں بعض نا عاقبت اندیش لوگوں کی پھیلائی ہوئی افواہیں ہیں . ڈپٹی کمشنرنے وزارت مذہبی امور کی طرف سے چلم جوشٹ کا افتتاح کرنے کے سلسلے میں اقدامات پر ان کا شکریہ ادا کیا . قبل ازین انچارج چترال میوزیم سید گل کالا ش نے اپنے خطاب میں کالاش قبیلے کی طرف سے ڈپٹی سیکرٹری مذہبی امور اور ڈپٹی کمشنر چترال کا شکریہ ادا کیا . اور کہا . کہ یہ ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے کہ ہمارے فیسٹول کا افتتاح ذمہ دار اداروں کے آفیسرز کے زیر اہتمام ہو گیا ہے . اس سے ہمیں بہت حوصلہ ملا . ممبر ڈسٹرکٹ کونسل عمران کبیر نے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی طرف سے پاک افغان باڈر پر باڑ لگانے کو ایک مثبت قدم قرار دیا . اور کہا . کہ اس سے در اندازی کو روکنے میں مدد ملے گی . اور کالاش وادیاں محفوظ ہوں گی . انہوں نے چترال کے مختلف مقامات میں صدیوں پرانے کالاش آرٹ کی باقیات کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا . اور کالاش قبیلے کے بارے میں سوشل میڈیا میں اپنی طرف سے بے سرو پا باتیں لکھنے کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا . تقریب کےدوران کالاش رقص کا بھر پور مظاہرہ کیا گیا . تاہم بعض کالاش مذہبی رہنماؤں نے یہ مشورہ دیا . کہ آیندہ تہوار سے پہلے چلم جوشٹ کا انعقاد نہ کیا جائے . اس سے منفی اثرات وادی پرمرتب ہو رہے ہیں . اور وادیوں میں آنے والے آفات اسی طرح مذہب کو مذاق بنانے سے آرہے ہیں.