تازہ ترین

خیبر پختونخوا حکومت نے خواتین کو باختیار بنانے کے پالیسی پر عمل درآمد کیلئے محکموں کو 5سال کی ڈیڈ لائن

خیبر پختونخوا حکومت نے خواتین کو باختیار بنانے کیلئے وضح کی گئی پالیسی پر عمل درآمد کیلئے محکموں کو 5سال کی ڈیڈ لائن دیدی تمام متعلقہ محکموں کو خواتین سے متعلق فیصلے کرنے ، خواتین افسران اور سٹاف کی تعداد بڑھانے اور انہیں فیصلہ سازی میں شامل کرنے کے احکامات جاری کر دئے گئے ہیں جبکہ تمام سیاسی جماعتوں میں بھی خواتین ونگز فعال کرنے سمیت پارلیمان میں خواتین کا کوٹہ 22فیصد سے بڑھا کر 33فیصد کرنے کیلئے سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے ۔ خیبر پختونخوا میں خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی 2017میں پیش کی گئی تھی تاہم اس پر عمل درآمد کیلئے وقت کا تعین موجودہ حکومت کی جانب سے کر دیا گیا ہے پالیسی پر عمل درآمد کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلے حصے میں اداراجاتی استعداد کار میں اضافے کے اہداف مقرر کئے گئے ہیں ۔وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں سٹیئرنگ کمیٹی قائم کی جائیگی جس میں چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سیکرٹری سماجی بہبود، وومن پارلیمنٹیرین کاکس اور وقار نسواں کمیشن کی نمائندگی شامل ہوگی جو پالیسی پر عمل درآمد کیلئے متعین کئے گئے اہداف کا جائزہ لے گی اسی طرح محکمہ سماجی بہبود میں 6ماہ کے اندر پالیسی پر عمل درآمد کیلئے خصوصی ونگ قائم کیا جائیگا جبکہ 6ماہ کے اندر اندر تمام متعلقہ محکموں کیلئے آگاہی ورکشاپس کا انعقاد کیا جائیگا ۔دوسرے حصے میں سماجی استحکام کے اہداف اور ان کیلئے وقت مقرر کیا گیا ہے محکمہ صحت اور تعلیم کی اصلاحات کا جائزہ لیا جائیگا اور یہ دیکھا جائیگا کہ انکی پالیسی کس حد تک خواتین کو باختیار بنانے کی پالیسی کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے اگر کہیں پر دونوں پالیسیوں میں تضاد سامنے آ گیا تو اسے دو ر کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے جبکہ ترجیحات کا بھی تعین کیا جائیگا ۔تیسرے حصے میں معاشی طور پر خواتین کو خود مختیار بنانے کیلئے نوکریوں میں کوٹہ مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا تعین تمام انتظامی محکموں کی رضامندی سے کیا جائیگا اسی طرح سرکاری اور نجی دفاتر میں خواتین کو برابری کی بنیاد پر تنخواہوں کی ادائیگی، ڈے کیئر سنٹرز، زچگی کیلئے چھٹیاں، موزون دفتری اوقات کار اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات کی فراہمی کیلئے دو سے تین برس کا وقت دیا گیا ہے ۔ چوتھے حصے میں صنفی تشدد سے متعلق قانون کو سہل بنانے اور اسے عوام کی سمجھ کے مطابق کیا جائیگا اسی طرح موجودہ قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے عصر حاضر کے مطابق کرنے کیلئے تمام متعلقہ محکموں کو ایک سال کا وقت دیا گیا ہے جبکہ دو سے 5سالوں کے دوران اضلاع میں فیملی کورٹس کی تعداد بھی بڑھائی جائیگی جبکہ ایسے تمام قوانین جو خواتین سے امتیاز رکھتے ہیں ان کی نشاندہی دو برس کے اندر کی جائیگی اسی طرح پولیس میں خواتین افسران اور عملے کی تعداد بڑھائی جائیگی ۔ پانچویں حصے میں تمام سیاسی جماعتوں کے ومن ونگ کو مضبوط کرنے ، پارٹی کی فیصلہ ساز کمیٹیوں میں خواتین کی نمائندگی یقینی بنانے ، عام انتخابات میں حصہ لینے کیلئے خواتین کی حوصلہ افزائی کرنے اور انکی استعداد کار بڑھانے اور پارٹی کے فیصلوں میں خواتین کی فلاح کو مدنظر رکھنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے اسی طرح پارلیمان میں خواتین کا کوٹہ 22فیصد سے بڑھا کر 33فیصد کرنے ، پارلیمانی کمیٹی کے چیئرپرسن کیلئے خواتین کی تعداد بڑھانے ، 50فیصد ترقیاتی فنڈ خواتین ارکان صوبائی اسمبلی کیلئے مختص کرنے سمیت انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے خواتین کیلئے وضح کئے گئے قوائد و ضوابط یقینی بنانے کیلئے دو سال کا وقت دیا گیا ہے ۔

Related Articles

Back to top button